یومِ قومی ہندی زبان — ہند کی روح ہندی - "14 ستمبر: زبان، تہذیب اور قومی یکجہتی کا دن" - عقیل خان بیاولی، جلگاؤں۔
یومِ قومی ہندی زبان — ہند کی روح ہندی -
"14 ستمبر: زبان، تہذیب اور قومی یکجہتی کا دن" -
عقیل خان بیاولی، جلگاؤں۔
زبان محض الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتی؛ یہ انسان کے جذبات، خیالات، احساسات، تہذیب اور تاریخ کی امین ہوتی ہے۔ زبان ہی وہ وسیلہ ہے جس کے ذریعے انسان اپنے دل کی بات دوسرے تک پہنچاتا، اپنے تجربات نسلِ نو منتقل کرتا اور معاشرے کے ساتھ فکری و تہذیبی رشتے استوار کرتا ہے۔ کسی قوم کی شناخت میں اس کی زبان کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ ہندوستان جیسے کثیراللسان، کثیرالمذاہب اور کثیرالثقافت ملک میں زبانوں کی رنگا رنگی ہماری کمزوری نہیں بلکہ ہماری عظیم تہذیبی قوت ہے۔
14 ستمبر ہندوستانی زبان و ادب کی تاریخ میں ایک اہم دن ہے۔ اسی مناسبت سے ہر سال یومِ ہندی منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہمیں ہندی زبان کی اہمیت، اس کے فروغ اور ملک کی اجتماعی زندگی میں اس کے کردار پر غور کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ہندوستان میں ہزاروں زبانیں اور بے شمار بولیاں بولی جاتی ہیں۔ ہر زبان اپنے اندر ایک تہذیب، ایک تاریخ اور ایک مخصوص معاشرتی تجربہ سموئے ہوئے ہے۔ ان تمام لسانی رنگوں کے درمیان ہندی ایک ایسی زبان کے طور پر سامنے آتی ہے جس نے ملک کے مختلف علاقوں، طبقوں اور تہذیبوں کے درمیان رابطے کا مؤثر کردار ادا کیا ہے۔ اس کی سب سے بڑی خوبی اس کی وسعتِ قلبی اور جذب و قبول کی صلاحیت ہے۔ ہندی نے مختلف ہندوستانی زبانوں، بولیوں اور یہاں تک کہ غیر ملکی زبانوں کے الفاظ کو بھی اپنے دامن میں جگہ دی ہے۔ ہندی کی یہی کشادہ مزاجی اسے عوام سے جوڑتی ہے۔ اس زبان کا تعلق صرف کتابوں اور درس گاہوں تک محدود نہیں، بلکہ بازار، گلی، گھر، میڈیا، فلم، ریڈیو، ٹیلی ویژن اور اب ڈیجیٹل دنیا تک پھیلا ہوا ہے۔ عام آدمی کی گفتگو سے لے کر علمی و ادبی مباحث تک ہندی نے اپنی موجودگی مضبوطی سے درج کرائی ہے۔
ہندی زبان کی درس و تدریس جڑنے و طالب علم کی حیثیت سے میرا یہ احساس ہے کہ زبان کی حقیقی خدمت صرف اسے پڑھانے سے نہیں ہوتی بلکہ طلبہ کے دل میں اس کے لیے محبت، احترام اور فخر پیدا کرنے سے ہوتی ہے۔ جب کوئی طالب علم ہندی کا لفظ پڑھ کر اس کے معنی ہی نہیں بلکہ اس کے تہذیبی پس منظر کو بھی محسوس کرنے لگے، تب زبان کی تعلیم اپنے مقصد کو پہنچتی ہے۔ ہمیں بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ اپنی مادری زبان سے محبت کرتے ہوئے دوسری ہندوستانی زبانوں کا احترام بھی ہماری قومی ذمہ داری ہے۔ ہندی کا دیوناگری رسم الخط بھی اس کی شناخت کا اہم حصہ ہے۔ اس کی باقاعدہ ساخت اور صوتی خصوصیات اسے سیکھنے اور لکھنے میں سہولت فراہم کرتی ہیں۔ تاہم کسی بھی زبان کی اصل آسانی صرف رسم الخط میں نہیں بلکہ اس کے استعمال، تدریس اور ماحول میں ہوتی ہے۔ اس لیے ہندی کو نئی نسل تک پہنچانے کے لیے جدید اور دلچسپ تدریسی طریقوں کو اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ آج دنیا ڈیجیٹل انقلاب کے دور سے گزر رہی ہے۔ موبائل، انٹرنیٹ، مصنوعی ذہانت، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل تعلیم نے زبانوں کے استعمال کے انداز بدل دیے ہیں۔ ہندی نے بھی اس نئے عہد کو قبول کرتے ہوئے خود کو ڈیجیٹل دنیا سے ہم آہنگ کیا ہے۔ آج ہندی میں ویب سائٹس، ای کتابیں، آن لائن کلاسیں، ڈیجیٹل اخبارات، تعلیمی مواد، سائنسی مضامین اور تکنیکی اصطلاحات بڑی تعداد میں دستیاب ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندی صرف ماضی کی زبان نہیں بلکہ مستقبل کی زبان بننے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔
ہندی کا دائرۂ اثر ہندوستان تک محدود نہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں ہندوستانی نژاد افراد کے ساتھ ساتھ غیر ملکی طلبہ اور زبان سے دلچسپی رکھنے والے افراد بھی ہندی سیکھتے اور پڑھتے ہیں۔ ہندوستانی فلموں، موسیقی، ادب، یوگا، سیاحت اور ثقافتی روابط نے بھی ہندی کو عالمی سطح پر شناخت دلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہندوستانی آئین نے بھی ہندی کو دستورِ ہند کی دفعہ 343 کے تحت یونین کی سرکاری زبان کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ہندوستان کی لسانی عظمت کسی ایک زبان کی بالادستی میں نہیں بلکہ تمام ہندوستانی زبانوں کے باہمی احترام اور تعاون میں ہے۔ ہندی کا فروغ دوسری زبانوں کی نفی نہیں بلکہ ان کے ساتھ مکالمے اور اشتراک کا ذریعہ ہونا چاہیے۔
ہمیں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ زبانیں ایک دوسرے کی حریف نہیں ہوتیں؛ وہ ایک دوسرے کی معاون ہوتی ہیں۔ ہندی نے اردو، مراٹھی، سنسکرت، بنگالی، پنجابی، گجراتی، تمل، تیلگو اور دیگر ہندوستانی زبانوں سے الفاظ، محاورے اور تہذیبی اثرات قبول کیے ہیں۔ یہی باہمی لین دین ہندوستان کی گنگا جمنی اور مشترکہ تہذیبی روایت کو مضبوط کرتا ہے۔ آج یومِ ہندی منانے کا بہترین طریقہ صرف تقاریب، تقریری مقابلوں اور مشاعروں تک محدود رہنا نہیں، بلکہ ہندی کو تعلیم، تحقیق، سائنس، ٹیکنالوجی، صحافت اور روزمرہ زندگی میں زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا ہے۔ اسکولوں میں طلبہ کو ہندی کے اچھے ادب سے روشناس کرایا جائے، اساتذہ جدید تدریسی وسائل اختیار کریں اور نئی نسل کو یہ احساس دلایا جائے کہ زبان روزگار، علم اور ترقی کا وسیلہ بھی بن سکتی ہے۔
ہندی کی خدمت دراصل ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی میراث کی خدمت ہے۔ ہمیں اپنی ہر زبان پر فخر ہونا چاہیے اور ہندی کو اس کے وسیع تر قومی رابطے کے کردار میں آگے بڑھانا چاہیے۔ کیونکہ ہندوستان کی خوب صورتی اس کے لسانی گلستان میں ہے؛ جہاں ہر زبان ایک پھول ہے اور سب مل کر ہندوستان کی تہذیبی خوشبو کو دنیا تک پہنچاتے ہیں۔
یومِ ہندی ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ زبان صرف بولی نہ جائے، اسے جیا جائے؛ صرف پڑھائی نہ جائے، اسے نئی نسل کے دلوں میں اتارا جائے۔
ہندی واقعی ہند کی روح کی ایک توانا آواز ہے،ایسی آواز جو تنوع میں اتحاد، تہذیب میں ہم آہنگی اور دلوں میں باہمی محبت کا پیغام دیتی ہے۔
14 ستمبر یومِ ہندی کے موقع پر آئیے عہد کریں کہ ہم ہندی سمیت ہندوستان کی تمام زبانوں کا احترام کریں گے، انہیں سیکھیں گے، سکھائیں گے اور اپنی لسانی و تہذیبی وراثت کو آنے والی نسلوں تک پوری ذمہ داری کے ساتھ منتقل کریں گے۔
Comments
Post a Comment