چنتامنی سے پلمنیر تک — ایک یادگار ادبی سفر - تحریر: تحسینہ ماوینکٹی (تاشہ رانی بنوری)


چنتامنی سے پلمنیر تک — ایک یادگار ادبی سفر - 
تحریر: تحسینہ ماوینکٹی (تاشہ رانی بنوری)
مہمان لیکچرر شعبہ اردو گورنمنٹ کالج برائے خواتین چنتامنی چکبلاپور ضلع کرناٹک۔

الحمدللہ ثم الحمدللہ!
زندگی کے بعض سفر فاصلے کے اعتبار سے شاید چند سو کلومیٹر سے زیادہ نہیں ہوتے، لیکن یادوں کے اعتبار سے وہ پوری زندگی پر محیط ہو جاتے ہیں۔ کچھ راستے انسان کو محض ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچاتے ہیں، مگر کچھ سفر ایسے ہوتے ہیں جو انسان کو نئے لوگوں سے ملاتے ہیں، نئے افکار سے روشناس کراتے ہیں، اپنی صلاحیتوں کو آزمانے کا موقع دیتے ہیں اور دل و دماغ پر ایسے نقوش ثبت کر جاتے ہیں جنہیں وقت کی گرد بھی دھندلا نہیں سکتی۔
میرے لیے یکم ستمبر 2026ء کو چنتامنی سے پلمنیر تک کا سفر بھی ایسا ہی ایک یادگار، علمی، ادبی اور جذباتی سفر تھا۔ بظاہر یہ ایک سیمینار میں شرکت کے لیے کیا جانے والا سفر تھا، مگر حقیقت میں یہ میری علمی و ادبی زندگی کے ایک نئے باب کا آغاز تھا۔ اس سفر میں مسافت بھی تھی، انتظار بھی، تذبذب بھی، حوصلہ بھی، اجنبی راستے بھی، نئے لوگوں سے ملاقات بھی، استاد کی شفقت بھی اور سب سے بڑھ کر اردو زبان و ادب سے محبت کا وہ احساس بھی جس نے پورے سفر کو یادگار بنا دیا۔
اس سفر کی داستان دراصل یکم ستمبر سے بہت پہلے شروع ہو چکی تھی۔ 9 جولائی 2026ء کا دن تھا۔ معمول کے مطابق علمی و ادبی سرگرمیوں سے متعلق معلومات دیکھ رہی تھی کہ اچانک میری نظر بزمِ جاوید کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے ایک روزہ قومی سیمینار کے خوب صورت پوسٹر پر پڑی۔ سیمینار کا موضوع تھا: ’’جنوبی ہند کے اردو غزل گو شعراء‘‘۔
موضوع پڑھتے ہی دل میں ایک عجیب سی خوشی پیدا ہوئی۔ جنوبی ہند کی اردو غزل، اس کی روایت، اس کے شعرا اور اس کے تاریخی و تہذیبی پس منظر سے مجھے ہمیشہ خاص دلچسپی رہی ہے۔ چنانچہ یہ موضوع میرے تحقیقی ذوق سے بھی قریب تھا اور میرے ادبی شوق سے بھی۔ میں نے اسی دن ڈاکٹر آر۔ ایس۔ رحمت اللہ صاحب سے رابطہ کیا۔ اگلے ہی روز، یعنی 10 جولائی کو سیمینار کے لیے باقاعدہ رجسٹریشن کروائی اور سیمینار کے واٹس ایپ گروپ میں شامل ہو گئی۔
اس وقت شاید مجھے اندازہ بھی نہیں تھا کہ ایک پوسٹر پر پڑنے والی نظر مجھے چند ہفتوں بعد ایک ایسے سفر پر لے جائے گی جو میری علمی زندگی کی خوب صورت یادوں میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جائے گا۔
سیمینار میں شرکت کا فیصلہ ہونے کے بعد اگلا مرحلہ مقالے کی تیاری کا تھا۔ میں نے اپنے تحقیقی مقالے کا موضوع منتخب کیا: ’’ولی دکنی اور جنوبی ہند میں اردو غزل کی روایت‘‘۔ یہ موضوع میرے لیے محض ایک مقالے کا عنوان نہیں تھا بلکہ اردو غزل کی ابتدائی روایت، دکن کی ادبی فضا اور ولی دکنی کی عظیم ادبی شخصیت کو سمجھنے کا ایک موقع بھی تھا۔
میں نے مقالے پر پوری توجہ کے ساتھ کام شروع کیا۔ حوالہ جات دیکھے، مواد کو مرتب کیا، عبارت کی اصلاح کی، مقالے کی ساخت کو بہتر بنایا اور کوشش کی کہ موضوع کے اہم پہلو مختصر مگر جامع انداز میں سامنے آ سکیں۔ بالآخر 24 جولائی کو میں نے اپنا مقالہ Word اور PDF دونوں فارمیٹس میں ڈاکٹر رحمت اللہ صاحب کو ارسال کر دیا۔
اس کے بعد انتظار شروع ہوا۔
انتظار ہمیشہ عجیب کیفیت کا نام ہے۔ انسان اپنا کام مکمل کر دیتا ہے، لیکن ذہن بار بار اسی سوال کی طرف لوٹتا ہے کہ آگے کیا ہوگا؟ مقالہ قبول ہوگا یا نہیں؟ شرکت کا موقع ملے گا یا نہیں؟ سفر کیسے ہوگا؟ وقت پر پہنچ پاؤں گی یا نہیں؟
بالآخر 20 اگست کو ڈاکٹر رحمت اللہ صاحب کی جانب سے رسمی دعوت نامہ اور سیمینار کا دعوتی کارڈ موصول ہوا۔ ساتھ ہی یہ اطلاع بھی ملی کہ یکم ستمبر کو منعقد ہونے والے اس علمی اجلاس میں مجھے اپنے مقالے کی تلخیص پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ بعد میں سر کا فون بھی آیا تاکہ میری شرکت کی تصدیق کی جا سکے۔
یہ میرے لیے خوشی کا لمحہ تھا، لیکن خوشی کے ساتھ ایک نئی ذمہ داری بھی میرے سامنے آ کھڑی ہوئی تھی۔
سچ کہوں تو اس موقع پر میرے دل و دماغ میں ایک عجیب کشمکش جاری تھی۔ ایک طرف مقالہ پیش کرنے کا شوق تھا، دوسری طرف اتنی دور اکیلے سفر کرنے کا خیال تھا۔ وقت کی پابندی، راستے کی تبدیلی، بسوں کا مسئلہ، واپسی کا سفر اور سب سے بڑھ کر یہ خوف کہ اگر میں دیر سے پہنچی تو کیا ہوگا؟ کئی سوالات ذہن میں گردش کرتے رہے۔
لیکن ڈاکٹر آر۔ ایس۔ رحمت اللہ صاحب کی حوصلہ افزائی میرے لیے بہت بڑا سہارا بنی۔ ان کی گفتگو میں شفقت بھی تھی اور اعتماد بھی۔ انہوں نے مجھے مسلسل حوصلہ دیا اور محسوس کرایا کہ علمی مواقع زندگی میں بار بار نہیں آتے۔ ان کی بات کا خلاصہ یہی تھا: ’’اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دیں۔‘‘
یہ الفاظ میرے لیے معمولی جملہ نہیں تھے۔ میں نے خود سے کہا کہ اگر علم کا دروازہ کھل رہا ہے تو محض سفر کی دشواری، اجنبی راستے یا تاخیر کے خوف کی وجہ سے پیچھے ہٹنا مناسب نہیں۔ چنانچہ میں نے فیصلہ کر لیا کہ سفر ہر حال میں کرنا ہے۔
میں نے مقالے کی تلخیص کو دوبارہ سنوارا، بار بار پڑھا، مقررہ وقت میں پیش کرنے کی مشق کی اور سفر کی تیاری شروع کر دی۔
آخرکار وہ دن آ گیا۔ یکم ستمبر 2026ء، منگل کی صبح۔ دل میں کئی جذبات لیے میں چنتامنی سے پلمنیر کے لیے روانہ ہوئی۔ یہ محض ایک شہر سے دوسرے شہر کا سفر نہیں تھا؛ میرے لیے یہ میرے پہلے آف لائن قومی سیمینار کی طرف بڑھنے والا قدم تھا۔
چنتامنی سے کولار، کولار سے ملباگل اور پھر ملباگل سے پلمنیر۔ بسیں بدلتی رہیں، راستے بدلتے رہے اور کھڑکی سے باہر کے مناظر مسلسل تبدیل ہوتے رہے۔ کبھی سڑکوں کی رونق، کبھی دیہی منظر، کبھی بازار اور کبھی خاموش راستے۔ میں گھڑی بھی دیکھ رہی تھی اور راستہ بھی۔
دل میں ایک طرف یہ خوشی تھی کہ آج مجھے اہلِ علم و ادب کے درمیان اپنا تحقیقی کام پیش کرنا ہے، جبکہ دوسری طرف ایک انجانا خوف بھی تھا کہ کہیں دیر نہ ہو جائے۔ وقت تیزی سے گزر رہا تھا۔
تقریباً ساڑھے بارہ بجے میں پلمنیر پہنچی۔ راستے ہی میں میں نے ڈاکٹر رحمت اللہ صاحب کو فون کرکے اپنی تاخیر سے آگاہ کر دیا تھا۔ میرے ذہن میں خدشہ تھا کہ شاید میری دیر سے آمد سے پروگرام متاثر ہو، مگر ان کے شفیق انداز نے میری گھبراہٹ کم کر دی۔ ان کی طرف سے حوصلہ ملا کہ: ’’جتنی جلد ہو سکے پہنچنے کی کوشش کریں۔‘‘ یہ مختصر سا جملہ میرے لیے پھر سے توانائی کا سبب بن گیا۔
پلمنیر پہنچتے ہی میں نے آٹو لیا اور SVCR گورنمنٹ ڈگری کالج کی طرف روانہ ہو گئی۔ آٹو شہر کی سڑکوں سے گزرتا ہوا کالج کی طرف بڑھ رہا تھا، اور میرے ذہن میں مسلسل سیمینار کا منظر گردش کر رہا تھا۔ کیا پروگرام شروع ہو چکا ہوگا؟ کیا میرا سیشن آ گیا ہوگا؟ کیا میں اپنا مقالہ پیش کر پاؤں گی؟ یہ سوالات دل کی دھڑکنوں کے ساتھ چل رہے تھے۔
جیسے ہی کالج کے قریب پہنچی، سیمینار ہال کی طرف سے مائیک کی آواز سنائی دینے لگی۔ دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں۔ پہلا تکنیکی سیشن تقریباً اختتام پذیر ہو چکا تھا، لیکن سیمینار کی علمی فضا پوری طرح قائم تھی۔
کالج کے صحن میں قدم رکھتے ہی ایک دلکش منظر نے میرا استقبال کیا۔ رنگ برنگی رنگولی سجی ہوئی تھی۔ سیمینار کے لیے کالج کو خوب صورتی سے آراستہ کیا گیا تھا۔ ہال کے اندر اسٹیج تازہ پھولوں اور خوب صورت سجاوٹ سے دمک رہا تھا۔ ہال میں اساتذہ، طلبہ و طالبات، شعراء، مقالہ نگار اور دور دراز سے تشریف لانے والے اہلِ علم موجود تھے۔
ایک لمحے کے لیے میں نے اپنے سفر کی تمام تھکن بھلا دی۔ دل سے بے اختیار نکلا: ’’الحمدللہ! میں پہنچ گئی۔‘‘
دوسرے تکنیکی سیشن کا آغاز ہوا۔ ایک ایک کرکے مقالہ نگاروں کو دعوتِ سخن دی جانے لگی۔ اور پھر وہ لمحہ بھی آ گیا جس کا مجھے کئی دنوں سے انتظار تھا۔ مجھے تیسرے نمبر پر اپنا مقالہ پیش کرنے کی سعادت ملی۔
یہ لمحہ میرے لیے اس لیے بھی خاص تھا کہ اگرچہ میں اس سے قبل متعدد آن لائن ویبنارز اور سیمینارز میں شرکت کر چکی تھی، لیکن یہ میری پہلی آف لائن قومی علمی نشست تھی جہاں مجھے باقاعدہ اپنے تحقیقی کام کی پیشکش کرنی تھی۔
میں نے اپنے مقالے ’’ولی دکنی اور جنوبی ہند میں اردو غزل کی روایت‘‘ کی تلخیص پیش کی۔ اس وقت میرے ذہن میں نہ صرف مقالے کا مواد تھا بلکہ وہ پورا سفر بھی تھا جو چنتامنی سے شروع ہو کر پلمنیر تک پہنچا تھا۔
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے میری پیشکش بخیر و خوبی مکمل ہوئی۔ میرے لیے یہ ایک بہت بڑا اطمینان تھا۔ مجموعی طور پر 11 ممتاز مقالہ نگاروں نے اپنے تحقیقی مقالات پیش کیے اور پورا سیشن علمی و ادبی اعتبار سے نہایت مفید رہا۔
اس موقع پر میرے محترم استاد پروفیسر ڈاکٹر سید سجاد حسین صاحب کی موجودگی میرے لیے کسی نعمت سے کم نہیں تھی۔ ایک طالب علم کے لیے اس سے بڑھ کر خوشی اور فخر کی بات کیا ہو سکتی ہے کہ جس استاد سے اس نے علم و ادب کی روشنی حاصل کی ہو، وہی استاد اس کی پہلی باقاعدہ آف لائن علمی پیشکش کا شاہد بنے۔
انہوں نے تمام مقالہ نگاروں کی علمی محنت کو سراہا اور اپنے قیمتی خیالات سے نوازا۔ ان کی موجودگی نے میرے اعتماد میں اضافہ کیا۔ دل کے کسی گوشے میں یہ احساس بھی پیدا ہوا کہ علم کی راہ میں استاد کی دعائیں اور سرپرستی انسان کے لیے ایک مضبوط سایہ ہوتی ہیں۔
تکنیکی سیشن کے بعد ظہرانے کا وقفہ ہوا۔ ظہرانے کا انتظام بھی نہایت عمدہ اور نفیس تھا۔ لیکن میرے لیے کھانے سے زیادہ اہم وہ ملاقاتیں تھیں جو اس وقفے کے دوران ہوئیں۔
شعبۂ اردو کے اساتذہ، طلبہ، محققین اور دیگر اہلِ علم سے گفتگو کا موقع ملا۔ اجنبی شہر میں پہنچ کر جب لوگ اپنائیت کے ساتھ ملیں، آپ کے مقالے کے بارے میں پوچھیں، آپ کی کوشش کو سراہیں اور اصلاحی مشورے دیں تو انسان کے اندر ایک عجیب سی خوشی پیدا ہوتی ہے۔
سینئر اہلِ علم نے میرے مقالے کو سراہا، بعض مفید مشورے دیے اور مستقبل کی علمی سرگرمیوں کے لیے دعاؤں سے نوازا۔ مجھے محسوس ہوا کہ اردو کی دنیا میں جغرافیائی فاصلے بہت معنی نہیں رکھتے۔ زبان کی محبت انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب لے آتی ہے۔
سیمینار کا ایک نہایت اہم اور یادگار مرحلہ اس وقت آیا جب سیمینار کے عنوان ہی سے مرتب کردہ کتاب ’’جنوبی ہند کے اردو غزل گو شعراء‘‘ کی رسمِ رونمائی عمل میں آئی۔
اس کتاب میں فی الحال 26 منتخب تحقیقی مقالات شامل کیے گئے ہیں۔ جب میں نے اس کتاب کو اپنے ہاتھ میں دیکھا اور اس میں اپنا نام اور اپنی تحریر دیکھی تو وہ احساس لفظوں میں بیان کرنا آسان نہیں۔
ایک محقق کے لیے اس سے بڑھ کر خوشی کیا ہو سکتی ہے کہ اس کی تحقیق کتابی صورت اختیار کرے اور اہلِ علم کے سامنے پیش کی جائے۔ میرے لیے یہ لمحہ اس پورے سفر کی سب سے قیمتی یادوں میں شامل ہو گیا۔
بعد میں ڈاکٹر رحمت اللہ صاحب نے بتایا کہ مزید 8 مقالات موصول ہوئے ہیں جنہیں شامل کرکے آئندہ اشاعت پر بھی کام کیا جائے گا۔ یہ اطلاع بھی میرے لیے خوش آئند تھی کہ اس علمی کوشش کا دائرہ مزید وسیع ہونے جا رہا ہے۔
عصر کے قریب، تقریباً تین بجے پروگرام کا اگلا مرحلہ شروع ہوا۔ یہ مرحلہ ان شخصیات کے اعترافِ خدمت کے لیے مختص تھا جنہوں نے تدریس اور اردو زبان و ادب کے میدان میں طویل عرصے تک خدمات انجام دی تھیں۔
عظیم اساتذہ کو Best Teacher Award اور Lifetime Achievement Award سے سرفراز کیا گیا۔ بزرگ اساتذہ کو عزت و احترام کے ساتھ اعزازات سے نوازتے دیکھ کر دل میں ایک بار پھر استاد کے مقام کا احساس تازہ ہوا۔
کسی زبان کی ترقی صرف کتابیں لکھنے سے نہیں ہوتی؛ اس کے پیچھے وہ استاد ہوتے ہیں جو نسل در نسل علم منتقل کرتے ہیں۔ ان کی خدمات کا اعتراف دراصل علم اور تدریس کے پورے شعبے کا احترام ہے۔
بعد ازاں تمام مقالہ نگاروں کی علمی کاوشوں کو بھی سراہا گیا۔ مقالہ نگاروں کی شال پوشی، گل پوشی اور سندِ شرکت سے حوصلہ افزائی کی گئی۔
جب میری باری آئی اور مجھے شال اڑھائی گئی اور سند سے نوازا گیا تو دل میں ایک عجیب کیفیت پیدا ہوئی۔ آنکھوں کے سامنے چنتامنی سے روانگی، بدلتی ہوئی بسیں، وقت کی فکر، پلمنیر پہنچنے کی جلدی، آٹو کا سفر اور پھر سیمینار ہال کا منظر سب ایک ایک کرکے آنے لگا۔
دل بے اختیار بارگاہِ الٰہی میں جھک گیا:
’’الحمدللہ ثم الحمدللہ!‘‘
یہ سند میرے لیے صرف کاغذ کا ایک ٹکڑا نہیں تھی بلکہ میرے پہلے آف لائن تحقیقی سفر کی یادگار تھی۔
پروگرام کا اگلا مرحلہ ایک خوب صورت اور معطر مشاعرے پر مشتمل تھا۔ حمد و نعت، غزل اور نظم کے مختلف رنگوں نے محفل کو ادبی فضا عطا کر دی۔ شعراء نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا اور مشاعرے میں شعر و سخن کی خوشبو بکھر گئی۔
لیکن میرے لیے اس مشاعرے کا سب سے خوش گوار پہلو کالج کے طلبہ و طالبات کی شرکت تھی۔ نوجوان طلبہ کو اردو زبان میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرتے دیکھنا دل کو بہت اچھا لگا۔ ایک طالبہ نے استاد کی شان میں نظم پیش کی، جبکہ دوسری طالبہ نے اردو زبان کی اہمیت پر نہایت خوب صورت اظہارِ خیال کیا۔
ان نوجوانوں کے لہجے میں اردو کے لیے محبت دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا۔ یہ منظر اس بات کی امید دلاتا ہے کہ اگر نئی نسل کو زبان سے جوڑا جائے، انہیں مواقع دیے جائیں اور ان کی حوصلہ افزائی کی جائے تو اردو کا مستقبل روشن رہ سکتا ہے۔
پورے دن کی اس علمی و ادبی سرگرمی میں ایک چیز نے مجھے خاص طور پر متاثر کیا اور وہ تھی منتظمین، اساتذہ اور طلبہ کا باہمی تعاون۔ ہر شخص اپنی ذمہ داری پوری کر رہا تھا۔ کوئی مہمانوں کی رہنمائی کر رہا تھا، کوئی اسٹیج کی کارروائی سنبھال رہا تھا، کوئی مقالہ نگاروں کی مدد کر رہا تھا اور طلبہ پوری ذمہ داری کے ساتھ انتظامات میں شریک تھے۔
سب کے چہروں پر مسکراہٹ تھی۔ اس پورے ماحول سے مجھے یہ احساس ہوا کہ کسی علمی پروگرام کی کامیابی صرف بڑے عنوان یا بڑے ناموں سے نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے بے شمار لوگوں کی خاموش محنت شامل ہوتی ہے۔
تقریباً ساڑھے پانچ بجے یہ یادگار تقریب اختتام پذیر ہوئی۔ میں نے تمام اساتذہ کا شکریہ ادا کیا اور بالخصوص ڈاکٹر آر۔ ایس۔ رحمت اللہ صاحب کی تہہ دل سے ممنون ہوئی جنہوں نے نہ صرف مجھے اس سیمینار میں مدعو کیا بلکہ پورے سفر کے دوران حوصلہ بھی دیا۔
کالج سے باہر نکلی تو ایک آٹو مل گیا۔ یہاں ایک اور چھوٹا سا واقعہ میرے سفر کی یادوں میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا۔
وہیں میری ملاقات ایک B.Ed کی طالبہ سے ہوئی۔ پلمنیر میں زیادہ تر لوگ تیلگو زبان بول رہے تھے، اس لیے میں نے اس طالبہ سے کنڑا اور پھر انگریزی میں گفتگو کی۔ میں نے اس سے اپنی اگلی سواری اور راستے کے بارے میں پوچھا تو اس نے بڑی محبت سے میری رہنمائی کی۔
اس سے بھی بڑھ کر اس کا خلوص اس وقت سامنے آیا جب اس نے میرے آٹو کا کرایہ خود ادا کرنے کی کوشش کی اور مجھ سے پیسے لینے سے منع کر دیا۔ افسوس کہ اس مصروف اور جلدی کے ماحول میں میں اس مہربان لڑکی کا نام تک نہ پوچھ سکی۔
لیکن نام یاد نہ رہنے کے باوجود اس کا خلوص میرے دل میں محفوظ ہو گیا۔ اجنبی شہر میں کسی اجنبی انسان کی چھوٹی سی مدد بھی کبھی کبھی پوری زندگی کی یاد بن جاتی ہے۔
تقریباً 5:45 بجے مجھے ہانگل جانے والی بس مل گئی۔ سارا دن مصروفیت میں گزرا تھا، اس لیے واپسی کا سفر نسبتاً پرسکون محسوس ہو رہا تھا۔ بس کچھ دیر بعد ایک ہوٹل پر رکی اور سفر دوبارہ شروع ہوا۔
اس پورے سفر کے دوران میں فون پر اپنے شوہر سے رابطے میں رہی اور دن بھر کی روداد ان سے شیئر کرتی رہی۔ میں انہیں بتاتی رہی کہ سیمینار کیسا رہا، مقالہ کیسے پیش ہوا، کتاب میں اپنا نام دیکھ کر کیسا محسوس ہوا، کس طرح شال پوشی ہوئی اور طلبہ و طالبات نے کیا پیش کیا۔
جسمانی تھکن ضرور تھی، لیکن دل کامیابی کی خوشی سے بھرا ہوا تھا۔ ایک طرف پورے دن کی مصروفیت تھی اور دوسری طرف یہ اطمینان کہ جس کام کے لیے اتنا سفر کیا تھا، وہ اللہ کے فضل سے بخیر و خوبی مکمل ہو گیا۔
تقریباً 8:45 بجے میں ہوسکوٹے پہنچی اور رات تقریباً 9 بجے اپنے گھر میں داخل ہوئی۔ یوں صبح چنتامنی سے شروع ہونے والا سفر رات کو گھر کی دہلیز پر مکمل ہوا۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ سفر ختم ہونے کے باوجود اس کے احساسات ختم نہیں ہوئے تھے۔ میرے ذہن میں اب بھی سیمینار ہال، پھولوں سے سجا اسٹیج، رنگولی، اہلِ علم کی گفتگو، مقالوں کی پیشکش، کتاب کی رونمائی، شال پوشی اور مشاعرے کی آوازیں گردش کر رہی تھیں۔
اس پورے سفر میں تقریباً 280 روپے کے قریب میرے اخراجات آئے۔ لیکن اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ 280 روپے میں مجھے کیا ملا؟ تو شاید اس کا جواب چند چیزوں کی فہرست سے نہیں دیا جا سکتا۔
مجھے ایک کالج کا کسٹمائزڈ بیگ ملا، ایک سند ملی، ایک شائع شدہ کتاب ملی جس میں میری علمی کاوش شامل تھی، لیکن ان سب سے بڑھ کر مجھے ملا اعتماد، تجربہ، حوصلہ، اہلِ علم کی دعائیں، نئی شناسائیاں اور بے شمار خوب صورت یادیں۔
یہ وہ سرمایہ ہے جس کی قیمت روپے پیسوں میں نہیں لگائی جا سکتی۔
گھر واپسی کے بعد جب میرے طلبہ و طالبات نے مجھ سے رابطہ کیا، میری کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا اور مجھے ’’میڈم‘‘ کہہ کر مبارک باد دی تو دل مزید خوش ہو گیا۔ ایک استاد کے لیے اس سے خوب صورت احساس کیا ہو سکتا ہے کہ اس کے طلبہ اس کی علمی کامیابی کو اپنی خوشی سمجھیں۔
اس سفر نے مجھے کئی باتیں سکھائیں۔ سب سے پہلی بات یہ کہ علم کا سفر ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ کبھی راستے لمبے ہوتے ہیں، کبھی وقت کم ہوتا ہے، کبھی بسیں بدلنی پڑتی ہیں اور کبھی اجنبی شہروں میں راستہ تلاش کرنا پڑتا ہے۔ لیکن اگر مقصد واضح ہو تو انسان راستے کی دشواریوں کو برداشت کر لیتا ہے۔
دوسری بات یہ کہ مواقع کا انتظار نہیں کرنا چاہیے؛ مواقع کو پہچاننا چاہیے۔ اگر میں صرف اس خوف کی وجہ سے پلمنیر نہ جاتی کہ راستہ دور ہے یا شاید میں وقت پر نہ پہنچ سکوں، تو شاید یہ خوب صورت تجربہ میری زندگی کا حصہ نہ بنتا۔
تیسری اور سب سے اہم بات یہ کہ استاد کی حوصلہ افزائی طالب علم کے اندر نئی طاقت پیدا کر سکتی ہے۔ اگر ڈاکٹر رحمت اللہ صاحب بار بار حوصلہ نہ دیتے اور شرکت پر اصرار نہ کرتے تو شاید میں اپنی ہچکچاہٹ پر قابو نہ پا پاتی۔ اسی طرح اپنے محترم استاد پروفیسر ڈاکٹر سید سجاد حسین صاحب کی موجودگی نے میرے لیے اس علمی سفر کو مزید معتبر بنا دیا۔
آج کے دور میں آن لائن ویبنارز اور سیمینارز علمی رابطے کا ایک اہم ذریعہ بن چکے ہیں۔ میں بھی اس سے قبل متعدد آن لائن علمی پروگراموں میں شرکت کر چکی ہوں۔ لیکن آن لائن شرکت اور کسی علمی محفل میں جسمانی طور پر موجود ہونے کا تجربہ بالکل مختلف ہے۔
آن لائن اسکرین کے دوسری طرف موجود شخص صرف ایک نام یا تصویر معلوم ہوتا ہے، جبکہ آف لائن محفل میں انسان اس کے چہرے کے تاثرات، گفتگو کا انداز، خلوص اور علمی شخصیت کو براہِ راست محسوس کرتا ہے۔ پلمنیر کا یہ سفر مجھے اسی فرق کا عملی تجربہ دے گیا۔
آج جب میں اس پورے سفر کو یاد کرتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ چنتامنی سے پلمنیر تک کا یہ سفر صرف چند گھنٹوں کی مسافت نہیں تھا۔ یہ دراصل خوف سے اعتماد تک، تذبذب سے فیصلے تک، تنہائی سے شناسائی تک اور ایک عام دن سے ایک یادگار دن تک کا سفر تھا۔
میں تہہ دل سے بارگاہِ الٰہی میں شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے علم و ادب کی اس محفل کا حصہ بننے کا موقع عطا کیا۔
میں بزمِ جاوید، SVCR گورنمنٹ ڈگری کالج پلمنیر، شعبۂ اردو اور بالخصوص ڈاکٹر آر۔ ایس۔ رحمت اللہ صاحب کی تہہ دل سے ممنون ہوں جنہوں نے مجھے اس علمی سفر کا حصہ بنایا اور ہر مرحلے پر حوصلہ دیا۔
اپنے محترم استاد پروفیسر ڈاکٹر سید سجاد حسین صاحب کی بھی دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہوں، جن کی موجودگی میرے لیے ہمیشہ حوصلے، رہنمائی اور علمی سرپرستی کا باعث رہی ہے۔
اگر میں یکم ستمبر کی صبح فاصلے، راستے، تاخیر اور تنہا سفر کے خوف سے قدم پیچھے ہٹا لیتی تو شاید میری علمی زندگی کا یہ خوب صورت باب کبھی نہ لکھا جاتا۔
سچ تو یہ ہے کہ مواقع ہمیشہ بڑے اعلان کے ساتھ نہیں آتے۔ کبھی وہ ایک چھوٹے سے پوسٹر کی صورت میں سامنے آتے ہیں، کبھی کسی استاد کی حوصلہ افزا بات کی شکل میں اور کبھی کسی اجنبی شہر کے سفر کی دعوت بن کر۔
ضرورت صرف اس بات کی ہوتی ہے کہ ہم اپنے تذبذب کا دروازہ کھولیں اور ایک قدم آگے بڑھا دیں۔

’’موقع کبھی ہاتھ جوڑ کر دستک نہیں دیتا،
بس سامنے آ کر کھڑا ہو جاتا ہے؛
ضرورت صرف اتنی ہوتی ہے کہ ہم تذبذب کا دروازہ کھولیں
اور قدم آگے بڑھا دیں۔‘‘
چنتامنی سے پلمنیر تک کا جسمانی سفر ختم ہو گیا، لیکن اس سفر کی سوندھی خوشبو، اہلِ علم کی دعائیں، استاد کی شفقت، اسٹیج کی شال پوشی، کتاب میں اپنا نام دیکھنے کی خوشی، طلبہ کی محبت، اجنبی طالبہ کا خلوص اور مشاعرے کی گونج میرے دل میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔
یہ سفر مجھے ہمیشہ یاد دلاتا رہے گا کہ علم کی راہ میں اٹھایا گیا ہر قدم، چاہے کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو، انسان کی علمی زندگی میں ایک بڑا سنگِ میل بن سکتا ہے۔
الحمدللہ ثم الحمدللہ!
یہ صرف چنتامنی سے پلمنیر تک کا سفر نہیں تھا۔
یہ میری علمی و ادبی زندگی کا ایک تاریخ ساز قدم تھا۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔