ظہیرآباد میں تحفظِ ایمان و عقیدہ وختمِ نبوت ﷺ تحریری مسابقہ 25 اکتوبر کو، تمام تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات کی بھرپور شرکت کی۔ اپیل،ظہیرآباد سطح پر 10 ہزار روپے تک اور ریاستی سطح پر 50 ہزار روپے تک کے نقد انعامات،رجسٹریشن کی آخری تاریخ 10 ستمبر


ظہیرآباد7/ستمبر (نمائندہ) موجودہ دور میں نئی نسل کی دینی، فکری اور اعتقادی تربیت ایک نہایت اہم اور حساس ذمہ داری بن چکی ہے۔ ایک طرف جدید علوم، ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا نے معلومات کے حصول کو آسان بنا دیا ہے تو دوسری طرف مختلف قسم کے افکار، نظریات، شبہات اور گمراہ کن مواد بھی بچوں اور نوجوانوں تک تیزی سے پہنچ رہا ہے۔ ایسے ماحول میں صرف عصری تعلیم پر توجہ دینا کافی نہیں، بلکہ نئی نسل کو صحیح اسلامی عقائد سے واقف کرانا، ان کے ایمان کی بنیاد مضبوط کرنا، انہیں عقیدۂ ختمِ نبوت ﷺ کی اہمیت سمجھانا اور باطل و گمراہ فتنوں سے باخبر رکھنا وقت کی اہم ترین دینی و معاشرتی ضرورت ہے۔
اسی اہم ضرورت کے پیشِ نظر مجلس تحفظ ختمِ نبوت تلنگانہ و آندھرا کے زیرِ اہتمام اور مجلس تحفظ ختمِ نبوت ظہیرآباد کی نگرانی میں ختمِ نبوت ﷺ تحریری مسابقہ منعقد کیا جا رہا ہے، جس کا پہلا مرحلہ 25 اکتوبر کو ظہیرآباد سطح پر منعقد ہوگا۔ اس مسابقے کو محض ایک امتحان یا انعامی مقابلہ قرار دینا اس کی حقیقی اہمیت کو محدود کرنا ہوگا، کیونکہ اس کے پسِ پشت بنیادی مقصد نئی نسل کو عقائدِ اسلام سے روشناس کرانا، تحفظِ ایمان کا شعور پیدا کرنا، صحیح اور غلط نظریات میں امتیاز کی صلاحیت پیدا کرنا اور بالخصوص عقیدۂ ختمِ نبوت ﷺ کے بارے میں مضبوط علمی و ایمانی بنیاد فراہم کرنا ہے۔
اس مسابقے کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں شرکت کو کسی ایک مخصوص طبقے یا تعلیمی ادارے تک محدود نہیں رکھا گیا، بلکہ دینی مدارس، مکاتب، اسکولوں، کالجوں اور دیگر عصری تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم تمام طلبہ و طالبات، بڑے ہوں یا چھوٹے، شرکت کرسکتے ہیں۔ اس اقدام کے ذریعے منتظمین نے یہ پیغام دیا ہے کہ دینی عقائد کا علم کسی ایک طبقے کی ضرورت نہیں بلکہ ہر مسلمان بچے اور نوجوان کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ دنیاوی تعلیم کے ساتھ اگر نئی نسل کو اپنے دین، ایمان اور عقائد کا صحیح علم حاصل ہوگا تو وہ مستقبل کے فکری چیلنجز کا زیادہ مضبوطی کے ساتھ سامنا کرسکے گی۔
مسابقے کے لیے ’’عقائدِ اہلِ سنت والجماعت اور باطل و گمراہ فتنے‘‘ نامی اہم کتاب مقرر کی گئی ہے۔ اس کتاب میں عقائدِ اسلام کے بنیادی اور اہم موضوعات کو جامع انداز میں پیش کیا گیا ہے، جن میں توحید، رسالت، آخرت، ختمِ نبوت ﷺ اور علاماتِ قیامت جیسے بنیادی عقائد شامل ہیں، جبکہ مختلف باطل اور گمراہ کن فتنوں اور نظریات کا بھی تعارف کرایا گیا ہے۔ اس کتاب کے مطالعے کے ذریعے طلبہ کو نہ صرف اپنے بنیادی اسلامی عقائد سے واقفیت حاصل ہوگی بلکہ انہیں یہ سمجھنے میں بھی مدد ملے گی کہ مختلف گمراہ کن افکار اور نظریات کیا ہیں اور ایک مسلمان اپنے ایمان و عقیدے کی حفاظت کے لیے کس طرح صحیح دینی علم حاصل کرسکتا ہے۔
علمائے کرام کے مطابق عقیدہ دین کی بنیاد ہے۔ عقائد کے صحیح علم کے بغیر انسان اپنی دینی زندگی کے بنیادی تصور کو مکمل طور پر نہیں سمجھ سکتا۔ ایک مسلمان کے لیے اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات، انبیائے کرام علیہم السلام، آخرت اور دیگر بنیادی ایمانیات کا درست علم انتہائی ضروری ہے۔ اسی لیے بچوں کی تعلیم و تربیت میں عقائد کو بنیادی حیثیت دی جانی چاہیے۔ جس طرح والدین اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے اچھی دنیاوی تعلیم کو ضروری سمجھتے ہیں، اسی طرح ان کے ایمان و عقیدے کی حفاظت کے لیے دینی تعلیم اور صحیح عقائد کا علم بھی ناگزیر ہے۔
بالخصوص عقیدۂ ختمِ نبوت ﷺ اسلام کے بنیادی اور قطعی عقائد میں سے ہے۔ حضور اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں اور آپ ﷺ پر سلسلۂ نبوت مکمل ہوگیا۔ ایک مسلمان کے لیے اس بنیادی عقیدے کا صحیح علم، اس پر یقین اور اس کی اہمیت سے واقفیت ضروری ہے۔ اسی لیے ختمِ نبوت ﷺ کے عنوان سے منعقد کیا جانے والا یہ تحریری مسابقہ نئی نسل میں اس بنیادی عقیدے کے شعور کو مضبوط کرنے کی ایک اہم علمی و تربیتی کوشش ہے۔
موجودہ دور میں نوجوان مختلف ذرائع سے بے شمار معلومات حاصل کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ نے جہاں علم کے حصول کے مواقع بڑھائے ہیں، وہیں غیر مستند اور گمراہ کن مواد کی بھرمار بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ ایسے حالات میں نئی نسل کو صرف فتنوں سے دور رہنے کی تلقین کرنا کافی نہیں، بلکہ انہیں صحیح عقائد کا علم بھی دینا ضروری ہے، تاکہ وہ صحیح اور غلط، حق اور باطل، مستند اور غیر مستند افکار کے درمیان فرق کرسکیں۔ ’’عقائدِ اہلِ سنت والجماعت اور باطل و گمراہ فتنے‘‘ کا مطالعہ اسی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے طلبہ کے لیے ایک مفید علمی ذریعہ بن سکتا ہے۔
یہ مسابقہ دو مراحل میں منعقد ہوگا۔ پہلے مرحلے کا امتحان 25 اکتوبر کو ظہیرآباد سطح پر ہوگا، جس میں مقررہ کتاب کے نصاب کی بنیاد پر طلبہ و طالبات کی علمی استعداد کا جائزہ لیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں کامیاب اور نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ دوسرے مرحلے کے لیے منتخب ہوں گے۔ دوسرا مرحلہ ریاستی سطح پر منعقد ہوگا، جس میں مختلف اضلاع سے پہلے مرحلے میں کامیاب ہونے والے طلبہ و طالبات کے درمیان مقابلہ ہوگا۔ اس طرح ظہیرآباد سے شروع ہونے والی یہ علمی سرگرمی ریاستی سطح تک پہنچے گی اور طلبہ کو اپنی علمی صلاحیتوں کے اظہار کا وسیع موقع فراہم کرے گی۔
مسابقے کے پہلے مرحلے میں ظہیرآباد سطح پر نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ کے لیے خصوصی نقد انعامات رکھے گئے ہیں۔ اول پوزیشن حاصل کرنے والے کو 10,000 روپے، دوم پوزیشن حاصل کرنے والے کو 7,000 روپے اور سوم پوزیشن حاصل کرنے والے کو 5,000 روپے کا نقد انعام دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ اسکولوں، مکاتب اور مدارس کی سطح پر نمایاں نمبرات حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کو ترغیبی انعامات، میموریل سرٹیفکیٹس اور میڈلز بھی دیے جائیں گے، تاکہ زیادہ سے زیادہ طلبہ دینی مطالعے کی طرف متوجہ ہوں اور ان کے اندر علمی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا جذبہ پیدا ہو۔
ریاستی سطح پر منعقد ہونے والے دوسرے مرحلے میں کامیاب طلبہ کے لیے انعامات مزید حوصلہ افزا رکھے گئے ہیں۔ ریاستی سطح پر اول انعام 50,000 روپے، دوم انعام 30,000 روپے اور سوم انعام 20,000 روپے مقرر کیا گیا ہے۔ ان انعامات کے ذریعے طلبہ کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ دینی مطالعہ، عقائد کے علم اور علمی مسابقت کے جذبے کو فروغ دینا بھی مقصد ہے۔
مسابقے میں شرکت کے لیے کل 200 روپے مقرر کیے گئے ہیں، جس میں 100 روپے کتاب کی قیمت اور 100 روپے رجسٹریشن فیس شامل ہے۔ رجسٹریشن کی آخری تاریخ 10 ستمبر مقرر کی گئی ہے۔ منتظمین نے تمام مدارس، مکاتب، اسکولوں، کالجوں اور دیگر تعلیمی اداروں کے ذمہ داران سے اپیل کی ہے کہ آخری تاریخ کا انتظار کیے بغیر اپنے اداروں کے طلبہ و طالبات کی رجسٹریشن مکمل کرائیں اور انہیں مقررہ کتاب فراہم کرکے باقاعدہ مطالعہ اور تیاری کی ترغیب دیں۔
علمائے کرام نے والدین سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس مسابقے کو اپنے بچوں کی دینی تربیت کا ایک بہترین موقع سمجھیں۔ بچوں کی کامیابی صرف اچھے نمبروں اور دنیاوی تعلیم تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ ان کے ایمان، اخلاق، کردار اور دینی شعور کی مضبوطی بھی والدین کی اولین ترجیحات میں شامل ہونی چاہیے۔ اگر ایک بچہ اپنے عقائد کو سمجھ کر بڑا ہوگا تو وہ زندگی کے مختلف مراحل میں اپنے ایمان، اسلامی شناخت اور دینی اقدار کی زیادہ بہتر حفاظت کرسکے گا۔
اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے ذمہ داران سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے اداروں کے زیادہ سے زیادہ طلبہ و طالبات کو اس مسابقے میں شریک کریں۔ بالخصوص اسکولوں اور عصری تعلیمی اداروں کے طلبہ کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ اپنی معمول کی تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اسلامی عقائد کے میدان میں بھی اپنی علمی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں۔ اسی طرح مدارس و مکاتب کے طلبہ بھی اس موقع سے استفادہ کرتے ہوئے عقائد کے موضوع پر اپنے علم کو مزید مضبوط کرسکتے ہیں۔
اس سلسلے میں حضرت مولانا عتیق احمد صاحب قاسمی، حضرت مولانا مفتی عبدالصبور قاسمی صاحب، صدر مجلس تحفظ ختمِ نبوت ظہیرآباد، حضرت مولانا عبدالمجیب صاحب قاسمی، حضرت مولانا مفتی نذیر احمد حسامی اور دیگر علماءِ کرام نے ظہیرآباد کے تمام مدارس، مکاتب، اسکولوں، کالجوں، اساتذہ، والدین اور طلبہ و طالبات سے بھرپور شرکت کی اپیل کی ہے۔ علماءِ کرام نے کہا کہ نئی نسل کو عقائد کا علم دینا اور انہیں مختلف فکری و اعتقادی فتنوں سے باخبر رکھنا دراصل ان کے ایمان کے تحفظ اور ان کے مستقبل کی دینی بنیاد مضبوط کرنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آج کی نسل کو اگر عقیدہ معلوم ہوگا تو وہ اپنے ایمان کی قدر پہچانے گی، اگر اپنے دین کی بنیادوں سے واقف ہوگی تو فکری یلغار کے سامنے زیادہ مضبوط ہوگی، اور اگر حق و باطل میں فرق کرنے کا شعور حاصل ہوگا تو گمراہ کن نظریات سے متاثر ہونے کے امکانات کم ہوں گے۔ اس لیے دینی عقائد کی تعلیم کو صرف مدارس و مکاتب تک محدود رکھنے کے بجائے گھروں، اسکولوں اور معاشرے کے ہر تعلیمی و تربیتی دائرے تک پہنچانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مجلس تحفظ ختمِ نبوت کے ذمہ داران نے واضح کیا کہ ختمِ نبوت ﷺ تحریری مسابقہ محض ایک تحریری امتحان، انعامی مقابلہ یا طلبہ کی علمی قابلیت جانچنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ تحفظِ ایمان، تحفظِ عقیدہ اور نئی نسل میں دینی و فکری شعور پیدا کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ اس مسابقے کے ذریعے بچوں اور نوجوانوں کو کتاب سے جوڑنے، عقائد کا علم حاصل کرنے، ختمِ نبوت ﷺ کے بنیادی عقیدے کو سمجھنے اور باطل و گمراہ فتنوں سے واقفیت حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
رجسٹریشن اور مزید معلومات کے لیے مولانا مفتی عبدالصبور قاسمی: 8977370328، مولانا مفتی خلیل احمد قاسمی: 9959187416، حافظ عبدالمجیب صاحب کتوری: 7893259150 سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
مجلس تحفظ ختمِ نبوت کے ذمہ داران نے ظہیرآباد کے تمام دینی و عصری تعلیمی اداروں، علماء، ائمہ، اساتذہ، والدین اور سرپرستوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس علمی و ایمانی مہم کو کامیاب بنانے کے لیے اپنا بھرپور تعاون پیش کریں اور زیادہ سے زیادہ طلبہ و طالبات کی رجسٹریشن کروائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نئی نسل کے ایمان کی حفاظت، صحیح عقائد کا شعور اور عقیدۂ ختمِ نبوت ﷺ سے مضبوط وابستگی آنے والی نسلوں کے دینی مستقبل کی حفاظت کا اہم ذریعہ ہے۔ لہٰذا 10 ستمبر کی آخری تاریخ سے قبل رجسٹریشن مکمل کرکے بچوں کو مقررہ کتاب کے مطالعے کی طرف متوجہ کیا جائے، تاکہ یہ مسابقہ ایک کامیاب علمی سرگرمی کے ساتھ ساتھ نئی نسل کی دینی و اعتقادی تربیت کا مؤثر ذریعہ بھی ثابت ہوسکے۔۔۔۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔