اقبال فہمی - (قسط چہاردہم) - عہد طفلی حیرت کی آنکھ اور جستجو کا آغاز ہے - ازقلم : ابرارالحق مظہرؔ حسناتی۔


اقبال فہمی - 
(قسط چہاردہم) - 
عہد طفلی حیرت کی آنکھ اور جستجو کا آغاز ہے - 
ازقلم : ابرارالحق مظہرؔ حسناتی۔

گزشتہ قسط میں عہد طفلی کی جس دنیا کا نقشہ سامنے آیا تھا وہاں زمین و آسمان بچے کے لیے ایک نیا دیار تھے اور ماں کی آغوش اس کے لیے ایک مکمل جہاں تھی اب اقبال اسی دنیا کے اندر موجود اس حیرت کو سامنے لاتے ہیں جو بچپن کی روح کو سب سے زیادہ ممتاز کرتی ہے بچہ دنیا کو صرف دیکھتا نہیں بلکہ اسے پہلی مرتبہ دیکھنے والے انسان کی طرح دیکھتا ہے اس کے لیے چاند محض آسمان پر روشن ایک جسم نہیں بلکہ ایک راز ہے بادل محض بادل نہیں بلکہ ایک پردہ ہیں اور اس پردے میں سے گزرتا ہوا چاند ایک ایسی داستان ہے جسے آنکھ دیر تک پڑھتی رہتی ہے مگر جس کا مفہوم ابھی پوری طرح اس پر منکشف نہیں ہوا یہی وہ مقام ہے جہاں اقبال عہد طفلی کو انسانی جستجو کے اولین سرچشمے کے طور پر دیکھتے ہیں کیونکہ سوال وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں حیرت ابھی زندہ ہو اور حیرت وہاں پیدا ہوتی ہے جہاں نگاہ چیزوں کو معمولی سمجھ کر گزر جانے کے بجائے ان کے اندر چھپی ہوئی دنیا کو محسوس کرتی ہے

تکتے رہنا ہائے وہ پہروں تلک سوئے قمر
وہ پھٹے بادل میں بے آواز پا اس کا سفر

اقبال کے بچپن کی یہ تصویر کتنی سادہ ہے اور اسی سادگی میں کتنی گہری ہے ایک بچہ گھنٹوں چاند کو دیکھتا رہتا ہے نہ اسے کسی نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے نہ اسے کسی فائدے کی توقع ہے نہ اس مشاہدے کے پیچھے کوئی دنیاوی غرض ہے وہ صرف دیکھ رہا ہے اور دیکھتے دیکھتے اپنے آپ کو اس منظر کے حوالے کرچکا ہے یہی بے غرض دید دراصل بچپن کی روحانی دولت ہے کیونکہ اس عمر میں انسان کسی چیز کو صرف اس لیے دیکھتا ہے کہ وہ خوبصورت ہے حیرت انگیز ہے یا اس کے اندر کوئی ایسا راز محسوس ہوتا ہے جو ابھی اس کی گرفت میں نہیں آیا
چاند کا یہ منظر اقبال کے ہاں محض حسن فطرت کی تصویر نہیں بنتا بلکہ انسانی شعور کے بیدار ہونے کی پہلی منزل بن جاتا ہے چاند سامنے ہے مگر بچہ اس کے ظاہری وجود پر اکتفا نہیں کرتا اس کی نگاہ اس کے سفر کا تعاقب کرتی ہے بادل پھٹے ہوئے ہیں اور ان کے درمیان سے چاند خاموشی کے ساتھ گزر رہا ہے نہ کوئی آواز ہے نہ کوئی اعلان مگر منظر اپنی پوری قوت کے ساتھ بچے کے دل پر اثر انداز ہورہا ہے گویا کائنات اپنے راز شور سے نہیں بلکہ خاموشی سے بیان کر رہی ہے اور بچہ اس خاموش زبان کو سننے کی کوشش کر رہا ہے
یہاں اقبال کی شاعری کا ایک بنیادی وصف سامنے آتا ہے کہ وہ فطرت کو کبھی بے جان منظر نہیں سمجھتے ان کے ہاں آسمان زمین پہاڑ دریا چاند ستارے سب انسان کو اپنے اندر غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں قرآن بھی بار بار انسان کو آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں غور کرنے کی طرف متوجہ کرتا ہے اقبال کے ہاں یہی قرآنی مزاج شعری تجربے میں ڈھل جاتا ہے بچہ ابھی قرآن کی اصطلاحات میں غور نہیں کررہا مگر اس کی حیرت اس فطری غور کی پہلی صورت ہے وہ چاند کو دیکھتا ہے اور دیکھتے دیکھتے سوال کی طرف بڑھتا ہے

پوچھنا رہ رہ کے اس کے کوہ و صحرا کی خبر
اور وہ حیرت دروغِ مصلحت آمیز پر

چاند کو دیر تک دیکھنے کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کے کوہ و صحرا کیسے ہیں یہ سوال بظاہر ایک بچے کا سوال ہے مگر غور کیجیے تو انسانی علم کی پوری تاریخ اسی طرح کے سوالوں سے عبارت ہے انسان نے جب آسمان کو دیکھا تو پوچھا کہ یہ کیا ہے ستارے کیا ہیں چاند کہاں سے آیا سورج کس طرح طلوع و غروب ہوتا ہے زمین کی حقیقت کیا ہے پھر انہی سوالات نے اسے مشاہدے تحقیق اور دریافت کی طرف لے جایا اقبال اپنے بچپن کے ایک معمولی سے سوال میں انسانی فطرت کے اسی عظیم وصف کو دیکھ رہے ہیں
پوچھنا رہ رہ کے میں خاص طور پر اقبال نے اس جستجو کی کیفیت کو پکڑا ہے سوال ایک دفعہ پیدا ہوا اور ختم نہیں ہوگیا بلکہ بار بار دل میں اٹھتا رہا یہی بار بار لوٹنے والا سوال انسان کو اندر سے بے چین رکھتا ہے اور یہی بے چینی اگر سچی ہو تو علم کا دروازہ کھول دیتی ہے جس شخص کو کسی حقیقت کے بارے میں واقعی جاننے کی طلب ہو وہ پہلے جواب سے مطمئن نہیں ہوتا وہ دوبارہ پوچھتا ہے پھر سوچتا ہے پھر دیکھتا ہے پھر اپنے پہلے خیال کو پرکھتا ہے یہاں تک کہ حقیقت اس کے سامنے اپنی کسی نئی صورت میں ظاہر ہونے لگتی ہے
لیکن اقبال اسی جگہ ایک نہایت معنی خیز بات کہتے ہیں کہ ان سوالوں کے جواب میں جو دروغ مصلحت آمیز ملتا تھا اس پر انہیں حیرت ہوتی تھی یعنی بڑوں کی طرف سے ایسا جواب جو حقیقت سے زیادہ مصلحت کا پابند ہو بچہ سوال کرتا ہے تو اس کے سامنے کوئی ایسی بات رکھ دی جاتی ہے جو اسے وقتی طور پر خاموش کردے مگر اس کے سوال کی اصل پیاس کو بجھاتی نہیں
یہاں اقبال دراصل اس ذہنی دنیا کا فرق دکھاتے ہیں جس میں سوال زندہ رہتا ہے اور اس دنیا کا جس میں سوال کو سہل جواب دے کر دفن کردیا جاتا ہے بچپن کی فطرت سوال کرنے والی ہے وہ ہر چیز کی اصل جاننا چاہتی ہے مگر معاشرتی زندگی میں انسان آہستہ آہستہ ایسے جوابات قبول کرنا سیکھ لیتا ہے جو اسے سوچنے کی زحمت سے بچاتے ہیں اقبال اس کیفیت کے مقابلے میں اس زندہ جستجو کو اہم سمجھتے ہیں جو انسان کو معلوم کے دائرے سے آگے لے جاتی ہے
یہی جستجو آگے چل کر اقبال کے فلسفہ خودی میں ایک بنیادی قوت بن جاتی ہے خودی جامد چیز نہیں کہ انسان ایک مرتبہ اپنے مقام کو پہچان لے اور پھر وہیں رک جائے بلکہ خودی کی بیداری میں مسلسل طلب مسلسل حرکت اور مسلسل کشمکش شامل ہے لیکن اس مسلسل جستجو کی پہلی چنگاری کہاں پیدا ہوتی ہے اقبال گویا ہمیں اس کا جواب اپنے بچپن میں دے رہے ہیں وہیں جہاں ایک بچہ چاند کو دیکھ کر پوچھتا ہے کہ اس کے کوہ و صحرا کیسے ہیں

آنکھ وقفِ دید تھی لب مائلِ گفتار تھا
دل نہ تھا میرا سراپا ذوقِ استفسار تھا

یہ شعر اس پوری کیفیت کو ایک ایسی جامع تصویر میں بدل دیتا ہے جہاں آنکھ دیکھ رہی ہے لب پوچھنے کے لیے بے قرار ہیں اور دل سوال کی لذت سے بھرا ہوا ہے اقبال کے یہاں آنکھ صرف جسمانی عضو نہیں بلکہ ادراک کا دروازہ ہے لب صرف گفتگو کا وسیلہ نہیں بلکہ سوال کو لفظ دینے والی قوت ہیں اور دل صرف جذبات کا مقام نہیں بلکہ وہ باطن ہے جہاں حیرت علم کی طلب میں تبدیل ہوتی ہے
آنکھ کا وقف دید ہونا اس بات کی علامت ہے کہ بچہ دنیا کو پوری توجہ کے ساتھ دیکھتا ہے اس کی نگاہ ابھی غفلت اور عادت کی گرفت میں نہیں آئی ہر منظر نیا ہے ہر آواز تازہ ہے ہر چیز اپنے اندر ایک کشش رکھتی ہے پھر لب مائل گفتار ہیں یعنی جو کچھ دیکھا گیا ہے اس کے بارے میں پوچھنے اور جاننے کی خواہش پیدا ہوگئی ہے مگر اقبال یہاں بھی صرف آنکھ اور زبان پر اکتفا نہیں کرتے وہ اصل راز دل میں رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دل سراپا ذوق استفسار تھا
ذوق استفسار یعنی پوچھنے کی ایسی لذت جو محض جواب حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ حقیقت تک پہنچنے کی طلب سے پیدا ہو انسان کے اندر یہ کیفیت باقی رہے تو علم محض معلومات کا انبار نہیں رہتا بلکہ معرفت کی طرف سفر بن جاتا ہے کیونکہ سوال جب سچے دل سے پیدا ہو تو وہ انسان کو اپنے اندر بھی جھانکنے پر مجبور کرتا ہے اور باہر کی کائنات بھی اس کے لیے ایک کتاب بن جاتی ہے
اقبال کی یہ تصویر دراصل ان کے پورے فکری سفر کا ابتدائی نقشہ ہے بچپن کا وہ بچہ جو چاند کو پہروں تک دیکھتا ہے اور اس کے کوہ و صحرا کی خبر پوچھتا ہے آگے چل کر وہی مزاج انسان کو کائنات کے اسرار پوچھنے پر آمادہ کرتا ہے مگر اقبال کی منزل صرف کائنات کے ظاہری اسرار نہیں وہ انسان کو اس سوال تک بھی لے جاتے ہیں کہ خود اس کی حقیقت کیا ہے اس کا مقصد کیا ہے اس کی قوت کہاں ہے اور اس کے اندر وہ کون سی خودی پوشیدہ ہے جو اسے محض تماشائی نہیں بلکہ صاحب عمل اور صاحب نظر بناتی ہے
یہاں عہد طفلی کی یاد ایک گہرا معنوی روپ اختیار کرلیتی ہے اقبال اپنے بچپن کو اس لیے یاد نہیں کررہے کہ گزرا ہوا زمانہ خوبصورت تھا بلکہ اس لیے کہ اس زمانے میں انسان کی نگاہ ابھی زندہ تھی سوال ابھی زندہ تھا حیرت ابھی زندہ تھی اور دل ابھی مصلحتوں کے بوجھ سے آزاد تھا وہ بچہ چاند کو دیکھ کر خاموش نہیں رہتا تھا وہ پوچھتا تھا وہ جواب چاہتا تھا اور اگر جواب میں اسے مصلحت آمیز بات ملتی تو اس پر حیران ہوتا تھا یہی حیرت اور یہی سوال آگے چل کر اس کے فکر و فن کی بنیاد بنتے ہیں
اقبال کے نزدیک زندہ انسان وہ نہیں جو بہت کچھ جانتا ہو بلکہ وہ ہے جس کے اندر جاننے کی طلب باقی ہو جس کی آنکھ دیکھ کر ٹھہر جائے جس کا دل دیکھے ہوئے منظر کے پیچھے چھپی حقیقت کو تلاش کرے اور جس کی زبان سوال کرنے سے نہ ڈرے عہد طفلی اسی زندہ کیفیت کی یاد ہے اور اس یاد میں اقبال ہمیں اپنے ماضی کی طرف نہیں بلکہ اپنے اصل انسانی جوہر کی طرف واپس بلاتے ہیں کیونکہ بچپن گزر جاتا ہے مگر اگر حیرت مرجائے تو انسان کے اندر کا وہ چراغ بھی بجھ جاتا ہے جو اسے علم سے معرفت اور مشاہدے سے حقیقت کی طرف لے جاتا ہے

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔