الیکشن کمیشن کے 14 سنگین اعتراضات کی آزادانہ تحقیقات کی جائیں - جلگاؤں ایکتا تنظیم کا صدرِ جمہوریہ، چیف جسٹس اور وزارتِ قانون کو محضر۔


جلگاؤں، 24 ستمبر 2026ء (عقیل خان بیاولی):الیکشن کمیشن کی کارکردگی اور ووٹر لسٹ سے متعلق بعض فیصلوں کے حوالے سے موصول اطلاعات و تحقیقاتی رپورٹ کے بعد ایکتا تنظیم نے الیکشن کمیشن کے اندر درج کیے گئے مبینہ 14 سنگین اعتراضات کی آزادانہ، غیر جانب دار اور مقررہ مدت کے اندر تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں تنظیم کی جانب سے صدرِ جمہوریہ، چیف جسٹس آف انڈیا، مرکزی وزارتِ قانون و انصاف اور متعلقہ آئینی اداروں کو ایک محضر پیش کی گئی ہے۔
23 ستمبر 2026ء کو شائع ہوئی روزنامہ دی انڈین ایکسپریس کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ تقریباً 10 ماہ کے دوران کمیشن کے بعض فیصلوں اور طریقۂ کار پر کم از کم 14 مرتبہ اعتراضات درج کیے۔ رپورٹ کے مطابق ان اعتراضات کا تعلق نئے ووٹروں کے اندراج، ووٹرز کے نام حذف کرنے یا دوبارہ شامل کرنے، فارم-6 میں تبدیلیوں اور ووٹر لسٹ کے ڈیجیٹل انتظام سے بتایا گیا ہے۔‌ رپورٹ میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ فارم-6 میں کی گئی ایک تبدیلی کے سلسلے میں اعتراض درج کرتے ہوئے ’’غیر مجاز‘‘ (Unauthorised) اور ’’غیر قانونی‘‘ (Illegal) جیسے الفاظ استعمال کیے گئے۔ جلگاؤں ایکتا تنظیم کا مطالبہ ہے کہ ان اعتراضات کی اصل نوعیت، متعلقہ دستاویزات اور قانونی اختیار کی آزادانہ تحقیقات کی جائیں تاکہ حقائق واضح ہو سکیں۔ ووٹر لسٹ جمہوریت کی بنیادی اساس
 تنظیم کے مطابق ووٹر لسٹ جمہوری انتخابی نظام کی بنیادی اساس ہے۔ کسی ووٹر کا نام فہرست میں شامل کرنا، حذف کرنا یا دوبارہ بحال کرنا براہِ راست اس کے حقِ رائے دہی سے وابستہ معاملہ ہے۔ اس لیے اس پورے عمل میں شفافیت، قانونی طریقۂ کار اور سرکاری ریکارڈ کی حفاظت کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے۔ تنظیم نے خصوصی طور پر مطالبہ کیا ہے کہ 19 فروری 2025ء سے اب تک الیکشن کمیشن کی جانب سے لیے گئے اہم فیصلوں کا آزادانہ قانونی، انتظامی اور تکنیکی آڈٹ کرایا جائے۔ واضح رہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے 19 فروری 2025ء کو اپنے عہدے کا چارج سنبھالا تھا۔
یادداشت میں سات اہم مطالبات 1۔ 14 اعتراضات کی تحقیقات:
الیکشن کمشنروں کی جانب سے درج کیے گئے تمام 14 اعتراضات کی اصل دستاویزات کی بنیاد پر آزادانہ تحقیقات کی جائیں۔
2۔ قانونی اختیار کی جانچ:
جن فیصلوں یا کارروائیوں کے سلسلے میں ’’غیر مجاز‘‘ یا ’’غیر قانونی‘‘ ہونے کے اعتراضات سامنے آئے ہیں، ان کے قانونی اختیار اور جواز کی جانچ کی جائے۔ 3۔ اہم فیصلوں کا آزادانہ آڈٹ: 19 فروری 2025ء سے اب تک کیے گئے اہم فیصلوں کا آزادانہ قانونی، انتظامی اور تکنیکی آڈٹ کرایا جائے۔
4۔ ووٹر لسٹ کے عمل کی تحقیقات: ووٹرز کے نام شامل کرنے، حذف کرنے اور دوبارہ بحال کرنے کے پورے عمل کی تفصیلی جانچ کی جائے۔ 5۔ ڈیجیٹل ڈیٹا بیس کا تکنیکی آڈٹ: ووٹر لسٹ کے ڈیجیٹل ڈیٹا بیس اور اس سے متعلق تکنیکی نظام کا آزادانہ سائبر اور تکنیکی آڈٹ کرایا جائے۔ 6۔ ریکارڈ محفوظ رکھا جائے: متعلقہ فائل نوٹنگ، ای میلز، احکامات، اجلاسوں کی کارروائی اور تمام ڈیجیٹل لاگز کو محفوظ رکھا جائے، تاکہ تحقیقات کے دوران اصل ریکارڈ دستیاب رہے۔
7۔ تحقیقاتی رپورٹ عوام کے سامنے لائی جائے: تحقیقات مکمل ہونے کے بعد حقائق اور وجوہات پر مبنی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی جائے۔ ’’کسی کو قصوروار قرار دینا مقصد نہیں‘‘ تنظیم کے کنوینر فاروق شیخ نے کہا کہ تنظیم کا مقصد کسی فرد یا ادارے کو پہلے ہی قصوروار قرار دینا نہیں ہے۔ ان کے مطابق الیکشن کمیشن جیسے آئینی ادارے پر عوام کا اعتماد برقرار رکھنے کے لیے سامنے آنے والے ہر سنگین اعتراض کی دستاویزات اور قانون کی روشنی میں غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ووٹر لسٹ سے متعلق معاملات کو سیاسی الزام تراشی کے بجائے حقائق، قانون اور تکنیکی شواہد کی بنیاد پر جانچا جانا چاہیے، تاکہ اصل صورتِ حال واضح ہو سکے۔
’’ووٹر لسٹ میں کسی بھی قسم کی بے ضابطگی برداشت نہیں کی جائے گی؛ ہر ووٹر کے حق کا حساب دینا ہوگا۔‘‘ الیکشن کمیشن کی وضاحت بھی سامنے آئی۔ دوسری جانب اس معاملے میں الیکشن کمیشن کی جانب سے وضاحت بھی سامنے آئی ہے۔ کمیشن سے وابستہ ذرائع نے رپورٹ میں اٹھائے گئے ’’اندرونی اختلاف‘‘ کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ SIR سمیت کمیشن کے فیصلے تینوں الیکشن کمشنروں کی منظوری سے لیے گئے ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ مختلف دعووں اور وضاحتوں کے درمیان اصل صورتِ حال واضح کرنے کے لیے متعلقہ اصل دستاویزات، سرکاری ریکارڈ اور آزادانہ تحقیقات کے نتائج عوام کے سامنے لائے جانے چاہئیں۔
نایب ضلع مجسٹریٹ کے ذریعے یادداشت پیش
تنظیم کی جانب سے یہ محضر جلگاؤں کی نایب ضلع کلیکٹر (انتخابات) ارچنا مورے کے ذریعے متعلقہ آئینی عہدیداروں اور اداروں کو روانہ کی گئی۔
اس موقع پر فاروق شیخ، متین پٹیل، حافظ عبد الرحیم پٹیل، عارف دیشمکھ، انیس شاہ، انور صیقلگر، رزاق پٹیل، سلیم انعامدار، امین شیخ، مولانا غفران، راحل ظہیر کھاٹک، احسان جمیل، محمود رنگریز سمیت دیگر عہدیداران اور کارکنان موجود تھے۔
تنظیم نے امید ظاہر کی کہ ووٹر لسٹ اور انتخابی عمل سے متعلق اٹھائے گئے سوالات کی آزادانہ تحقیقات کے ذریعے اصل حقائق سامنے آئیں گے اور عوام کے درمیان انتخابی عمل کی شفافیت کے حوالے سے پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کا ازالہ ہوگا۔ محضر کے 7 اہم مطالبات۔۔
• 14 اعتراضات کی تحقیقات: اصل دستاویزات کی بنیاد پر آزادانہ تحقیقات۔ • قانونی اختیار کی جانچ: ’’غیر مجاز‘‘ اور ’’غیر قانونی‘‘ قرار دیے گئے معاملات کی قانونی جانچ۔
• فیصلوں کا آڈٹ: 19 فروری 2025ء سے اب تک کے اہم فیصلوں کا آزادانہ جائزہ۔ • ووٹر لسٹ کی جانچ: نام شامل کرنے، حذف کرنے اور بحال کرنے کے عمل کی مکمل پڑتال۔ • ڈیجیٹل آڈٹ: ووٹر لسٹ کے ڈیٹا بیس کا سائبر اور تکنیکی آڈٹ۔• ریکارڈ کا تحفظ: فائل، ای میل، احکامات اور ڈیجیٹل لاگز محفوظ رکھنے کا مطالبہ۔
 • رپورٹ کی اشاعت: تحقیقات کے بعد حقائق پر مبنی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی جائے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔