معروف ادیب و شاعر بشیر پرواز کا انتقال - بزمِ غالب شولاپور کے صدر کی رحلت؛ ادبی و تعلیمی حلقوں میں غم کی لہر


شولاپور، 4 ستمبر 2026: (صدائے مہاراشٹر ) شولاپور کے معروف ادیب، استاد شاعر، نقاد، صحافی، ڈراما نگار اور معلم بشیر پرواز، صدرِ بزمِ غالب شولاپور، آج انتقال کرگئے۔ ان کے انتقال کی خبر سے شولاپور کے ادبی، تعلیمی اور سماجی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔
اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔
مرحوم کی میت ان شاء اللہ آج 4 ستمبر 2026ء ، بعد نمازِ جمعہ ان کی رہائش گاہ، نیو پاچھا پیٹھ، تاج میڈیکل، پاتھروڈ چوک کے قریب سے روانہ ہوگی اور جڑے صاحب قبرستان، شولاپور میں تدفین عمل میں آئے گی۔
مرحوم بشیر پرواز کا اصل نام بشیر احمد عبدالقادر دولت آبادی تھا۔ وہ 20 دسمبر 1944ء کو شولاپور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد معروف شخصیت عبدالقادر لاڈلے صاحب دولت آبادی (قدیر شولاپوری) اور والدہ کریم النساء تھیں۔ انہوں نے ایم۔اے اُردو اور بی۔ایڈ تک تعلیم حاصل کی اور طویل عرصے تک دی پروگریسیو اُردو ہائی اسکول میں درس و تدریس سے وابستہ رہے۔ 2002ء میں وظیفۂ ملازمت پر سبکدوش ہوئے۔
بشیر پرواز کو اردو شعر و ادب سے گہری وابستگی تھی۔ مطالعہ، تصنیف و تالیف ان کے محبوب مشاغل تھے۔ شاعری، تنقید، ڈراما نویسی اور صحافت ان کی ادبی دلچسپیوں کے نمایاں میدان تھے۔ ان کی پہلی تخلیق 1971ء میں ماہنامہ ’’سب رس‘‘ میں شائع ہوئی۔ ان کی مطبوعہ تصانیف میں ’’خیال‘‘ (مجموعۂ کلام، 2011ء) اور ’’آموزگار‘‘ (اردو زبان و ادب سے متعلق عام معلومات) شامل ہیں۔
مرحوم کی ادبی و تعلیمی خدمات کے اعتراف میں انہیں مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی، ممبئی کی جانب سے ادبی و تعلیمی ایوارڈ، کل ہند اردو ادبی کانفرنس، شولاپورکی جانب سے تعلیمی ایوارڈ اور لائنس کلب آف شولاپور کی جانب سے ادبی ایوارڈ سے نوازا گیا۔
بشیر پرواز نہ صرف ایک صاحبِ مطالعہ اور صاحبِ اسلوب شاعر تھے بلکہ نئی نسل کی علمی و ادبی تربیت کے لیے بھی ہمیشہ کوشاں رہے۔ ان کی شخصیت شولاپور کے اردو ادبی منظرنامے میں ایک فعال اور معتبر نام کی حیثیت رکھتی تھی۔ "بزمِ غالب شولاپور" کے صدر کی حیثیت سے انہوں نے اردو زبان و ادب کی ترویج و اشاعت میں اہم کردار ادا کیا۔
ان کے کلام میں زندگی، کردار، مزاحمت اور عزم کی جھلک نمایاں ہے۔ ان کا یہ شعر ان کے فکری مزاج کی بھرپور عکاسی کرتا ہے:

اس تیز رو زمانے کو رفتار پیش کر
کچھ خون میں ڈوبے ہوئے پندار پیش کر
کربل کی سرخ ریت سے آتی ہے یہ صدا
تلوار مقابل ہو تو کردار پیش کر

مرحوم اپنے پیچھے اہلیہ، دو فرزندان اور دو دختران سمیت سوگوار خاندان چھوڑ گئے ہیں۔
ادبی و تعلیمی حلقوں نے بشیر پرواز کے انتقال کو اردو ادب کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور تمام پسماندگان، اہلِ خانہ، احباب اور متعلقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔