تاثراتی رپورٹ - ستمبر کا آخری دن - ازقلم : رہبر تماپوری


 تاثراتی رپورٹ - 
 ستمبر کا آخری دن - 
ازقلم : رہبر تماپوری ، مہمان معلم، جامعہ اسلامیہ احیاء العلوم، جامعہ نگر، تماپور، ضلع یادگیر، ریاستِ کرناٹک، انڈیا
رابطہ: 8431012141

ستمبر کا آخری دن میرے لیے محض ایک مہینے کے اختتام کا دن نہیں، بلکہ یادوں، تجربات، تعلیمی سرگرمیوں اور ایک اہم تعلیمی سفر کی تکمیل کا دن ہے۔ جب گزشتہ ایک ماہ پر نظر ڈالتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ ستمبر نے مجھے استاد، طالب علم اور مشاہدہ کار، تینوں حیثیتوں سے سیکھنے کے مواقع فراہم کیے۔
ستمبر کا آغاز ہی یومِ اساتذہ کی مناسبت سے ہوا۔ ہندوستان میں ہر سال 5 ستمبر کو ڈاکٹر سروپلی رادھا کرشنن کی پیدائش کی یاد میں یومِ اساتذہ منایا جاتا ہے۔ یہ دن استاد اور شاگرد کے اس خوب صورت رشتے کی یاد دلاتا ہے جو صرف کتاب اور سبق تک محدود نہیں، بلکہ رہنمائی، تربیت، نگرانی اور باہمی اعتماد سے تشکیل پاتا ہے۔
اس ماہ میں بچوں کے ساتھ مختلف تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف رہا۔ تقریری مقابلوں میں بچوں کا جوش، ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کا جذبہ اور اپنے خیالات کو اعتماد کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش خاص طور پر قابلِ ذکر رہی۔ ایسی سرگرمیاں محض مقابلے نہیں ہوتیں، بلکہ بچوں کی شخصیت سازی، خود اعتمادی اور اظہارِ خیال کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کا ذریعہ بھی بنتی ہیں۔
ستمبر کی ایک اہم یاد 24 ستمبر کی ہے، جب عظیم پریم جی فاؤنڈیشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب انوراگ بہار اور کرناٹک کے ریاستی سربراہ جناب رودریش ایس نے دیوکیرہ روڈ، رنگم پیٹ، شوراپور میں واقع طیبہ ٹرسٹ کے زیرِ انتظام مدرسہ احیاء العلوم و مریم للبنات کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ادارے میں جاری تعلیمی سرگرمیوں، طلبہ کی تعلیمی پیش رفت اور سیکھنے کے عمل کا جائزہ لیا گیا۔
جناب انوراگ بہار نے تقریباً 60 منٹ تک طلبہ کے ساتھ براہِ راست گفتگو اور تعلیمی تعامل کیا۔ طلبہ کے آموزشی محاصل (Learning Outcomes)، ایف ایل این (FLN: بنیادی خواندگی و عددشناسی)، سوالات کے جوابات، سرگرمیوں میں شرکت اور مجموعی تعلیمی ماحول کا مشاہدہ کیا گیا۔ بچوں کی خود اعتمادی اور سیکھنے کے جذبے کو قریب سے دیکھنا میرے لیے بھی خاص اہمیت رکھتا تھا۔
اس دورے نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ تعلیم صرف کتابی معلومات منتقل کرنے کا نام نہیں، بلکہ بچوں میں سوال کرنے، سوچنے، اظہار کرنے اور عملی طور پر سیکھنے کی صلاحیت پیدا کرنا بھی تعلیم ہی کا حصہ ہے۔
اسی ماہ بچوں کے لیے ایک تعلیمی میلہ بھی منعقد کیا گیا، جس میں زبانی ریاضی، سائنس، کنّڑ اور انگریزی سے متعلق سرگرمیاں شامل تھیں۔ ان سرگرمیوں کے ذریعے بچوں کی مختلف صلاحیتوں، دلچسپیوں اور سیکھنے کے انداز کو قریب سے جاننے اور سمجھنے کا تجربہ ہوا۔ بعض اوقات کلاس روم میں خاموش رہنے والا بچہ کسی عملی سرگرمی میں اپنی ایسی صلاحیت ظاہر کر دیتا ہے جو اس کے بارے میں ہماری سوچ ہی بدل دیتی ہے۔
دن بھر کلاس روم میں بچوں کے سیکھنے کے انداز کو دیکھنا اور دوسری طرف اپنے تعلیمی سفر کے لیے مطالعہ کرنا، اس پورے مہینے نے میرے لیے نظریے اور عمل کے درمیان فاصلہ بھی کم کیا۔ میں نے محسوس کیا کہ جو بات کتابوں میں تعلیمی منصوبہ بندی، قیادت اور سیکھنے کے انتظام کے حوالے سے پڑھی جاتی ہے، اس کی عملی صورت روزانہ کلاس روم میں دیکھی جا سکتی ہے۔
ستمبر میرے لیے امتحانی اعتبار سے بھی ایک اہم مہینہ رہا۔ آج، 30 ستمبر کو مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے ڈپلومہ اسکول لیڈرشپ اینڈ لرننگ مینجمنٹ کا آخری امتحانی پرچہ مکمل ہوا۔ اس سے قبل میں اس کورس کا پروجیکٹ بھی یونیورسٹی میں جمع کر چکا ہوں۔ اس طرح آج اس تعلیمی سفر کا ایک اہم مرحلہ اطمینان کے ساتھ مکمل ہوا۔
اس ڈپلومہ کورس کے دوران اسکول لیڈرشپ، تعلیمی منصوبہ بندی، سیکھنے کے انتظام اور تعلیمی نظم و نسق جیسے موضوعات کو باقاعدہ اور دستاویزی انداز میں سمجھنے کی راہ ہموار ہوئی۔ میرے لیے اس کورس کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ تدریس سے وابستہ عملی تجربات کو باقاعدہ تعلیمی مطالعے سے جوڑنے کا ذریعہ بنا۔
اس پورے مہینے نے استاد اور طالب علم کے رشتے کے بارے میں میرے تصور کو مزید گہرا کیا ہے۔ استاد صرف سبق پڑھانے والا نہیں ہوتا؛ وہ رہنما، نگران اور بسا اوقات ایک مخلص دوست بھی ہوتا ہے۔ جب استاد اور شاگرد کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط ہوتا ہے تو تعلیم صرف کتاب کے صفحات تک محدود نہیں رہتی، بلکہ شعور، شخصیت اور کردار کا حصہ بننے لگتی ہے۔
اب جب ستمبر اپنی آخری تاریخ کو پہنچ گیا ہے تو اس کے دامن میں یومِ اساتذہ کی یاد، بچوں کے تقریری مقابلوں کی گونج، تعلیمی میلے کی سرگرمیاں، عظیم پریم جی فاؤنڈیشن کے عہدیداران کا دورہ، طلبہ کے سیکھنے کے مشاہدات، تدریسی مصروفیات اور میرے اپنے امتحانی سفر کی تکمیل، سب محفوظ ہیں۔
ستمبر گزر گیا، مگر اس نے مجھے بہت کچھ سکھا دیا۔ یہ مہینہ میرے لیے صرف دنوں اور تاریخوں کا مجموعہ نہیں رہا، بلکہ بچوں سے سیکھنے، انہیں سکھانے اور خود بھی مسلسل سیکھتے رہنے کا ایک یادگار سفر بن گیا۔ آج جب میں ستمبر کو رخصت کر رہا ہوں تو اطمینان ہے کہ اس کی آخری تاریخ نے ایک سفر کو اختتام نہیں، بلکہ ایک نئے تعلیمی اور تدریسی سفر کی ابتدا بنا دیا ہے—اور یہ سفر ابھی جاری ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔