امامت اور امام؟ (2)۔ از قلم: ظفر ھاشمی ندوی، (سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ)


امامت اور امام؟(2)
از قلم: ظفر ھاشمی ندوی، 
(سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ)

انڈیا جیسے کسی بھی غیر مسلم ملک میں عام طور پر سرکاری اسکول ہوں یا پرائویٹ ، اسلام کی ضروری دینی معلومات اور تعلیمات سے مسلم بچے اور بچیاں محروم رہتے ہیں - اس اہم مسئلہ کا حل خود بخود یہ نکل آیا کہ مسجد کے امام صاحب ان بچوں کو قرآن پڑھنا سکھاتے ہیں اور کسی قدر نماز وغیرہ بھی سکھا دیتے ہیں - اس کے بعد کوئی مسلم لڑکا یا لڑکی وہ دنیوی اعتبار سے جو بھی بن جائے مگر دین کی بنیادی خصوصیات نھیں سمجھ پاتا ہے اور نہ اسے خود یا اس کے والدین کو اس کی پروا ہوتی ہے- بالغ ہو کر وہ رمضان کے روزے رکھتا ہے اور کمانا شروع کرنے پر زکوٰۃ دیتا ہے یا حج و عمرہ کر لیتا ہے تو اس کی دینداری مکمل ہو جاتی ہے - لیکن اسے یا اس کے والدین بھائی بہن اور رشتہ دار و دوست کسی کو بھی اسلامی تہذیب و ثقافت کی ہوا بھی نہیں لگتی ہے- کاش انڈیا کی تمام مسجدوں کے امام اس میدان میں اترتے اور ہر محلہ کے بچوں اور بچیوں کو ان کے بچپن سے ہی مسجد کے نورانی ماحول میں حلال حرام کی تمیز سکھاتے - نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی مبارک زندگی کی مکی اور مدنی دور کی تفصیل پھر خلفاء راشدین کے حالات ، اسلامی فتوحات اور اسلامی تاریخ وغیرہ کی مکمل معلومات دیتے اور مسلم لڑکے اور لڑکیاں کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم کے علاوہ اپنی اسلامی اسٹڈی بھی مکمل کرتے تو بتائیے کہ وہ مسلم نسل کیسی بنتی- اسی کے ساتھ ساتھ ملکی حالات کے پیش نظر نوجوانوں میں دعوت وتبلیغ کے طریقے سکھائے جاتے - اب یہ سارے کام تو مسجدوں کے امام کرتے رہیں اور وہ اور ان کے بیوی بچے غربت کی آگ میں جلتے رہیں ؟ اس کا سب سے بھتر حل یہ ہے کہ ان اماموں کو اسکول و کالج اور یونیورسٹی کی بڑی بڑی فیس نہ دیں تو کم سے کم دینی ٹیوشن کی اتنی فیس تو دیں کہ قطرہ قطرہ سے دریا بن جائے- مگر ہائے افسوس کہ کارواں کے دل و دماغ سے احساسِ زیاں جاتا رہا- اور حال یہ ہو گیا ہے کہ ایک مسلمان اپنے بچوں کی دنیوی تعلیم کے لئے تو دل کھول کر خرچ کرتا ہے مگر دین کی تعلیم یا تو مفت چاھتا ہے یا پھر دس بیس روپے دینے کو بڑی رقم سمجھتا ہے- 
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر مسجد کا امام امامت کے ساتھ محلہ کے تمام بچوں کو مختصر لیکن مکمل دینی تعلیم دے اور محلہ والے بھی امامت کی اچھی تنخواہ کے ساتھ اضافی تعلیم دینے کی بھی معقول تنخواہ دیں- اس طرح ہر امام سکون سے دین کی خدمت بھی کرتا رہے گا اور دنیوی اعتبار سے وہ قسمت کا مارا نہیں رہے گا- 
اس اہم دینی ضرورت کے ساتھ ساتھ مسجد کا امام اپنے اپنے محلہ میں اس محلہ کے تمام مسلمانوں کے لئے دینی رہنما بھی ہو - وہ دینی مسائل بھی بتاتا رہے اور مسلمانوں کے آپسی جھگڑوں کو بھی حل کرتا رہے یعنی دار القضاء بھی قائم کرے اور نکاح طلاق اور وراثت کے مقدموں میں شرعی حکم بھی دیتا رہے-
اوپر ذکر کردہ تمام باتوں پر صرف کیرلا کے مسلمان از خود عمل کر رہے ہیں - اسی لئے کیرلا کے مسلمانوں میں تعلیم کا معیار دوسری ریاستوں کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہے - اتنا ہی نہیں ان کے یہاں دینی تعلیم کا اھتمام بھی ملک کے اندر اور باھر دوسری ریاستوں سے کہیں زیادہ ہے- مقصد لکھنے کا یہ ہے کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ انڈیا کی ہر ریاست کے مسلمان مسجدوں اور اماموں کے نظام کو بیتر سے بہتر بنائیں - دینی اعتبار سے ہر مسجد کے امام کی حیثیت کسی بھی غیر مسلم ملک میں اس علاقہ کے امیر المؤمنین کی ہے اور کسی محلہ کے بڑے سے بڑے مالدار کی حیثیت دینی رہنما کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں ہے- 
اس کے علاوہ ہر مسجد مسلمانوں کے لئے ہر قسم کی مدد کا ذریعہ بن جائے- ویسے مسجد میں دین اور دینی باتیں ہی ہونا چاہیے- دنیوی باتوں کی اجازت نہیں ہے لیکن مسلمانوں کے فائدہ کے لئے ہر کام کی گنجائش ہے- مثال کے طور پر ہر محلہ میں غریب بچوں کے لئے دنیوی علوم کے ٹیوشنس کا انتظام کیا جا سکتا ہے - نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے مبارک دور میں مسجد عبادت گاہ بھی تھی اور حسب ضرورت عدالت گاہ بھی تھی - غیر مسلم قیدیوں کو مسجد کے ستون سے باندھ کر رکھا جاتا تھا- دنیوی ضرورت کا انتظام بھی ہوتا تھا- انڈیا کے موجودہ حالات میں غیر جانبدار ہو کر مسلمانوں کو ووٹس میں متحدہ ہوکر ہر محلہ اپنی ضرورت کے مطابق سیاسی پارٹیوں کا انتخاب کرے اور سب کے اتفاق سے کسی کو ووٹ دینے کا اعلان کیا جائے- یہ اور اس طرح کی ہر ضرورت مسجد میں پوری کی جا سکتی ہے ضرورت اپنے دین کو سمجھنے کی اور ذاتی فائدہ کی جگہ اخلاص کے ساتھ مسلمانوں کے اجتماعی فائدوں کے لئے کام کرنے کی ہے- 
اللہ تعالیٰ سب سے پہلے ہر مسجد میں اطراف کے تمام مسلمانوں کو پانچ وقت نماز پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے-
آمین ثم آمین

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔