چودہ 14 ستمبر — قومی یومِ ہندی - تحریر : حاجی محمد فضل الحق صدیقی۔
چودہ 14 ستمبر — قومی یومِ ہندی -
تحریر : حاجی محمد فضل الحق صدیقی۔
ابنِ محمد سلیم الحق صدیقی صاحب-
یاسر اردو ہائی اسکول، سیلو
ضلع پربھنی، مہاراشٹر
91-9970011948
ہندوستان ایک کثیر لسانی اور کثیر الثقافتی ملک ہے، جہاں مختلف علاقوں میں مختلف زبانیں بولی اور سمجھی جاتی ہیں۔ زبان کسی بھی قوم کی شناخت، تہذیب، ثقافت اور جذبات کے اظہار کا اہم ذریعہ ہوتی ہے۔ ہندوستان کی مختلف زبانوں میں ہندی کو ایک اہم مقام حاصل ہے۔ ہر سال 14 ستمبر کو ہندی دیوس (Hindi Diwas) منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد ہندی زبان کی اہمیت کو اجاگر کرنا، اس کے فروغ کی کوششوں کو تقویت دینا اور نئی نسل کو اپنی زبان و ثقافت سے جوڑنا ہے۔
ہندی دیوس کی تاریخی اہمیت
14 ستمبر 1949 کو دستور ساز اسمبلی نے ہندی کو دیوناگری رسم الخط میں ہندوستان کی سرکاری زبان کے طور پر قبول کیا۔ اسی تاریخی موقع کی یاد میں ہر سال 14 ستمبر کو ہندی دیوس منایا جاتا ہے۔آئینِ ہند کے آرٹیکل 343 کے مطابق یونین کی سرکاری زبان ہندی اور اس کا رسم الخط دیوناگری مقرر کیا گیا۔ اس فیصلے نے ہندوستان کی انتظامی اور سرکاری زبان کے حوالے سے ایک اہم آئینی بنیاد فراہم کی۔ہندی دیوس ہمیں اس تاریخی فیصلے کی یاد دلاتا ہے اور یہ پیغام دیتا ہے کہ ہندوستان کی مختلف زبانوں کے احترام کے ساتھ ہندی کے فروغ کے لیے بھی سنجیدہ کوششیں کی جائیں۔
ہندی زبان کی اہمیت
ہندی ہندوستان میں وسیع پیمانے پر سمجھی اور بولی جانے والی زبانوں میں سے ایک ہے۔ شمالی، وسطی اور دیگر کئی علاقوں میں ہندی یا اس سے متعلقہ بولیوں کا استعمال عام ہے۔ تعلیم، صحافت، ادب، فلم، ٹیلی ویژن اور عوامی رابطے میں بھی ہندی کا اہم کردار ہے۔ہندی نے مختلف علاقوں کے لوگوں کو ایک دوسرے سے رابطہ قائم کرنے میں مدد دی ہے۔ ایک کثیر لسانی ملک میں رابطے کی زبانیں لوگوں کے درمیان فاصلے کم کرنے اور باہمی تعلقات مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ہندی اور ہندوستانی ثقافت زبان اور ثقافت کا تعلق بہت گہرا ہے۔ ہندی ادب نے ہندوستانی معاشرے، تہذیب، تاریخ، سماجی مسائل اور انسانی جذبات کو خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ہندی ادب میں کبیر، तुलसीदास، सूरदास، प्रेमचंद، महादेवी वर्मा، रामधारी सिंह दिनकर اور دیگر بے شمار ادیبوں اور شاعروں نے اہم خدمات انجام دی ہیں۔ ان کی تخلیقات نے ہندوستانی ادب کو وسعت اور گہرائی عطا کی۔ہندی فلموں، ڈراموں، گیتوں اور ذرائع ابلاغ نے بھی ہندی کو ملک کے مختلف حصوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
تعلیم میں ہندی کا کردار
تعلیم کسی بھی زبان کے فروغ کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ اسکولوں اور کالجوں میں ہندی کی تعلیم طلبہ کو زبان کے ساتھ ساتھ ادب، تاریخ اور ثقافت سے بھی روشناس کراتی ہے۔طلبہ کو چاہیے کہ وہ ہندی کو صرف ایک مضمون سمجھنے کے بجائے اسے اظہار، مطالعہ اور تخلیقی صلاحیت کے ایک اہم وسیلے کے طور پر اپنائیں۔ ہندی کے ساتھ ساتھ دیگر ہندوستانی زبانوں اور انگریزی کا علم بھی طلبہ کے علمی دائرے کو وسیع کرتا ہے۔
ہندی اور قومی یکجہتی
ہندوستان کی خوبصورتی اس کی لسانی اور ثقافتی تنوع میں ہے۔ یہاں اردو، مراٹھی، تمل، تیلگو، بنگالی، گجراتی، پنجابی، کنڑ، ملیالم، آسامی اور دیگر کئی زبانیں بولی جاتی ہیں۔قومی یکجہتی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم کسی بھی زبان کو دوسری زبان کے مقابلے میں کمتر نہ سمجھیں۔ تمام ہندوستانی زبانیں ہمارے مشترکہ ثقافتی ورثے کا حصہ ہیں۔ ہندی دیوس کا اصل پیغام بھی زبانوں کے درمیان احترام، رابطے اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہونا چاہیے۔
ہندی اور اردو کا باہمی تعلق
ہندی اور اردو کے درمیان تاریخی اور لسانی سطح پر گہرا تعلق پایا جاتا ہے۔ دونوں زبانوں کے روزمرہ الفاظ اور بول چال میں بہت سی مماثلتیں موجود ہیں۔ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب نے دونوں زبانوں کو ایک دوسرے سے قریب کیا ہے۔ہندی اور اردو کے ادیبوں، شاعروں اور صحافیوں نے ہندوستانی معاشرے اور ثقافت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ زبانوں کے درمیان قربت کو سمجھنا ہمارے معاشرتی اتحاد اور مشترکہ تہذیبی ورثے کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
جدید دور میں ہندی
آج کا دور ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل میڈیا کا دور ہے۔ موبائل فون، سوشل میڈیا، ویب سائٹس، آن لائن تعلیم اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم نے زبانوں کے استعمال کے طریقوں کو تبدیل کر دیا ہے۔ہندی اب صرف کتابوں اوراخبارات تک محدود نہیں رہی بلکہ انٹرنیٹ، یوٹیوب، سوشل میڈیا، موبائل ایپلی کیشنز اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بھی بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہندی میں معیاری تعلیمی مواد، سائنسی معلومات، ٹیکنالوجی سے متعلق مواد اور تحقیق کو مزید فروغ دیا جائے تاکہ نئی نسل جدید علوم کو اپنی زبان میں بھی آسانی سے سمجھ سکے۔
ہندی دیوس کی تقریبات
ہر سال 14 ستمبر کو ملک کے مختلف تعلیمی اداروں، سرکاری دفاتر اور دیگر اداروں میں ہندی دیوس منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر,تقریری مقابلے منعقد کیے جاتے ہیں۔مضمون نویسی کے مقابلے کرائے جاتے ہیں۔ہندی شاعری اور مشاعرے منعقد کیے جاتے ہیں۔ہندی کوئز اور مباحثے کرائے جاتے ہیں۔طلبہ کو ہندی ادب سے متعارف کرایا جاتا ہے۔بہترین ہندی خدمات انجام دینے والوں کو اعزازات دیے جاتے ہیں۔ہندی زبان کے فروغ کے لیے مختلف پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔ایسی سرگرمیوں سے طلبہ میں زبان کے تئیں دلچسپی پیدا ہوتی ہے اور ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو بھی فروغ ملتا ہے۔
ہماری ذمہ داری
ہندی زبان کے فروغ کی ذمہ داری صرف حکومت یا تعلیمی اداروں کی نہیں بلکہ ہر شہری کی بھی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہندی کا احترام کریں، اسے صحیح انداز میں لکھنے اور بولنے کی کوشش کریں اور نئی نسل کو زبان کی اہمیت سے آگاہ کریں۔ساتھ ہی ہمیں ہندوستان کی تمام زبانوں کا احترام کرنا چاہیے۔ کسی زبان کی ترقی دوسری زبان کو کمزور کرنے سے نہیں بلکہ تمام زبانوں کے باہمی احترام اور ترقی سے ممکن ہے۔
طلبہ کے لیے پیغام
طلبہ کسی بھی ملک کا مستقبل ہوتے ہیں۔ انہیں اپنی مادری زبان کے ساتھ ہندی اور دیگر زبانوں کا بھی علم حاصل کرنا چاہیے۔ زبان سیکھنے سے انسان کے علم، سوچ اور رابطے کا دائرہ وسیع ہوتا ہے۔طلبہ کو چاہیے کہ وہ ہندی کی اچھی کتابیں پڑھیں، اخبارات اور رسائل کا مطالعہ کریں، ہندی میں مضمون اور کہانیاں لکھیں اور زبان کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔
اختتامیہ
14 ستمبر کا ہندی دیوس ہمیں ہندی زبان کی تاریخی، ادبی، تعلیمی اور سماجی اہمیت کی یاد دلاتا ہے۔ ہندی ہندوستان کے وسیع لسانی منظرنامے کا ایک اہم حصہ ہے اور اس نے ملک میں رابطے اور ادب کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ہمیں ہندی زبان کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ اردو، مراٹھی، تمل، تیلگو، بنگالی، گجراتی، پنجابی اور تمام ہندوستانی زبانوں کا احترام کرنا چاہیے۔ ہماری اصل طاقت ہماری لسانی، ثقافتی اور تہذیبی یکجہتی ہے۔آئیے اس ہندی دیوس پر عہد کریں کہ ہم زبانوں کے درمیان محبت، احترام اور بھائی چارے کو فروغ دیں گے اور ہندوستان کے شاندار لسانی و ثقافتی ورثے کی حفاظت کریں گے۔
*ہندی دیوس کی دلی مبارکباد..*
Comments
Post a Comment