بزمِ غالب شولاپور کی جانب سے بزرگ شاعر و ادیب بشیر پرواز کی یاد میں تعزیتی جلسہ - 'بشیر پرواز شولاپور کے حقیقی مثالی استاذ تھے‘ — شہر قاضی -’بشیر پرواز کے انتقال سے اردو ادب میں بڑا خلا پیدا ہوا‘ — عرفان جعفری - ’شاعری کو جینے والے اور شاعری کی آبیاری کے لیے زندگی وقف کرنے والے تھے بشیر پرواز‘ — ہیم کرن پتکی
شولاپور، 6 ستمبر 2026: بزرگ اردو شاعر، مصنف، مدیر، ڈرامہ نگار اور بزمِ غالب شولاپور کے صدر جناب بشیر پرواز کے انتقال پر بزمِ غالب کی جانب سے ایک تعزیتی جلسے کا اہتمام کیا گیا۔ اسلاحی و فلاحی تنظیم کے صدر سید یعقوب علی خطیب کی صدارت میں منعقدہ اس جلسے میں اردو ادب و ثقافت سے وابستہ معزز شخصیات نے بشیر پرواز کی ادبی، تعلیمی اور سماجی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں پرخلوص خراجِ عقیدت پیش کیا۔
’بشیر پرواز شولاپور کے حقیقی مثالی استاذ تھے‘ — شہر قاضی :
شہر قاضی مفتی سید امجد علی قاضی نظامی نے بحیثیت استاد، بشیر پرواز کی خدمات کا شاندار الفاظ میں ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بشیر پرواز صرف ایک ادیب ہی نہیں تھے، بلکہ شولاپور کے تعلیمی میدان کے ایک مثالی استاد تھے۔ انہوں نے پروگریسو ہائی اسکول میں بحیثیت استاد طویل عرصہ تک خدمات انجام دیں اور 2002 میں سبکدوش ہوئے۔ بحیثیت استاد طلباء میں علم اور تہذیب کا چراغ روشن کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے بھی تاعمر کام کیا۔
’بشیر پرواز کے انتقال سے اردو ادب میں بڑا خلا‘ — عرفان جعفری :
ممبئی کے بزرگ اردو شاعر عرفان جعفری نے بشیر پرواز سے اپنے خاندانی اور ادبی تعلقات کی یادوں کو تازہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والد اور بشیر پرواز کے والد کے سولاپور سے پرانے اور گہرے تعلقات تھے۔ بشیر پرواز کے انتقال سے اردو ادب کی دنیا میں ایک بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے اور ان کے جانے سے شولاپور کی ادبی تحریک کو بھی بڑا نقصان پہنچا ہے۔
’شاعری کو جینے والے تھے بشیر پرواز‘ — ہیم کرن پتکی :
بزرگ مراٹھی شاعر ہیم کرن پٹکی نے بشیر پرواز کی شخصیت: بطور شاعر اور ادبی خادم، دونوں پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ بشیر پرواز صرف شعر کہنے والے شاعر نہیں تھے، بلکہ وہ شاعری کو جیتے تھے۔ شاعری کی آبیاری اور اردو ادب کی ترقی کے لیے انہوں نے اپنی پوری زندگی وقف کردی تھی۔ ان کے کام سے شولاپور کے ادبی ماحول کو مسلسل توانائی ملتی رہی۔
مقررین نے کہا کہ بشیر پرواز نے بزمِ غالب کے توسط سے شولاپور میں اردو ادبی تحریک کو مالا مال کرنے کے لیے زندگی بھر انتھک کوششیں کیں۔ شاعر، مصنف، مدیر اور ڈرامہ نگار کی حیثیت سے انہوں نے اردو ادب کے مختلف میدانوں میں قابلِ ذکر خدمات انجام دیں۔ ان کی ادبی خدمات اور تنظیمی کام کو اردو ادب کی دنیا میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
اس موقع پر موجود کئی معزز شخصیات نے بشیر پرواز کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور انہیں پرخلوص خراجِ عقیدت پیش کیا۔
اس تعزیتی جلسے میں ممبئی کے بزرگ اردو شاعر عرفان جعفری، مفتی سید امجد علی قاضی، بشیر پرواز کے فرزندان اطہر پرویز دولت آباد و نعمان دولت آباد، برادر میر افضل میر، ان کی صاحبزادیاں و اہلِ خانہ کے علاوہ، گلبرگہ سے چاند اکبر، مختار احمد دکنی، ایڈوکیٹ ارشد جنواڈکر، مولا علی لوکاپلی، محمد حسین بخشی، ناصر الدین آلندکر، یوسف عالم صدیقی، عبد الشکور شعور، عبد الغفار شیخ، ڈاکٹر ہارون رشید باغبان، عرفان کاریگر، ساحر نداف، راجا باغبان، سید اقبال، جعفر بانگی، ایڈوکیٹ بانگی، محمد رفیع خان، طالب سولاپوری، اشفاق ساتکھیڑ، وجاہت عبد الستار، حبیب ناگپوری، شادان پیتاپوری، رفیع نواز، وقار شیخ، مزمل شیخ، اسحاق باٹگر، محمود نواز جاگیردار، عرفان لالكوٹ، ڈاکٹر زین الدین پٹیل، مبین بیجاپورے، زین الدین مُلّا، رفیع نواز، عبد الرحمن شیخ، فہیم نیکواڑی، فہیم باٹگھر اور ڈاکٹر عبدالرشید شیخ وغیرہ سمیت اردو زبان و ادب سے وابستہ کئی ادباء، شعراء، مصنفین اور ادب دوست حضرات موجود تھے۔
پروگرام کی نظامت ڈاکٹر آصف اقبال شیخ نے کی۔ افتتاحی کلمات ڈاکٹر ہارون رشید باغبان نے پیش کیے۔ ناصر الدین اشرفی نے نعتِ پاک کا نذرانہ پیش کیا، جبکہ میر افضل میر نے مناجات پیش کی۔ آخر میں محمد حسین بخشی نے شکریہ ادا کیا۔
واضح رہے کہ بتاریخ 4 ستمبر 2026 کو بشیر پرواز کا انتقال ہوا۔ وہ 82 سال کے تھے۔ ان کے انتقال سے سولاپور کے اردو ادب، تعلیم اور ثقافتی میدان میں پیدا ہونے والا خلا ایک طویل عرصے تک محسوس کیا جاتا رہے گا۔
Comments
Post a Comment