موہن بھاگوت کا چھکا: بی جے پی کے لیے سوالات کی نئی اننگز - سید فاروق احمد قادری۔
موہن بھاگوت کا چھکا: بی جے پی کے لیے سوالات کی نئی اننگز -
سید فاروق احمد قادری۔
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت کا امریکہ کے شہر نیویارک میں دیا گیا حالیہ بیان ہندوستان کی سیاست میں ایک نئی بحث کا سبب بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو ہندو یہ سمجھتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے، وہ ان کی نظر میں ہندو ہی نہیں ہے۔
یہ بیان بلاشبہ اہم ہے۔ ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں کے لوگ صدیوں سے ساتھ رہتے آئے ہیں۔ اس لیے اگر آر ایس ایس کے سربراہ خود یہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو ہندوستان سے الگ نہیں کیا جا سکتا تو اس پیغام کا خیرمقدم ہونا چاہیے۔
لیکن اصل سوال یہ ہے کہ یہ بات امریکہ میں کیوں؟ ہندوستان میں کیوں نہیں؟
سپریم کورٹ کے معروف وکیل کپل سبل نے بھی اسی پہلو کی طرف توجہ دلائی کہ اگر ہندوستان کی تکثیریت اور مسلمانوں کے ساتھ رہنے کی بات کرنی ہے تو یہ پیغام ہندوستان میں بھی اسی وضاحت کے ساتھ دیا جانا چاہیے۔ اپوزیشن کے کئی رہنماؤں، جن میں راہل گاندھی اور شیوسینا کے سنجے راؤت بھی شامل ہیں، نے بھاگوت کے بیان پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا بنیادی اعتراض یہی ہے کہ بیرونِ ملک ہندوستان کی ایک تصویر پیش کی جاتی ہے، جبکہ ملک کے اندر سیاسی ماحول پر مختلف سوالات موجود ہیں۔
یہاں ایک بنیادی بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بھاگوت کا یہ کہنا کہ ’’جو شخص مسلمانوں کے ہندوستان میں رہنے کے خلاف ہے، وہ میری نظر میں ہندو ہی نہیں‘‘ دراصل ہندو سماج کے اندر بھی ایک واضح پیغام ہے کہ ہندوستان کی شناخت کو مسلمانوں سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ اصول درست ہے تو ہندوستان کی سیاست اور زمینی حالات میں بھی اس کا عکس کیوں نظر نہیں آنا چاہیے؟
گزشتہ بارہ برسوں میں مسلمانوں سے متعلق کئی ایسے واقعات سامنے آئے جن پر ملک بھر میں بحث ہوئی۔ بلڈوزر کارروائیوں، ہجومی تشدد اور لنچنگ، مذہبی مقامات کے تنازعات، فرقہ وارانہ کشیدگی اور مذہبی شناخت کی بنیاد پر ہونے والی سیاست نے اقلیتوں کے درمیان تشویش پیدا کی۔
بلڈوزر کارروائیوں کے معاملے میں تو سپریم کورٹ کو بھی مداخلت کرتے ہوئے قانونی طریقۂ کار اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ پر زور دینا پڑا۔ سوال یہ نہیں کہ غیرقانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔
اگر مسلمان بھی ہندوستانی شہری ہیں تو ان کے گھر، کاروبار، عبادت گاہ، جان و مال اور عزت بھی اسی طرح محفوظ ہونی چاہیے جیسے کسی دوسرے شہری کی۔
یہاں سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے سیاسی انداز کو بھی یاد کیا جاتا ہے۔ وہ مختلف طبقات سے ملاقات کرتے تھے، مسلمانوں سے بھی رابطہ رکھتے تھے اور عید جیسے مواقع پر مسلم برادری کے درمیان جاتے تھے۔ اختلافِ رائے کے باوجود سماجی رابطے اور سیاسی مکالمے کو اہمیت دینا ان کے اندازِ سیاست کا حصہ تھا۔
آج سوال یہ ہے کہ کیا ہندوستانی سیاست دوبارہ اسی وسیع سوچ کی طرف واپس آ سکتی ہے؟
وزیر اعظم نریندر مودی جب عرب اور مسلم ممالک کے دورے کرتے ہیں تو وہاں کے سربراہان سے ملاقات کرتے ہیں، گلے ملتے ہیں اور ہندوستان کے دوستانہ تعلقات کا پیغام دیتے ہیں۔ سفارتی تعلقات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ہندوستان کے اندر رہنے والے عام مسلمان کا سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے:
جو احترام اور دوستی بیرونِ ملک دکھائی دیتی ہے، وہی احساس ہندوستان کے اندر بھی کیوں نہ دکھائی دے؟
نیویارک کے میئر زوہرن ممدانی کی طرف سے بھی بھاگوت کے پروگرام اور آر ایس ایس کی نظریاتی سمت پر اعتراضات سامنے آئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس ماحول میں آر ایس ایس پر تنقید ہوئی، اسی امریکہ میں بھاگوت نے مسلمانوں کے ہندوستان میں رہنے کے حق اور ملک کی تکثیری شناخت کی بات کی۔
یہ تضاد ہی آج کی سیاست کا بڑا سوال بن گیا ہے۔
لیکن ہندوستان کے سامنے صرف ہندو مسلم مسئلہ ہی نہیں ہے۔ منی پور بھی ہمارے سامنے ایک بڑا سوال بن کر کھڑا ہے۔ وہاں کئی برس سے نسلی اور قبائلی کشیدگی، تشدد اور بے گھر ہونے کا مسئلہ جاری ہے۔ اسے ہندو مسلم تنازع قرار دینا درست نہیں، مگر یہ ضرور پوچھا جا سکتا ہے کہ اگر ہندوستان سب کو ساتھ لے کر چلنے والا ملک ہے تو پھر منی پور کے زخم کب بھریں گے؟ وہاں کے بے گھر خاندان کب اپنے گھروں کو واپس جائیں گے؟ اور امن کب مستقل طور پر قائم ہوگا؟
یہ سوال کسی ایک جماعت کے خلاف نہیں، بلکہ پورے ملک کے ضمیر سے ہے۔
ہندوستان صرف تقریروں سے سب کا ملک نہیں بنتا؛ ہندوستان تب سب کا ملک بنتا ہے جب ہر شہری کو برابر کا احترام، تحفظ اور انصاف ملے۔
موہن بھاگوت کا نیویارک میں دیا گیا بیان اگر واقعی ایک نئی سوچ کا آغاز ہے تو اس کا خیرمقدم ہونا چاہیے۔ لیکن اس سوچ کی اصل آزمائش امریکہ نہیں، ہندوستان ہے۔
بات امریکہ میں کہنے کی نہیں، ہندوستان میں کرکے دکھانے کی ہے۔
اگر کوئی ہندو مسلمانوں کو ہندوستان سے نکالنے کی سوچ رکھتا ہے تو بھاگوت صاحب کے مطابق وہ ہندو ہی نہیں۔ تو پھر اس پیغام کو ہندوستان کے اندر بھی پوری قوت سے پھیلانے کی ضرورت ہے کہ مسلمان اس ملک کے برابر کے شہری ہیں، ہندوستان کی تاریخ اور تہذیب کا حصہ ہیں اور ان کے بغیر ہندوستان کی تصویر مکمل نہیں۔
اپوزیشن سوال اٹھاتی رہے، حکومت جواب دیتی رہے، آر ایس ایس اپنی وضاحت پیش کرے—یہ جمہوریت کا حسن ہے۔ لیکن اس سیاسی بحث کا آخری مقصد نفرت نہیں بلکہ امن، انصاف اور بھائی چارہ ہونا چاہیے۔
آخر میں سوال بہت سادہ ہے:
اگر ہندوستان سب کا ہے تو یہ بات نیویارک میں بھی کہیے اور ہندوستان میں بھی۔
اور اگر مسلمانوں کے ہندوستان میں رہنے کو ہندو سوچ کے خلاف نہیں سمجھا جاتا، تو پھر ہندوستان کے ہر مسلمان کو بھی اپنے وطن میں یہ احساس ہونا چاہیے کہ:
’’یہ ملک میرا بھی ہے، میری عزت بھی محفوظ ہے، میری جان بھی محفوظ ہے اور میرے حقوق بھی اتنے ہی ہیں جتنے کسی دوسرے ہندوستانی کے۔‘‘
یہی ہندوستان کی اصل طاقت ہے، اور یہی ہندوستان کی خوبصورتی بھی۔
Comments
Post a Comment