بیدر میں کل ہند مشاعرہ، 14 اردو و کنڑا اسکولوں کواعزاز، سینئر اردو صحافیوں کی خدمات کا اعتراف۔
بیدر۔ 14 /ستمبر(پریس نوٹ) جناب محمد سلمان سکریٹری عائشہ جیوتی سوسائٹیNGO بیدر کی پریس نوٹ کے مطابق بیدر شہر کے ڈیسنٹ فنکشن ہال میں اتوار کی شب کرناٹک اردو اکادمی اور عائشہ جیوتی سوسائٹی، بیدر کے باہمی اشتراک سے ایک عظیم الشان کل ہند مشاعرے کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے ممتاز شعرائے کرام نے اپنے منتخب کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ مشاعرے کا آغاز رات تقریباً 9:45 بجے ہوا اور رات گئے تک مشاعرہ چلتا رہا۔ مشاعرے میں شہر کے اہلِ ادب، شعراء، اساتذہ، سماجی و تعلیمی شخصیات اور اردو دوستوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔مشاعرے میں بنگلورو سے ڈاکٹر سنیل پنور واریؔ، حیدرآباد سے جناب سیفؔ نظامی، مالیگاؤں سے جناب عمران راشدؔ، شیموگہ سے جناب رحمت اللہ رحمتؔ، گلبرگہ سے جناب قاضی انور، چٹگوپہ سے پروفیسر مقبول احمد مقبولؔ، بیدر سے جناب میرؔ بیدری، جنوبی کنڑ کے سرسی سے جناب سید اعجاز پٹیل، بیدر سے حافظ محمد عبید اللہ خان عطاری، جناب محمد اعظم خان اعظم اور ڈاکٹر مستقیم بیگم مسرورؔ نے اپنا منتخب کلام پیش کیا۔جب کہ گلبرگہ کے قاضی انور کو سامعین نے دوبار سنا۔ شعرائے کرام کے کلام پر سامعین نے بھرپور داد و تحسین سے نوازا اور مشاعرہ دیر رات تک شعری ذوق کی تسکین کا ذریعہ بنا رہا۔
معروف شاعر و ناظم ِ مشاعرہ میرؔ بیدری نے اپنی برجستہ اور شگفتہ نظامت کے ذریعے مشاعرے کو نہایت عمدگی سے آگے بڑھایا۔ ان کی نظامت نے شعراء اور سامعین کے درمیان خوبصورت ربط قائم رکھا اور مختلف شعری پیشکشوں کے درمیان تسلسل برقرار رہا۔اس موقع پر بیدر کی اردو صحافت کی خدمات کا بھی اعتراف کیا گیا۔ بیدر کے قدیم اردو روزناموں سے وابستہ مدیران کو ان کی طویل صحافتی خدمات کے اعتراف میں تہنیت پیش کی گئی۔ ڈاکٹر سنیل کمار پنوار واری، آئی ایف ایس، کے ہاتھوں ممتاز صحافی اور مدیر اعلیٰ روزنامہ ”ادبی عکاس“ بیدر جناب شاہ سعید الحسن قادری اور روزنامہ ”سرخ مین“ کے مدیر جناب قاضی علی الدین المعروف علی بابا کی گلپوشی و شال پوشی کی گئی اور انہیں مومنٹو پیش کرتے ہوئے ان کی صحافتی خدمات کو سراہا گیا۔ اس موقع پر اردو صحافت کو درپیش چیلنجوں کے باوجود اردو زبان و ادب کی خدمت میں مصروف صحافیوں کے کردار کو قابلِ قدر قرار دیا گیا۔
مشاعرے سے قبل تعلیمی میدان میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اردو و کنڑا سرکاری مدارس کی حوصلہ افزائی کے لیے خصوصی تقریب منعقد کی گئی۔ عائشہ جیوتی سوسائٹی اور کرناٹک اردو اکادمی کی جانب سے ایسے 14 اردو و کنڑا مدارس کو ”بیسٹ اسکول“ ایوارڈ سے نوازا گیا جنہوں نے تعلیمی کارکردگی کے میدان میں نمایاں نتائج پیش کرتے ہوئے کئی پرائیویٹ اسکولوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ منتخب اسکولوں کے ذمہ داران اور نمائندوں کی گلپوشی و شال پوشی کی گئی اور انہیں مومنٹو پیش کرکے ان کی تعلیمی خدمات کی ستائش کی گئی۔
تقریب کا آغاز حافظ محمد نوید اللہ خان عطاری کی قرأتِ کلام پاک سے کیا گیا۔پروگرام کاآغاز باضابطہ طورپر ناڈ گیت سے ہوا۔ تقریب میں ڈاکٹر سنیل کمار پنوار واری، آئی ایف ایس، بنگلورو، جناب محمد غوث، سابق میئر بیدر میونسپل کارپوریشن، جناب محمدسمیر الدین، نمائندہ کارپوریٹر بیدر سٹی میونسپل کارپوریشن، ڈاکٹر محمد گلسین، پرنسپل ڈائٹ کالج بیدر، جناب محمد حیدر علی شاکر، ای سی او بیدر، جناب محمد آصف الدین، چیئرمین وزڈم ادارہ جات بیدر، ڈاکٹر طالب اطہر انصاری، پرنسپل کالج آف ٹیچنگ، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، بیدر، جناب محمد معظم، ذمہ دار آئیٹا بیدر، جناب محمد یوسف رحیم بیدری، سابق رکن کرناٹک اردو اکادمی و صدر یارانِ ادب بیدر، ڈاکٹر مستقیم بیگم اردو فیکلٹی بیدر یونیورسٹی، محترمہ بلقیس فاطمہ، ذمہ دار ریاستی آئیٹا شعبہ ء خواتین، محترمہ طیبہ طہورہ، صدر عائشہ جیوتی سوسائٹی بیدر، اور محمد امین نواز، رکن کرناٹک اردو اکادمی بیدر، کے علاوہ دیگر معززین، اہلِ علم و ادب اور اُردو دوستوں نے شرکت کی۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کرناٹک اردو اکادمی کے رکن محمد امین نواز نے اکادمی کی جانب سے بیدر میں انجام دی جانے والی مختلف سرگرمیوں اور اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی بحیثیت رکن کرناٹک اردو اکادمی ذمہ داری کے دوران بیدر میں دو کل ہند مشاعروں کے انعقاد کے علاوہ اساتذہء کرام کے لیے ایک روزہ تربیتی ورکشاپ اور طلبہ و طالبات کے لیے ادبی و ثقافتی پروگرام منعقد کیے گئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جماعت دہم میں اردو مضمون میں صد فیصد نشانات حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی کے لیے گزشتہ دو برس کے دوران فی طالب علم ایک ہزار روپے کے چیک اور اسناد بھی تقسیم کی گئیں۔محمد یوسف رحیم بیدری نے عائشہ جیوتی سوسائٹی کی فلاحی و سماجی سرگرمیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ سوسائٹی کی جانب سے ضرورت مند خواتین کو سلائی کی تربیت فراہم کرنے کے بعد انہیں سلائی مشینیں بھی تقسیم کی گئیں، تاکہ وہ اپنے ہنر کے ذریعے خود کفیل ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ سوسائٹی نے یارانِ ادب کے باہمی اشتراک سے طلبہ میں نوٹ بکس، قلم اور دیگر تعلیمی اشیاء بھی تقسیم کی ہیں، جس کا مقصد ضرورت مند طلبہ کی تعلیمی سرگرمیوں میں معاونت اور ان کی حوصلہ افزائی کے علاوہ سرکاری اسکولوں کے داخلے میں اضافہ تقریب کے دوران مقررین نے اردو زبان و ادب کے فروغ، سرکاری مدارس میں تعلیمی معیار کی بہتری، طلبہ کی حوصلہ افزائی اور اردو صحافت کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ زبان، تعلیم، ادب اور سماجی خدمت کے شعبوں میں سرگرم اداروں اور افراد کی حوصلہ افزائی سے معاشرے میں مثبت اور تعمیری ماحول پیدا ہوتا ہے۔ مشاعرے کے اختتام پر کنوینر محمد اسد سلیم نے شعرائے کرام، سامعین، مہمانانِ خصوصی، اہلِ علم و ادب اور تقریب کی کامیابی کے لیے تعاون کرنے والے تمام افراد سے اظہارِ تشکر کیا۔ انہوں نے انتظامات میں تعاون کرنے والے محمد عمر فاروق، سراج الحسن شادمان،محمد سلطان اور عبدالقدیر لشکری کا بھی خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔ اس طرح مشاعرہ شعر و ادب کی دل آویز فضا، تعلیمی خدمات کے اعتراف، اردو صحافت کی پذیرائی اور سماجی خدمت کے جذبے کے ساتھ یادگار بن گیا۔
تصویر منسلک ہے
Comments
Post a Comment