صفر سے 312 تک: کرناٹک میں اردو اساتذہ کی بھرتی کا سوال اور اردو میڈیم کا مستقبل۔از قلم: تحسینہ ماوینکٹی (تاشہ رانی بنوری)
صفر سے 312 تک: کرناٹک میں اردو اساتذہ کی بھرتی کا سوال اور اردو میڈیم کا مستقبل۔
از قلم: تحسینہ ماوینکٹی (تاشہ رانی بنوری)
ای-میل: tahasinanm@gmail.com
کرناٹک میں اردو اساتذہ کی بھرتی کا معاملہ ایک بار پھر نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔ چند ماہ قبل جب ریاستی حکومت کی جانب سے تقریباً 15 ہزار اساتذہ کی بھرتی کا عمل شروع کرنے کی اطلاع سامنے آئی اور ابتدائی نوٹیفکیشن جاری ہوا تو اردو، ہندی اور مراٹھی ذریعۂ تعلیم سے وابستہ امیدواروں کے لیے سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ تھی کہ اس ابتدائی بھرتی میں ان زبانوں کے لیے ایک بھی آسامی نظر نہیں آئی۔ یہ صورتِ حال صرف ملازمت کے خواہش مند امیدواروں کے لیے مایوس کن نہیں تھی بلکہ اس نے اردو میڈیم سرکاری اسکولوں میں زیرِ تعلیم طلبہ کے تعلیمی مستقبل کے حوالے سے بھی کئی سنجیدہ سوالات پیدا کر دیے۔ [3]
اس صورتحال کے خلاف مختلف سطحوں پر آوازیں بلند ہوئیں۔ نمائندہ وفود نے متعلقہ حکام سے ملاقاتیں کیں، احتجاج اور مطالبات سامنے آئے اور معاملہ قانونی سطح تک بھی پہنچا۔ اگست 2026 میں اردو اور دیگر لسانی اقلیتی اسکولوں سے متعلق اساتذہ کی بھرتی کے مسئلے کو کرناٹک ہائی کورٹ کے سامنے بھی اٹھایا گیا۔ عدالت سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ لسانی اقلیتی ذریعۂ تعلیم کے اسکولوں کو اساتذہ کی بھرتی کے عمل میں نظرانداز نہ کیا جائے۔ اس معاملے میں عدالت نے ریاستی حکومت سے وضاحت بھی طلب کی، اگرچہ جاری بھرتی کے عمل پر مکمل روک عائد نہیں کی گئی۔ [3]
اس کے بعد اردو سے وابستہ حلقوں میں امید کی ایک بڑی کرن اس وقت پیدا ہوئی جب کرناٹک حکومت کی جانب سے اردو کے لیے 800 اور مراٹھی کے لیے 200 اساتذہ کی بھرتی کو منظوری دیے جانے کی خبریں سامنے آئیں۔ یہ خبر ان امیدواروں کے لیے یقیناً حوصلہ افزا تھی جو طویل عرصے سے سرکاری اردو اساتذہ کی مستقل بھرتی کے منتظر ہیں۔ برسوں سے خالی تدریسی آسامیوں، اردو میڈیم اسکولوں میں اساتذہ کی کمی اور نئی نسل کے تعلیمی مستقبل کو دیکھتے ہوئے 800 اردو اساتذہ کی بھرتی کی خبر محض ایک روزگار کی خبر نہیں بلکہ اردو میڈیم تعلیم کے لیے ایک اہم پیش رفت سمجھی گئی۔ [2]
لیکن اصل امتحان کسی بھی سرکاری اعلان کے بعد اس کے عملی نفاذ کا ہوتا ہے۔ اب 14 ستمبر 2026 کو سامنے آنے والی تازہ اطلاع نے اس پورے معاملے کو ایک نئے سوال کے سامنے کھڑا کر دیا ہے۔ تازہ رپورٹ کے مطابق 15 ہزار کے قریب اساتذہ کی بھرتی کے پہلے مرحلے میں 312 اردو اساتذہ کی آسامیوں کو شامل کیا جا رہا ہے، جبکہ 800 اردو اساتذہ کی مکمل بھرتی کی تجویز اور اس کے لیے مزید کارروائی کی بات بھی سامنے آئی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ متعلقہ قواعد میں ترمیم کے لیے گزٹ نوٹیفکیشن متوقع ہے اور اس کے بعد مقررہ مدت میں اعتراضات اور تجاویز پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ [1]
یہاں ایک بنیادی اور فطری سوال پیدا ہوتا ہے: اگر اردو کے لیے 800 اساتذہ کی بھرتی کی منظوری کی بات سامنے آچکی ہے تو پہلے مرحلے میں 312 آسامیوں کا شامل ہونا کس بنیاد پر ہے؟ باقی 488 آسامیوں کا کیا ہوگا؟ کیا انہیں دوسرے مرحلے میں یقینی طور پر پُر کیا جائے گا؟ اگر ہاں تو اس کا سرکاری شیڈول کیا ہے؟ کیا ان آسامیوں کے لیے الگ نوٹیفکیشن جاری ہوگا یا موجودہ عمل ہی کے کسی اگلے مرحلے میں انہیں شامل کیا جائے گا؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب حکومت کی جانب سے واضح اور تحریری طور پر سامنے آنا ضروری ہے، تاکہ امیدواروں اور اردو میڈیم اسکولوں سے وابستہ والدین و اساتذہ میں موجود بے یقینی ختم ہو۔
یہاں یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ 312 آسامیوں کو 800 کے مقابلے میں حتمی تعداد قرار دینا قبل از وقت ہوگا، جب تک حکومت کی جانب سے حتمی سرکاری حکم یا گزٹ اس کی مکمل وضاحت نہ کر دے۔ اگر 312 پہلے مرحلے کی آسامیوں کا حصہ ہیں تو اس مرحلے کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے، لیکن ساتھ ہی حکومت سے یہ سوال بھی ضرور کیا جانا چاہیے کہ باقی منظور شدہ یا تجویز کردہ آسامیوں کو کب اور کس طریقۂ کار کے تحت پُر کیا جائے گا۔ شفافیت اسی میں ہے کہ حکومت ضلع وار، اسکول وار اور مضمون وار آسامیوں کی مکمل تفصیل عوام کے سامنے رکھے۔
اس پورے معاملے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اردو اساتذہ کی بھرتی کو محض سرکاری ملازمتوں کا مسئلہ نہ سمجھا جائے۔ یہ اردو میڈیم اسکولوں کے تعلیمی معیار، طلبہ کے مستقبل اور لسانی اقلیتوں کے تعلیمی حقوق سے براہِ راست وابستہ مسئلہ ہے۔ ہندوستانی آئین کا آرٹیکل 350A ریاست اور مقامی اداروں کو لسانی اقلیتی بچوں کے لیے ابتدائی مرحلے میں مادری زبان میں تعلیم کی مناسب سہولتیں فراہم کرنے کی کوشش کی ذمہ داری کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ [9] اس آئینی تصور کی روشنی میں مادری زبان کے ذریعے تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کے لیے مناسب اور اہل تدریسی عملہ فراہم کرنا ایک اہم تعلیمی ضرورت بن جاتا ہے۔
اردو میڈیم تعلیم کا مسئلہ صرف اس وقت سامنے نہیں آیا جب حالیہ بھرتی کا نوٹیفکیشن جاری ہوا۔ یہ مسئلہ کئی برسوں سے مختلف شکلوں میں موجود ہے۔ ہندوستان کے کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل کی کرناٹک کے پرائمری تعلیمی اداروں سے متعلق آڈٹ رپورٹ میں بھی اسکولوں میں اساتذہ کی دستیابی، ذریعۂ تعلیم اور مطلوبہ زبان پر عبور رکھنے والے تدریسی عملے سے متعلق مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے ٹیسٹ چیک میں منتخب اضلاع کے بعض اردو میڈیم اسکولوں میں ایسے حالات کی نشاندہی ہوئی جہاں اردو میں مہارت رکھنے والے اساتذہ دستیاب نہیں تھے اور وہاں دوسرے ذریعۂ تعلیم کے لیے اہل اساتذہ تعینات کیے گئے تھے۔ [5]
یہ اعداد و شمار حکومت کے لیے ایک اہم پیغام رکھتے ہیں۔ محض اسکول کا وجود کافی نہیں؛ اسکول میں مطلوبہ زبان کے اہل اور تربیت یافتہ استاد کی موجودگی بھی ضروری ہے۔ اگر ایک اردو میڈیم اسکول میں اردو زبان پر مطلوبہ دسترس رکھنے والا استاد دستیاب نہ ہو تو طالب علم کو اپنی ہی ذریعۂ تعلیم میں معیاری تعلیم حاصل کرنے میں دشواری پیش آسکتی ہے۔ زبان صرف کتاب پڑھنے کا ذریعہ نہیں بلکہ استاد اور طالب علم کے درمیان علم، فکر اور اظہار کا بنیادی وسیلہ ہے۔
اس لیے اردو اساتذہ کی بھرتی کے ساتھ حکومت کو اردو میڈیم اسکولوں کا جامع جائزہ بھی لینا چاہیے۔ کتنے اردو میڈیم پرائمری اسکول ہیں؟ کتنے ہائی اسکول ہیں؟ کہاں کتنی منظور شدہ آسامیوں موجود ہیں؟ کتنی خالی ہیں؟ کتنے طلبہ اردو ذریعۂ تعلیم میں زیرِ تعلیم ہیں؟ کن اضلاع میں اساتذہ کی شدید کمی ہے؟ کن مضامین کے اساتذہ کی فوری ضرورت ہے؟ اگر ان سوالات کے اعداد و شمار عوام کے سامنے آجائیں تو اردو میڈیم تعلیم پر ہونے والی بحث زیادہ شفاف اور نتیجہ خیز ہوسکتی ہے۔
اگست 2026 میں لسانی اقلیتی اسکولوں کے نمائندوں کی جانب سے بھی حکومت سے اساتذہ کی بھرتی اور آسامیوں کی تفصیلات سے متعلق مطالبات کیے گئے تھے۔ ضلع وار، اسکول وار، مضمون وار اور ذریعۂ تعلیم وار تفصیلات سامنے لانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ [4] یہ مطالبہ اس لیے بھی اہم ہے کہ جب تک اصل اعداد و شمار عوام کے سامنے نہیں ہوں گے، خالی آسامیوں اور حقیقی ضرورت کے بارے میں حتمی تصویر سامنے نہیں آسکتی۔
اس بحث کا ایک اور پہلو بھی نہایت حساس ہے۔ اردو کو کسی ایک مذہب یا طبقے تک محدود کرنا درست نہیں۔ اردو ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی، ادبی اور لسانی میراث ہے۔ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے اہلِ علم، ادیبوں، شاعروں، اساتذہ اور طلبہ نے اردو کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ لہٰذا اردو کے استاد کے بارے میں اصل معیار اس کی مذہبی شناخت نہیں بلکہ اس کی علمی، لسانی اور پیشہ ورانہ اہلیت ہونا چاہیے۔ اگر کوئی غیر مسلم امیدوار اردو زبان پر مکمل عبور رکھتا ہے اور مقررہ تعلیمی و پیشہ ورانہ اہلیت پوری کرتا ہے تو اس کا اردو پڑھانا اردو کے خلاف نہیں۔ لیکن اگر کسی اردو میڈیم اسکول میں ایسا شخص تدریسی ذمہ داری سنبھالتا ہے جو ذریعۂ تعلیم کی زبان پر مطلوبہ دسترس ہی نہیں رکھتا تو یہ ایک سنجیدہ تعلیمی مسئلہ ضرور ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اردو میڈیم اسکولوں کے لیے حکومت کو زبان کی اہلیت کو بنیادی ترجیح بنانا چاہیے۔ استاد کا انتخاب صرف اس بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے کہ کوئی آسامی خالی ہے اور اسے کسی نہ کسی طرح پُر کرنا ہے، بلکہ یہ دیکھا جانا چاہیے کہ منتخب استاد واقعی اس ذریعۂ تعلیم کے طلبہ کو معیاری تعلیم دینے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔
آج 312 اردو اساتذہ کی آسامیوں کی خبر یقیناً خوش آئند ہے۔ برسوں سے بھرتی کے منتظر اہل امیدواروں کے لیے یہ ایک امید کی خبر ہے۔ لیکن اس امید کے ساتھ سوال بھی باقی ہے۔ اگر 800 اردو اساتذہ کی بھرتی کی منظوری کی خبر سامنے آچکی ہے تو باقی 488 آسامیوں کا مستقبل کیا ہے؟ کیا 312 صرف پہلا مرحلہ ہے؟ اگر ایسا ہے تو اگلا مرحلہ کب شروع ہوگا؟ کیا اس کے لیے الگ سرکاری حکم جاری ہوگا؟ کیا حکومت ان تمام آسامیوں کو ایک مقررہ مدت کے اندر پُر کرنے کا وعدہ کرے گی؟
یہ سوال صرف امیدواروں کا نہیں۔ یہ ان والدین کا بھی سوال ہے جو اپنے بچوں کو اردو میڈیم اسکولوں میں پڑھا رہے ہیں۔ یہ ان طلبہ کا سوال ہے جو اپنی مادری یا پسندیدہ زبان کے ذریعے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ یہ ان اہل اردو اساتذہ کا سوال ہے جنہوں نے اپنی زندگی کا قیمتی وقت اردو کی تعلیم حاصل کرنے اور تدریس کے لیے خود کو تیار کرنے میں صرف کیا ہے۔ اور یہ خود اردو میڈیم نظامِ تعلیم کے مستقبل کا سوال ہے۔
کرناٹک میں اردو میڈیم کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے وقتی اعلانات کافی نہیں ہوں گے۔ حکومت کو ایک واضح اور مستقل پالیسی کی ضرورت ہے۔ اردو میڈیم اسکولوں کی تعداد، طلبہ کی تعداد، منظور شدہ تدریسی عہدوں، خالی آسامیوں اور مستقبل کی ضرورت کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے۔ جہاں آسامیوں کی ضرورت ہو وہاں نئے عہدے منظور کیے جائیں، خالی آسامیوں کو بروقت پُر کیا جائے اور اسکولوں میں بنیادی سہولتوں کے ساتھ معیاری تدریس کو یقینی بنایا جائے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ اردو اساتذہ کی بھرتی کا عمل مکمل طور پر شفاف ہو۔ ضلع وار آسامیوں کی تفصیل، اہلیت کے معیار، ذریعۂ تعلیم کے لحاظ سے پوسٹوں کی تقسیم، انتخاب کا طریقۂ کار اور آئندہ مراحل کی تاریخیں واضح طور پر جاری کی جائیں۔ اس سے نہ صرف امیدواروں میں اعتماد پیدا ہوگا بلکہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا افواہ کی گنجائش بھی کم ہوگی۔
آج اصل سوال صرف یہ نہیں کہ ’’312 آسامیوں کا گزٹ کب آئے گا؟‘‘ اصل سوال یہ ہے کہ اگر اردو کے لیے 800 اساتذہ کی بھرتی کی منظوری دی گئی ہے تو باقی 488 آسامیوں کو کب اور کیسے پُر کیا جائے گا؟ اور اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ کیا کرناٹک میں اردو میڈیم تعلیم کو مرحلہ وار اعلانات کے سہارے چلایا جائے گا یا اس کے لیے ایک جامع، مستقل اور شفاف تعلیمی پالیسی بنائی جائے گی؟
312 آسامیوں کا آنا خوش آئند ہے، لیکن اگر ضرورت 800 کی ہے تو منزل ابھی باقی ہے۔ حکومت کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ محض آسامیوں کا اعلان نہ کرے بلکہ اردو میڈیم اسکولوں میں اہل، تربیت یافتہ اور زبان پر مکمل دسترس رکھنے والے اساتذہ کی موجودگی یقینی بنائے۔ کیونکہ سوال صرف 312 یا 800 ملازمتوں کا نہیں؛ سوال ان تمام بچوں کے تعلیمی مستقبل کا ہے جو اردو کو اپنے علم کی زبان بنانا چاہتے ہیں۔
اگر حکومت نے اردو کے لیے 800 اساتذہ کی بھرتی کی منظوری دی ہے تو 312 آسامیوں کے پہلے مرحلے کے بعد باقی 488 آسامیوں کو کس مرحلے میں اور کس مدت کے اندر پُر کیا جائے گا؟ حکومت کو اس بارے میں واضح سرکاری موقف اور ٹائم لائن عوام کے سامنے رکھنی چاہیے۔ وقت آگیا ہے کہ اس سوال کا جواب صرف وعدوں سے نہیں بلکہ سرکاری احکامات، شفاف بھرتی اور اردو میڈیم اسکولوں میں اہل اردو اساتذہ کی عملی موجودگی سے دیا جائے۔
حوالہ جات:
[1] Haqeeqat Times, “BIG BREAKING: 312 Urdu Teacher Posts: Gazette Notification Expected Tomorrow,” 14 September 2026.
[2] Fikro Khabar, “Karnataka Cabinet Approves Recruitment of 800 Urdu and 200 Marathi Teachers,” 25 August 2026.
[3] LiveLaw, “Urdu Medium Teachers Allegedly Excluded From Karnataka's 2026 Recruitment Approach High Court,” August 2026.
[4] The New Indian Express, “SIO representatives meet Minister Madhu Bangarappa, seek teacher recruitment details,” 18 August 2026.
[5] Comptroller and Auditor General of India (CAG), Government of Karnataka, Report on the Functioning of Primary Educational Institutions in Karnataka.
[6] Government of Karnataka, Department of School Education, “Language Teachers.”
[7] The Indian Express, “In Bengaluru, CJP flags teacher shortage, falling roof in government schools,” 11 September 2026.
[8] The Times of India, “Overstaffed but under-enrolled: Questions linger over Urdu Govt High School in Kushtagi.”
[9] Constitution of India, Article 350A, “Facilities for instruction in mother-tongue at primary stage.”
Comments
Post a Comment