گڑھ چرولی کے آستانۂ فیض کے سالکِ مجذوب حضرت سید احمد جیلانی سرکار داعیٔ اجل کو لبیک کہہ گئے - "28 ستمبر کو بعد نمازِ فجر سپردِ لحد ہوں گے؛ وصال کی خبر سے مریدین و عقیدت مندوں میں غم کی لہر"
جلگاؤں (عقیل خان بیاولی) گڑھ چرولی کی روحانی فضا آج سوگوار ہوگئی ذکر و فکر، عبادت و ریاضت، مجاہدۂ نفس اور خدمتِ خلق کی زندگی گزارنے والے معروف صوفی بزرگ، سالکِ مجذوب حضرت سید احمد جیلانی سرکار بروز اتوار، 27 ستمبر 2026ء کو دوپہر کے وقت داعیٔ اجل کو لبیک کہہ گئے۔ حضرت کے وصال کی خبر جنگل کی آگ کی طرح عقیدت مندوں میں پھیل گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے آستانۂ مبارک سے وابستہ مریدین، محبین اور معتقدین پر غم و اندوہ کی کیفیت طاری ہوگئی۔ حضرت کا جسدِ مبارک بروز پیر، 28 ستمبر کو بعد نمازِ فجر سپردِ لحد کیا جائے گا۔
حضرت سید احمد جیلانی سرکار محض ایک روحانی شخصیت نہیں بلکہ ذکرِ الٰہی، محبتِ الٰہی، خدمتِ خلق، اصلاحِ نفس اور انسان دوستی کا ایک روشن باب تھے۔ ان کی خانقاہی زندگی میں تصوف کی وہ روایت نمایاں تھی جس میں دلوں کو جوڑنا، انسان کو اپنے رب سے قریب کرنا اور مخلوقِ خدا کے دکھ درد میں شریک ہونا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
آپ کے آستانۂ فیض پر دین و ملت، ذات و برادری اور مرد و زن کی تفریق سے بالاتر ہوکر عوام کا جمِ غفیر حاضر ہوتا رہا۔ کوئی دعا کی امید لے کر آتا، کوئی روحانی رہنمائی کے لیے، کوئی قلبی سکون کی تلاش میں اور کوئی محض اس نورانی شخصیت کی زیارت کے لیے۔ حضرت ہر آنے والے کے لیے محبت، شفقت اور خیر خواہی کا پیکر بنے رہے۔
روحانیت، سلوک اور خدمت کا پیکر ۔۔۔ حضرت سید احمد جیلانی سرکار کے بارے میں ان کے عقیدت مندوں کا کہنا ہے کہ آپ کی پوری زندگی عبادت، ذکر، مجاہدہ، ریاضت، خدمتِ خلق اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے وقف رہی۔ دنیاوی نمود و نمائش سے بے نیاز رہ کر آپ نے اپنی زندگی کو اللہ کی یاد اور بندگانِ خدا کی خدمت میں صرف کیا۔ آپ کی صحبت میں بیٹھنے والے عقیدت مند آپ کی خاموشی میں بھی ذکر کی کیفیت، گفتگو میں نصیحت اور طرزِ زندگی میں سلوک و تصوف کی جھلک محسوس کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وقت گزرنے کے ساتھ آپ کی روحانی نسبت گڑھ چرولی سے نکل کر مہاراشٹر کے مختلف علاقوں،ملک اور بیرونِ ملک مقیم عقیدت مندوں تک پھیلتی چلی گئی۔
"نورانی خانوادے سے تعلق"
حضرت جیلانی سرکار کے نورانی خانوادے اور روحانی نسبت کے حوالے سے حالیہ دکن دورے کے موقع پر مولانا محسن پاشا صاحب نے بیان کیا تھا کہ حضرت جیلانی سرکار کا آبائی وطن گرمتکال، ضلع گلبرگہ ہے۔ آپ کی ولادتِ باسعادت محبوب نگر کی مدینہ مسجد میں ہوئی اور بچپن سے جوانی تک آپ وہیں مقیم رہے۔ آپ کے والدِ ماجد حضرت حبیب حسن اور جدِ امجد اپنے عہد کے معروف بزرگوں میں شمار ہوتے تھے۔ ان ہی بزرگوں کی نسبت سے شہر میں ایک چوراہا بھی معروف بتایا جاتا ہے۔ حضرت احمد جیلانی سرکار کے عقیدت مند انہیں مادرزاد ولیِ کامل اور برحق بزرگ کے طور پر یاد کرتے ہیں۔
"علم و تصوف کے خانوادے میں ازدواجی نسبت".
حضرت جیلانی سرکار کا عقد استادِ محترم حضرت مولانا الحاج حبیب محمد لبیب صاحب قبلہ نقشبندی مجددی قادری کی صاحبزادی سے ہوا۔ خسرِ محترم بھی محدثِ دکن کے مریدِ خاص بتائے جاتے ہیں۔ یوں حضرت جیلانی سرکار کی زندگی ایک ایسے علمی و روحانی خانوادے سے بھی وابستہ رہی جس میں علمِ دین، ذکر و سلوک اور روحانی تربیت کی روایات نمایاں تھیں۔ آپ کے ایک صاحبزادے حضرت حسین تھے، جن کا گزشتہ سال وصال ہوا، جبکہ پسماندگان میں پیرانی اماں، صاحبزادی اور دو پوتیاں وغیرہ شامل ہیں۔
"ظاہری پردہ، مگر نسبت کا چراغ روشن".
حضرت سید احمد جیلانی سرکار کے وصال سے ایک عہد اپنے اختتام کو پہنچا ہے۔ آستانۂ فیض پر جہاں کبھی ذکر و دعا کی صدائیں بلند ہوتی تھیں، وہاں اب عقیدت مندوں کی آنکھیں اشک بار ہیں۔ جن قدموں سے آستانہ آباد رہتا تھا، وہ قدم اب مٹی کی آغوش میں آرام کریں گے، مگر جن دلوں میں حضرت نے ذکرِ الٰہی، محبت، اصلاح اور روحانیت کی شمع روشن کی، وہاں ان کی نسبت دیر تک چراغِ راہ بنی رہے گی۔ اہلِ تصوف کا یہ یقین رہا ہے کہ اہلِ اللہ جسمانی طور پر پردہ فرما سکتے ہیں، مگر ان کی نسبت، تعلیمات، دعائیں اور روحانی اثرات دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔ حضرت جیلانی سرکار کا وصال بھی اسی روحانی تسلسل کا ایک مرحلہ ہے۔ حضرت کے وصال پر گڑھ چرولی سمیت مہاراشٹر اور دیگر علاقوں میں موجود آپ کے مریدین، محبین اور عقیدت مند غم زدہ ہیں۔ آستانۂ مبارک پر تعزیت اور دعائے مغفرت کا سلسلہ جاری ہے۔
اللہ رب العزت حضرت سید احمد جیلانی سرکار کی کامل مغفرت فرمائے، درجاتِ عالیہ بلند فرمائے، انہیں اپنے قرب و جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی لحد کو نور سے منور فرمائے، ان کے پسماندگان، مریدین اور عقیدت مندوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور ان کا روحانی فیض تا قیامت جاری و ساری رکھے۔ آمین یا رب العالمین۔
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔
Comments
Post a Comment