اردو اکادمی میں اصلاحات اور شفافیت کا مطالبہ - سکریٹری محکمہ اقلیتی ترقیات کو 7 نکاتی عرضداشت، بھیونڈی میں اردو گھر کے قیام کا مطالبہ


اردو اکادمی میں اصلاحات اور شفافیت کا مطالبہ - 
سکریٹری محکمہ اقلیتی ترقیات کو 7 نکاتی عرضداشت، بھیونڈی میں اردو گھر کے قیام کا مطالبہ

ممبئی، 29 ستمبر 2026 (نمائندہ خصوصی) : اردو زبان و ادب کے تحفظ، فروغ اور سرکاری اردو اداروں کو فعال بنانے کے مطالبے کو لے کر اردو کارواں ممبئی کے صدر فرید احمد خان کی قیادت میں ممبئی اور مہاراشٹر کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے شعراء، ادباء، اساتذہ، ماہرینِ تعلیم اور اردو تنظیموں کے نمائندوں کے ایک وفد نے منترالیہ میں محکمہ اقلیتی ترقیات، حکومتِ مہاراشٹر کی سکریٹری ڈاکٹر مادھوی کھوڑے چورے سے ملاقات کی۔ وفد نے اردو اکادمی اور اردو گھروں سے متعلق 7 نکاتی مفصل تحریری عرضداشت پیش کی اور مختلف مسائل پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔
وفد نے مطالبہ کیا کہ مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکادمی کے کارگزار صدر اور 12 رکنی گورننگ باڈی کا فوری تقرر حکومت کے اپنے 29 اکتوبر 2025 کے شاسن نرنے (GR) کے مطابق کیا جائے۔ وفد نے کہا کہ اکادمی کی سرگرمیوں کو باقاعدہ اور جواب دہ بنانے کے لیے منتخب باڈی کا وجود ضروری ہے۔
وفد نے اکادمی کی 2016 کی پالیسی کا ازسرنو جائزہ لینے اور موجودہ دور کی ضرورتوں کے مطابق جدید پروگرام شروع کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ خاص طور پر SSC اور HSC میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے اردو میڈیم اور اردو مضمون کے طلبہ کے لیے ریاستی سطح پر ’گُڻونت ودیارتھی ستکار‘ پروگرام جبکہ صحافت، ترجمہ اور تحقیق کے طلبہ کے لیے اسکالرشپ شروع کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔
عرضداشت میں اکادمی کے ایوارڈز اور مالی امداد کی تقسیم میں شفافیت کا مسئلہ بھی اٹھایا گیا۔ وفد نے مطالبہ کیا کہ اکادمی کی تشکیل نو تک ایوارڈز کی تقسیم پر غور کیا جائے اور ضرورت پڑنے پر 2019 سے اب تک دیے گئے ایوارڈز اور مالی امداد کا محکمانہ جائزہ لیا جائے۔ مستقبل میں ایوارڈز کے لیے واضح اہلیت، شفاف انتخابی طریقۂ کار اور پورے اردو بیلٹ، بشمول مراٹھواڑہ، ودربھ، کوکن اور شمالی مہاراشٹر کو مناسب نمائندگی دینے کا مطالبہ کیا گیا۔
ناندیڑ، شولاپور اور مالیگاؤں کے اردو گھروں کی موجودہ صورتحال کا خصوصی سروے کرانے کا مطالبہ بھی وفد نے کیا، تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ ان مراکز میں اردو کی سرگرمیاں کس حد تک جاری ہیں اور سرکاری فنڈز کا استعمال کس طرح ہورہا ہے۔
وفد نے خاص طور پر بھیونڈی میں نئے اردو گھر کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں اردو بولنے والی بڑی آبادی موجود ہونے کے باوجود کوئی سرکاری اردو ثقافتی مرکز نہیں ہے۔ حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ اردو گھر کی تعمیر میں حائل رکاوٹیں دور کرکے اس منصوبے کو جلد عملی شکل دی جائے۔
وفد نے ریاست میں اردو زبان سے متعلق سرکاری اداروں، اردو گھروں اور مختلف اسکیموں کا جامع آڈٹ اور وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا، تاکہ گزشتہ برسوں کے کام اور اخراجات کی شفاف تصویر سامنے آسکے۔
اس موقع پر فرید احمد خان نے کہا کہ ”ہم حکومت کے خلاف نہیں بلکہ اردو کے نظام میں اصلاح اور اسے مزید فعال بنانے کا مطالبہ لے کر آئے ہیں۔ سرکاری وسائل کا فائدہ عام اردو طالب علم، استاد، ادیب اور اردو سے وابستہ افراد تک پہنچنا چاہیے۔“
نیو فیوچر فاؤنڈیشن کے شکیل انصاری نے 9 نومبر کو عالمی یومِ اردو کے موقع پر ریاستی سطح پر بڑے پروگرام کے انعقاد کی تجویز بھی پیش کی۔
سکریٹری محکمہ اقلیتی ترقیات ڈاکٹر مادھوی کھوڑے چورے نے وفد کی جانب سے پیش کیے گئے نکات کو غور سے سنا اور مناسب کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔
وفد میں اردو کارواں کے نائب صدر شعیب ابجی، اردو مرکز کے ڈائریکٹر ایڈووکیٹ زبیر اعظمی، مشیر انصاری (اردو گگن سنستھا)، شکیل انصاری (نیو فیوچر فاؤنڈیشن)، توصیف کاتب (بزم احباب فاؤنڈیشن)،شاکر شیخ اور عبد الحسیب بھاٹکر جماعت اسلامی ہند،محمود حکیمی (قومی صدر، پوزیٹو چینج فاؤنڈیشن)، مختار عدیل (صحافی، مالیگاؤں)، نبیل الزماں، قمر ناز (ضلع بیڑ)، اقبال کو چالی (اردو معلم، نوی ممبئی) اور معاویہ سنیسرا سمیت دیگر افراد شامل تھے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔