دہلی اردو اکیڈمی نئے پرانے چراغ : تجزیاتی جائزہ - وزیراعظم کا نعرہ سب کا ساتھ سب کا وکاس سب کا وشواس اور سب کا پریاس عملی طور پر درست : انیس عباسی - کالم نویس : ٹی این بھارتی
دہلی اردو اکیڈمی نئے پرانے چراغ : تجزیاتی جائزہ -
وزیراعظم کا نعرہ سب کا ساتھ سب کا وکاس سب کا وشواس اور سب کا پریاس عملی طور پر درست : انیس عباسی -
کالم نویس : ٹی این بھارتی
سر زمین ہند میں پرورش پانے والی اردو زبان وادب کے لئے جہاں ایک طرف خیال خام ہے کہ اردو زبان زوال پذیر ہے وہاں دوسری جانب اردو زبان کو حکومت ہند سے بھر پور تعاون حاصل ہے۔ گزشتہ ایام دہلی اردو اکیڈمی کی پانچ روزہ تقریبات بعنوان نئے پرانے چراغ نے ثابت کر دیا ہے کہ اردو زبان کا خاتمہ ممکن ہی نہیں ہے ۔
پانچ روزہ تقریبات میں تقریبا ساڑھے پانچ سو ادیبوں ، شاعروں کو ایک چھت کے نیچے جمع کرنا آسان کام نہیں ہے لیکن دہلی اردو اکیڈمی نے ایک قابل تحسین کارنامہ انجام دیا ہے
یہ ایک ایسا ادارہ ہے جہاں گزشتہ تیس برس سے اردو زبان کی ترقی کے لئے نئے پرانے چراغ کی شمع روشن کی جا رہی ہے ۔ دنیا کے کسی بھی خطہ میں کسی بھی زبان میں اس طرح کی تقریبات کا انعقاد نہیں کیا جا رہا ہے۔ لہذا اس تقریب کو ورلڈ ریکارڈ میں شامل کرنا اشد ضروری ہے۔
Limca book of Record / Guinness book of World report .
کی طرف سے اس تقریب
کو انعام سے سرفراز کیا جانا چاہیے ۔ تقریبا بارہ گھنٹے یومیہ
چلنے والی اس تقریب میں تخلیق کاروں کے ساتھ ساتھ
روزانہ مشاعرہ کا اہتمام بھی کیا گیا ۔ تخلیق کا روں کو دس منٹ کا وقت دیا گیا جبکہ شعرا کرام کو ترنم کے ساتھ تین اشعار اور تحت الفظ میں پانچ شعر پیش کرنے کی اجازت دی گئ ۔ دعوت نامہ میں کل 399 شعراء کی فہرست دیکھ کر عقل حیران ہوئی ۔ چند شعراء غیر حاضر بھی رہے۔ تخلیق کار کی تعداد
آئیے اب تہہ بہ تہہ نئے پرانے چراغ تقریبات کا جائزہ لیا جائے دہلی اردو اکیڈمی کے قمر رئیس سلور جبلی آڈیٹوریم میں
28 اگست سے 1 ستمبر 2026
کے افتتاحی اجلاس میں اکیڈمی کے سینئر کارکن محمد ہارون اور عزیر حسن قدوسی نے مہمان خصوصی پروفیسر صادق علی (سابق صدر شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی ) ، بھارت ایکسپریس نیوز کے چیف ایڈیٹر ڈاکٹر خالد رضا خاں اور کچھ دیگر معززین کو بطور استقبالیہ پودا پیش کیا ۔
اس موقع پر بحیثیت صدر پروفیسر ڈاکٹر صادق علی نے اکادمی کو مبارکباد دیتے ہوئے زمانہ ماضی کی یادوں کو تازہ کیا ۔ انھوں نے کہا کہ اس تقریب کا مقصد نسل نو کے لئے ایک ایسا نیا چراغ روشن کر نا ہے جہاں پرانے چراغ کی روشنی سے نئ نسل مستفید ہو سکے ۔
ڈاکٹر خالد رضا خاں نے کہا کہ دہلی اردو اکیڈمی کی پانچ روزہ تقریبات اس بات کی غماز ہیں کہ
اردو اکیڈمی کے تمام کارکنان کی محنت اور لگن سےاس تقریب نے ا پنی انفرادیت کے باعث اہم مقام حاصل کیا ہے۔
افتتاحی اجلاس کی نظامت معروف شاعر و ادیب ڈاکٹر شفیع ایوب ( جواہر لعل نہرو یونیورسٹی ) نے نئے پرانے چراغ تقریبات کے تار یخی پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اردو زبان کی ترقی میں غیر اردو داں طبقہ نے اردو زبان کے دائرے کو بام عروج تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ علاوہ ازیں پروفیسر صادق علی ، پروفیسر اخلاق آہن اور دیگر شعرا نے محفل شعرو سخن کی شمع روشن کی ۔ مشاعرہ کی صدارت جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے شعبہ فارسی سے وابستہ پروفیسر اخلاق آہن نے صدارت
جبکہ نظامت معروف نوجوان شاعر انس فیضی نے کی ۔
ساٹھ سے زائد معروف شاعر وں نے اپنا کلام پیش کیا ۔
دو ئم روز جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے پروفیسر خواجہ اکرام الدین نے تنقیدی و تحقیقاتی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ اردو زبان میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے ۔ اردو زبان میں تلفظ کی درست ادائیگی ضروری ہے ۔ ریسرچ اسکالرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عربی ، فارسی ، سنسکرت کی جانب بھی توجہ مرکوز کرنا چاہیے۔ نئے پرانے چراغ کے مد مقابل ہندوستان کی کسی بھی اکیڈمی میں کوئی تقریب نظر گذار نہیں ہوئی ہے ۔
پروفیسر شمیم احمد( دہلی یونیورسٹی ) نے صدارتی خطبہ میں کہا کہ نئے پرانے چراغ تقریبات کے ذریعے نسل نو بالخصوص ریسرچ اسکالرز کو بہترین پلیٹ فارم ملا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اردو کی مختلف اصناف شاعری ، افسانہ ، ناول، خاکہ نگاری ، عربی شاعری کے ساتھ ساتھ ا دبی شخصیات پر بھی سیر حاصل گفتگو ہوئی۔
اردو اکیڈمی کے سیکریٹری لیکھ راج نے پر مسرت لہجہ میں کہا کہ اردو زبان میں زندگی کا سلیقہ پو شیدہ ہے ۔ تہذیبی وراثت میں ملی اردو زبان کی حفاظت کرنا نسل نو کی زمے داری ہے ۔ اجلاس کی نظامت ڈاکٹر ترنم جبیں نے کی
پہلے اجلاس میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالرز نے مختلف
اصناف پر تحقیقی مقالہ پیش کئے ۔ سجاد الرحمن نے صلاح الدین پرویز نظم : ایک منفرد شعری لہجہ ، اما نا ساجد نے بیگم انیس قدوائی کے خاکوں کا فنی و فکری جائزہ ، عارفہ ناز نے سید محمد اشرف کے نا ولوں میں تہذیبی زوال کا احساس، محمد صادق نے اقبال مجید کے افسانوں میں خواتین کے مسائل کی عکاسی ، فواد رشید نے منظر سلیم کی ناول نگاری میں نگاری کا اجما لی جائزہ ، و سیمہ اختر نے ترنم ریاض کا افسانوی مجموعہ مرا رخت سفر میں عصری مسائل ، شزا سہیل نے ابن کنول کا افسانہ سو ئیٹ ہوم : ایک تجزیاتی مطالعہ ، سید معین۔ الدین نے نواب مصطفی خاں شیفتہ کی اردو شاعری کے
امتیاز ات ، اسمہ خاتون نے سدرشن کا افسانہ ہار کی جیت کی عصری معنویت ، افراز خاں نے نند کشور وکرم بحیثیت ناول نگار ناول یا دوں کے کھنڈر کی روشنی میں ، عنوانات پر مقالے پیش کئے ۔
بعد از ظہرانہ تخلیقی اجلاس کی
صدارت کرتے ہوئے پروفیسر مٹھن کمار نے کہا کہ کامیاب تخلیق کار کی شناخت یہ ہے کہ وہ اپنے قلم سے قاری کو سوچنے پر مجبور کر دے ۔ معروف ادیبہ نعیمہ پا شا جعفری قلم کاروں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انسانی مسائل کی عکاسی خوبصورت ا ندا ز میں پیش کی گئ ۔ پروفیسر شاہینہ تبسم نے نئے پرانے چراغ کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 26 برس قبل شروع کی گئ یہ تقریب آج بھی مشعل کی مانند پورے آب و تاب کے ساتھ روشن ہے ۔
مشاعرہ کے دوران بی جے پی دہلی اسٹیٹ اقلیتی مورچہ کے صدر انیس عباسی نےفروغ اردو زبان کے تئیں حکومت ہند اور دہلی حکومت کی جانب سے کئے جانے اقدامات کی قابل ستائش ہیں ۔انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم کا نعرہ سب کا ساتھ سب کا وکاس سب کا و شواس سب کا پر یاس عملی طور پر سچ ثابت ہوا ہے ۔ مشاعرہ کی صدارت بزرگ شاعر وقار مانوی اور نظامت کے فرائض پروفیسر رحمان مصور نے انجام دیئے۔ بزرگ و نوجوان شعراء نے اپنا کلام پیش کیا ۔
سوئم روز تنقیدی و تخلیقی اجلاس کی صدارت پروفیسر ندیم احمد ، پروفیسر محمد کاظم اور پروفیسر شیخ عقیل احمد کی ۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر محضر رضا نے انجام د یئے ۔ ریسرچ اسکالرز نے مختلف عنوانات سے مقالے پیش کئے۔
شارق محمد عزیز ، و پن کمار ، عبیداللہ، عارفہ جان ، غلام محمد ، صوفیہ پروین ، غلام وارث ، محمد تہلیل عالم ، زین العابدین ہاشمی نے پر مغز مقالہ پیش کئے۔
پروفیسر ندیم احمد نے مقالات پر رائے زنی کرتے ہوئے کہا کہ اردو اکیڈمی نے ریسرچ اسکالرز کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کیا ہے جہاں انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ بخوبی انجام دیا۔ انھوں نے تلفظ کی درست ادائیگی پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ نئ نسل کو اپنے اساتذہ سے تلفظ کی ادائیگی کا طریقہ سیکھنا چاہئے ۔ پروفیسر کاظم نے کہا کہ تما م موضوعات ایک دوسرے سے مختلف تھے نئ نسل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ آج کے نوجوان زیادہ ذہین اور با خبر ہیں ۔ نئ نسل کو مصنوعی ذہانت سے استفادہ حاصل کرنا چاہئے۔
پروفیسر شیخ عقیل احمد نے کہا کہ تحقیق کے دوران غلطیاں ہونا شرم کی بات نہیں بلکہ کوئی بھی محقق غلطیوں سے سیکھ کر ہی اپنے لئے ایک نئ راہ ہموار کرتا ہے ۔
تیسرے دن کے تخلیقی اجلاس کی صدارت ڈاکٹر عبد العزیز ، ڈاکٹر ارشاد نیازی ، ڈاکٹر خالد رضا خان جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر نثار احمد نے بخوبی انجام دیئے۔ تخلیقی اجلاس میں چشمہ فاروقی، ڈاکٹر ناظمہ جبین ، ڈاکٹر ثمر جہاں ، غزالہ پروین ، ڈاکٹر راشدہ رحمان ، ڈاکٹر زہیب خان ، شاہنواز انصاری ، ڈاکٹر عقیلہ ، نازیہ دانش ، شفا فاروقی ، نور فاطمہ ، عظمی ، رضوان ، نے افسانہ پیش کئے ۔ افسانہ نگاری پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد رضا خان نے کہا کہ افسانہ نگار کو درست الفاظ ، جملہ بندی ، تلفظ پر خاص توجہ مرکوز کرنا چاہیے۔ کیونکہ زبان غلط لب و لہجہ سے افسانہ میں کشش باقی نہیں رہتی ۔ ڈاکٹر ارشاد نیازی نے کہا کہ اردو ادب میں افسانہ کی صنف میں سب سے اہم امور انفرادیت ہے اور انفرادیت کے لئے ضروری ہے کہ افسانہ نگار کو کہانی کا تانہ بانہ آتا ہو ۔ کہانی کار اپنی تخلیق کو موثر ا نrداز میں تشکیل دینے کا ہنر جانتا ہو ۔ ڈاکٹر عبدالعزیز نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو تین دہائیوں سے محاورہ ، تشبہ اور استعارہ کا استعمال کم ہونے کے باعث نثری ا دب کا معیار متاثر ہوا ہے ۔انھوں نے قلم کاروں کو مشورہ دیا کہ کہانی قلم بند کرتے وقت کرداروں کے حالات زندگی اور نفسیات کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔
تنقید ی و تحقیقی اجلاس کے بعد پروفیسر خالد محمود کی صدارت میں شعرو سخن کی محفل آراستہ کی گئ ۔ تقر یبا پچھتر شاعر و شاعرات نے ا پنا کلام پیش کیا ۔ سامعین گہری دلچسپی کے ساتھ مشاعرہ سے لطف اندوز ہو ئے ۔ مشاعرہ کی عرفان اعظمی نے پرخلوص انداز میں نظامت کے فرائض انجام دیئے۔
روز چہارم پروفیسر احمد محفوظ ، پروفیسر مشتاق عالم قادری اور پروفیسر شاہ عالم کی صدارت میں۔ تحقیقی وتنقیدی اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔ ڈاکٹر عمران اعظم خوبصورت انداز میں نظامت کی ۔ مقالہ نگاروں نے اردو ادب کے مختلف اصناف اور متنوع مو ضوعات پر تخلیقی و تحقیقی مقالہ پیش کئے ۔ فیض الرحمن ، محند انیس ، اقبال احمد، عمر فاروق ، مقصود خاں، ابو ہریرہ، عائشہ افضل ، عامر مظفر بھٹ ، اور شمائلہ ملک کے مقالات نے اردو ادب کو مزید وسعت بخشی۔
اس اہم ترین اجلاس میں سوال و جواب کے لئے وقت دیا گیا لیکن شا معین نے سوال کرنے میں کنجوسی کی ۔ مقالہ نگار کے تلفظ پر بالخصوص کشمیر کے مقالہ نگار عامر مظفر بھٹ کے اندا ز ، لب و لہجہ پر قا ر ئین نے
اعتراض کیا۔ مقا لات پر اظہار خیال کرتے ہوئے پروفیسر شاہ عالم نے کہا کہ مقالہ پر گفت و شنید ہونا ضروری ہے تنقیدی تبادلہ خیال اور سوال و جواب کا سلسلہ بھی ہونا چاہیے۔ پروفیسر مشتاق احمد قادری نے پابندی وقت کا خاص خیال رکھنا چاہیے کیونکہ وقت کی پابندی اور سنجیدگی کے بغیر تحقیق نامکمل ہے ۔ جموں و کشمیر سے وابستہ ڈاکٹر مشتاق احمد قادری نے کہا کہ محاورہ کا استعمال ختم ہوتا جارہا ہے ۔ ڈاکٹر مشتاق نے غلط محاورہ بولتے ہوئے کہا کہ پیاسا پانی کے پاس جاتا ہے پانی پیاسا کے پاس نہیں راقم الحروف نے غلط محاورہ کی تصیح کرتے ہوئے کہا پیاسا کنوئیں کے پاس جاتا ہے کنواں پیاسے کے پاس نہیں جاتا ۔ ڈاکٹر مشتاق نے مضحکہ خیز جواب
دیتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنا محاورہ بنایا ہے ۔ قابل فکر المیہ ہے کہ جب کالج اور یونیورسٹی کے لیکچر ر اور پروفیسر ہی اردو زبان و ادب کی درس و تدریس کے وقت غلط طریقہ کار سے اردو زبان کی تعلیم دیں گے تو نسل نو کے طلبہ و طالبات کے لئے اردو زبان کی حفاظت کرنا دشوار گزار مرحلہ ہے ۔ اسا تذہ کو درس و تدریس کے لحاظ سے اردو زبان کا درست استعمال کرنا چاہیئے وگرنہ اردو زبان کی بر بادی کا سہرا اسا تذہ کے سر پر ہی
باندھا جائے گا ۔
پروفیسر احمد محفوظ نے کہا کہ نئے پرانے چراغ تقریبات کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں دور حاضر کے محقق کو موجودہ سماجی و معاشرتی مسائل پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔
ڈاکٹر ریاض عمر ، پروفیسر احمد امتیاز اور خورشید اکرم کی صدارت میں تخلیقی اجلاس کا آغاز ہوا ۔ اس آخری اجلاس میں افسانہ ، خاکہ ، انشائیہ کے تحت ایم رحمان نے مشاہدہ ڈاکٹر شمیم اختر نے فاصلوں کا درد ، ڈاکٹر نشاں زیدی نے نو سٹیلجیا، ڈاکٹر محمد مستمر نے آنگن میں منگل ، ڈاکٹر محمد معین الدین نے خاں صاحب ،
اشتیاق احمد مصباحی نے باز گشت ، فیصل خاں نے للو میاں کی شیروانی ، طلعت نسرین بھارتی نے یوم اساتذہ کی مناسبت سے بچوں کے لئے مزاحیہ مضمون میرے بچپن کا ٹیچرز ڈے ، اشتیاق خاں حکمتو چرسی ، ہما نے چوری ، ترنم جہاں شبنم نے روٹھ کے ایسے ہار گیا وہ ، جاوید عنبر مصباحی نے افسانہ ، عافیہ سیفی نے قلم کی روشنی اور ڈاکٹر ممتاز عالم رضوی نے سمبھو پاگل تخلیقات پیش کیں ۔ پروفیسر احمد امتیاز نے صدارتی خطاب میں کہا کہ کہانی میں پلاٹ مر بوط ، کردار
واضح اور با معنی ہو نا چاہیے کہانی میں غیر ضروری پیچیدگی سے پر ہیز کرنا چاہیے۔
ڈا کٹر ریاض عمر نے رائے زنی کرتے ہوئے کہا کہ کہانی لکھتے وقت درست اصطلاحات کا خیال رکھنا چاہیے۔ جدید ٹیکنالوجی اور جدید نثر سے متعلق تحریر میں عصر حاضر کی اصطلاحات کا خاطر خواہ اضافہ کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ بزرگوں اور اساتذہ سے حاصل کردہ علم نئ نسل تک پہنچانا چاہیئے ۔ تحقیقی وتنقیدی اجلاس کے بعد محفل شعر و سخن کی صدارت پروفیسر فاروق بخشی اور نظامت کے فرائض فرید احمد فرید نے انجام دیئے۔
پانچ روزہ تقریبات کے آخری روز پروفیسر معین الدین جنابڑے، ڈاکٹر خالد علوی ، پروفیسر خالد اشرف کی صدارت اور ڈا کٹر یوسف رضا کی نظامت میں
ریسرچ اسکالرز نے مختلف اصناف پر تحقیقی و تنقید ی تحریر یں پیش کیں ۔ بطور صدر اجلاس ڈاکٹر خالد علوی نے کہا کہ تمام مقالہ نگاروں نے ادبی پلیٹ فارم پر حوصلہ و اعتماد کے ساتھ مقالات پیش کئے ۔انھوں نے کہا کہ تخلیق کے دوران مطا لعہ کا دائرہ وسیع تر ہو نا چاہیے۔ پروفیسر خالد اشرف نے وقت کی پابندی پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مقالہ کے دوران وقت کی پابندی کا خیال رکھنا اہم ترین مرحلہ ہے ۔ انھوں نے مشرقی اتر پردیش کےاسکالرز کو ہندی زبان کے الفاظ سے پرہیز کرنا چاہیے۔ اسکالرز کی زمے داری ہے کہ معیاری ، شستہ ، فصیح اردو کا استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ تلفظ پر بھی توجہ مرکوز کریں ۔ تاکہ تحریر وں میں علاقائی ا ثر ات نمایاں نہ ہوں ۔
پروفیسر معین الدین جنابڑے نے کہا کہ مقالہ نگاروں کو مشورہ دیا کہ ا نگریزی زبان میں تحریر شدہ معیاری تحقیقی مقالات کا گہرائی سے مطالعہ کریں تاکہ تقابلی جائزہ کے پیش نظر تحقیقی پر بہتر کام کیا جا سکے ۔ اس اجلاس میں ریسرچ اسکالر فردوس عالم ، چاند رضا ، محند سرتاج حسین ، شہباز قدیر چوہدری،سیف الرحمن، شہباز ریحان ، طفیل احمد ، عبد الرحمن عابد نے اپنے مقالے پیش کئے۔
بعد از ظہرانہ پروفیسر کوثر مظہری ، ڈاکٹر پر ویز شہر یار اور ڈاکٹر قمر الحسن کی صدارت میں تخلیقی اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔ ڈاکٹر قمر الحسن نے صدارتی خطبہ میں کہا کہ سینئر قلم کاروں کے ساتھ ساتھ نئے قلم کاروں کے مقالہ بھی قابل ستائش ہیں ۔ ڈاکٹر پر ویز شہر یار نے کہا کہ دور حاضر میں جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کی مدد سے
نئے نسل کے قلم کار موجودہ دور کی عکاسی خوبصورت انداز میں کر سکتے ہیں ۔ پروفیسر کوثر مظہری نے کہا کہ اصل کہانی کار وہی ہے جو اپنے فن میں اجنبیت اور انفرادیت کا عنصر شامل کرنے کی بھرپور کوشش کرے ۔
اجلاس میں ڈاکٹر عذرا نقوی ، ڈاکٹر شمع افروز زیدی ، ڈاکٹرمظفر حسین غزالی ، ڈاکٹر قد سیہ نصیر ، ڈاکٹر شاہد حبیب ، ڈاکٹر نگار عظیم ، ڈاکٹر سفینہ ، ڈاکٹر ثاقب فریدی ، ثروت عثمانی ، ڈاکٹر شاہنواز ہاشمی ، ڈاکٹر عاکف خاں، وسیع الرحمن عثمانی، نجمہ ا نعم ، حرا قمر ، امجد حسین اور طہ نسیم نے افسانے ، انشائیے اور خاکے پیش کئے ۔ نظامت ڈاکٹر شاداب تبسم نے کی ۔ محفل شعر و سخن کی صدارت طالب رامپور ی اور نظامت شعیب رضا نے دلچسپ انداز میں کی ۔ مشاعرہ میں تقریبا ستر شعرا کرام نے اپنا کلام پیش کیا ۔ کثیر تعداد میں شائقین نے شرکت کی ۔عاردو اکیڈمی کے محنتی کارکن محمد ہارون نے شرکاء اور مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ اس تقریب کا دلچسپ پہلو یہ رہا کہ ہر ایک اجلاس میں سامعین کو سوال کرنے کا موقع دیا گیا اردو زبان کے تئیں نئ نسل نے استفادہ حاصل کیا ۔ اردو اکیڈمی کی نہایت محنت کش مصروف ترین آفیسر مسز پونم سنگھ ، پروگرام کور آ ڈینیٹر عزیر قدوسی ، سرگرم کارکن محند ہارون اور اکیڈمی کے تمام کارکنان کے پر خلوص انداز نے پانچ روزہ تقریبات میں چار چاند لگا د ئیے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔×××۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Comments
Post a Comment