ریٹائر ہونے والے ملازمین کی اضافی سالانہ تنخواہ میں اضافے کا مسئلہ — حکومت واضح حکم جاری کرے - حوالہ: بمبئی ہائی کورٹ، اورنگ آباد بینچ، رٹ پٹیشن نمبر - 8740/2026، مورخہ - 06/08/2026سید فاروق احمد قادری۔
ریٹائر ہونے والے ملازمین کی اضافی سالانہ تنخواہ میں اضافے کا مسئلہ — حکومت واضح حکم جاری کرے -
حوالہ: بمبئی ہائی کورٹ، اورنگ آباد بینچ، رٹ پٹیشن نمبر - 8740/2026، مورخہ 06/08/2026
سید فاروق احمد قادری۔
سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ، پنشن اور آخری تنخواہ سے متعلق معاملات میں چھوٹی سی انتظامی غلطی بھی ریٹائر ہونے والے ملازم کے لیے بڑی پریشانی بن جاتی ہے۔ خاص طور پر ان ملازمین کا مسئلہ اہم ہے جو ہر سال 30 جون یا 31 دسمبر کو ریٹائر ہوتے ہیں اور جن کے معاملے میں ایک اضافی سالانہ انکریمنٹ کے حق کا سوال پیدا ہوتا ہے۔
اس سلسلے میں حکومت کی طرف سے احکامات اور قواعد موجود ہونے کے باوجود عملی سطح پر صورتِ حال ہر جگہ یکساں نظر نہیں آتی۔ بعض ملازمین کو اپنا حق حاصل کرنے کے لیے محکمہ، دفتر اور آخرکار عدالت کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ اس عمل میں ریٹائرڈ ملازم کا وقت، پیسہ اور ذہنی سکون متاثر ہوتا ہے۔
اصل ضرورت یہ ہے کہ حکومت اس معاملے میں ایک واضح، جامع اور غیر مبہم حکومتی فیصلہ (GR) جاری کرے، جس میں صاف الفاظ میں بتایا جائے کہ کن شرائط کے تحت 30 جون یا 31 دسمبر کو ریٹائر ہونے والے ملازمین کو اضافی انکریمنٹ کا فائدہ دیا جائے گا، اس کا اطلاق کن ملازمین پر ہوگا اور محکمہ خزانہ و متعلقہ دفاتر کو اس پر کس طریقے سے عمل کرنا ہوگا۔
اگر کسی ملازم کے حق میں عدالت کا فیصلہ آتا ہے تو اس فیصلے کا فائدہ صرف ایک فرد تک محدود رہنے کے بجائے، جہاں قانوناً ایک جیسی صورتِ حال ہو، وہاں متعلقہ ملازمین کے معاملات کو بھی واضح طریقے سے نمٹانے کا انتظام ہونا چاہیے۔ اس سے غیر ضروری مقدمات کم ہوں گے اور سرکاری محکموں پر بھی اضافی قانونی بوجھ نہیں پڑے گا۔
ریٹائرمنٹ کے بعد ایک ملازم اپنی زندگی کی جمع پونجی، پنشن اور واجبات پر انحصار کرتا ہے۔ اس لیے پنشن، انکریمنٹ اور دیگر مالی حقوق کے معاملے میں دفتری ابہام ختم کرنا حکومت اور انتظامیہ دونوں کی ذمہ داری ہے۔
ایک اور اہم مسئلہ سروس بک اور سروس ریکارڈ کا ہے۔ ملازم کی پوری ملازمت کا ریکارڈ درست اور مکمل ہونا چاہیے تاکہ ریٹائرمنٹ کے وقت معمولی ریکارڈ کی کمی کی وجہ سے اس کے مالی حقوق نہ رکیں۔ خاص طور پر کرونا کے وقت کا پینڈنگ ڈی اے ابھی تک ملازم ہے کہ اکاؤنٹ میں ایا نہیں جو 18 ماہ کا ہے اس تعلق سے حکومت نے اپنے طور پر احکام جاری نہیں کی جب کہ اس وقت عوام کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا معاملات غیر معمولی صورتِ حال سے متاثر ہوئے، ان کی بھی واضح طریقے سے جانچ اور تکمیل ضروری ہے۔
یہ مسئلہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ ان تمام ریٹائرڈ اور سبکدوش ہونے والے ملازمین کا ہے جو اپنی پوری ملازمت سرکار کی خدمت میں گزارنے کے بعد اپنے جائز مالی حقوق کے منتظر رہتے ہیں۔
حکومت اگر اس معاملے میں ایک واضح اور جامع GR جاری کر دے اور تمام متعلقہ محکموں کو یکساں عمل درآمد کی ہدایت دے، تو بہت سے ملازمین کو الگ الگ درخواستیں، نمائندگی اور مقدما
Comments
Post a Comment