عالمی خواندگی دن (8 ستمبر) از قلم عثمان احمد عمرکھیڑ ضلع ایوت محل


عالمی خواندگی دن (8 ستمبر) از قلم عثمان احمد عمرکھیڑ ضلع ایوت محل 

​ تعلیم، مساوات، ترقی اور خوشحالی کی ضامن
​ہر سال 8 ستمبر کو دنیا بھر میں بین الاقوامی / عالمی خواندگی دن (International Literacy Day) کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد دنیا بھر کے انسانوں کو تعلیم و خواندگی کی اہمیت سے روشناس کرانا، جہالت کا خاتمہ کرنا، اور سماج کے ہر فرد تک علم کی روشنی پہنچانا ہے۔ خواندگی کسی بھی انسان کی ذاتی، سماجی اور معاشی ترقی کی بنیادی کنجی ہے۔ یہ صرف حروف خوانی یا لکھنے کا نام نہیں بلکہ انسان کو شعور، فکر اور سوجھ بوجھ عطا کرنے کا ذریعہ ہے۔
​علم ہی حقیقی طاقت ہے
​انسان کی حقیقی طاقت اس کا مال و زر نہیں بلکہ اس کا علم ہے۔ علم انسان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے اور صحیح و غلط کے درمیان تمیز سکھاتا ہے۔ عظمیٰ و برتر مفکر ساوتری بائی پھولے کا یہ قول خواندگی کی حقیقی روح کو بیان کرتا ہے:
​"تعلیم ہی حقیقی طاقت ہے، تعلیم سے ہی معاشرہ بدلتا ہے، تعلیم یافتہ ہوں، ترقی کریں، یہی سچے معنوں میں ملک کی خدمت ہے!"
— ساوتری بائی پھولے
​ایک تعلیم یافتہ فرد نہ صرف اپنا بلکہ اپنے پورے خاندان، قوم اور معاشرے کا مستقبل روشن کرتا ہے۔
​تعلیم (Education): انسانی فہم و شعور کو بیدار کرنا اور فکر و تدبر کے نئے راستے کھولنا۔
​علم (Knowledge): جہالت، توہم پرستی اور ناخواندگی کا خاتمہ کر کے سچائی کی راہ دکھانا۔
​مساوات (Equality): سماجی نابرابری، اونچ نیچ اور تفریق کو ختم کر کے برابر کے مواقع فراہم کرنا۔
​ترقی (Progress): انفرادی، سماجی اور قومی سطح پر کامیابی کے مراحل طے کرنا۔
​خوشحالی (Prosperity): معاشی استحکام، روزگار کے مواقع اور بہتر معیارِ زندگی کا حصول۔
​پڑھیں... سیکھیں... آگے بڑھیں!
​تعلیم کا عمل زندگی بھر جاری رہنے والا سفر ہے۔ اس کے تین اہم مراحل ہیں: پڑھیں، سیکھیں اور آگے بڑھیں۔
​پڑھیں: مطالعہ کی عادت اپنائیں اور نئی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
​سیکھیں: جو کچھ پڑھا ہے اسے عملی زندگی میں نافذ کریں اور نئی مہارتیں (skills) حاصل کریں۔
​آگے بڑھیں: علم و مہارت کی بدولت زندگی کی منزلیں طے کریں اور معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔
​بچپن سے ہی بچوں میں مطالعے کی رغبت پیدا کرنا اور ان کی مناسب رہنمائی کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
​خوشحال بھارت کی تعمیر میں تعلیم کا کردار
​کسی بھی ملک کی ترقی کا انحصار اس کے شہریوں کی خواندگی کی شرح پر ہوتا ہے۔ اگر ہم ایک خوشحال، مضبوط اور جدید بھارت کی تعمیر چاہتے ہیں تو ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ہر بچے اور فرد کی زندگی میں تعلیم کا چراغ ہمیشہ روشن رہے۔ تعلیم یافتہ قومیں ہی سائنسی، تکنیکی، معاشی اور ثقافتی میدانوں میں عالمی سطح پر اپنے ملک کا نام روشن کرتی ہیں۔
​"ہر کسی کی زندگی میں تعلیم کا چراغ ہمیشہ روشن رہے، سب تعلیم یافتہ ہوں، تعلیم یافتہ اور خوشحال بھارت کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالیں، یہی نیک خواہش ہے!"
​عالمی خواندگی دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تعلیم ہر فرد کا بنیادی اور مسلمہ حق ہے اور اسے عام کرنا ہم سب کی مشترکہ سماجی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔ بطور اساتذہ، والدین اور ذمہ دار شہری ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اسکولوں، محلو ں اور معاشرے میں تعلیم کا سازگار ماحول پیدا کریں تاکہ کوئی بھی بچہ یا فرد علم کی روشنی سے محروم نہ رہے
ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم کا حاصل کرنا ہر مرد اور عورت پر فرض قرار دیا ہے

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔