جماعتِ اسلامی ہند کی جانب سے سیرت النبی ﷺ کوئز تحریری مقابلہ - جلگاؤں کی مختلف اسکولوں کے 750 طلبہ نے لیا حصہ؛ "سیرتِ رسول ﷺ سے شناسائی اور عملی زندگی میں اسوۂ حسنہ اپنانے پر زور"
جلگاؤں (عقیل خان بیاولی): نئی نسل کو سیرتِ رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے روشناس کرانے، آپ ﷺ کی حیاتِ طیبہ کے مختلف گوشوں کا مطالعہ کرنے اور سیرتِ نبوی ﷺ کے پیغام کو عام کرنے کے مقصد سے جماعتِ اسلامی ہند، جلگاؤں شاخ کی جانب سے سیرت النبی ﷺ کوئز تحریری مقابلے کا انعقاد عمل میں آیا۔ اس مقابلے میں شہر کے تقریباً تمام اہم تعلیمی اداروں کے 750 طلبہ و طالبات نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔ مقابلے میں شریک طلبہ کو تقریباً ایک ہفتہ قبل سیرتِ نبوی ﷺ پر مشتمل منتخب کتابیں مطالعے کے لیے فراہم کی گئی تھیں۔ سوال نامہ انہی کتب کے مندرجات کی بنیاد پر مرتب کیا گیا، تاکہ طلبہ نہ صرف سیرتِ رسول ﷺ کا مطالعہ کریں بلکہ اس کے اہم واقعات، تعلیمات اور عملی پہلوؤں کو سمجھنے کی کوشش بھی کریں۔ جماعت پنجم تا ہشتم کے طلبہ کے لیے جونیئر گروپ میں " ہمارے حضور ﷺ‘‘ جبکہ جماعت نہم تا دوازدہم کے طلبہ کے لیے سینئر گروپ میں ’’ہادیِ اعظم ﷺ‘‘ کتاب مطالعے کے لیے دی گئی تھی۔ طلبہ نے مقررہ مدت میں ان کتابوں کا مطالعہ کیا اور اس کے بعد تحریری مقابلے میں شرکت کی۔ یہ سیرت کوئز تحریری مقابلہ شہر کے تعلیمی ادارے ملت ہائی اسکول، مہرون میں منعقد ہوا، جہاں طلبہ نے بھرپور دلچسپی اور سنجیدگی کے ساتھ مقابلے میں حصہ لیا۔ منتظمین کے مطابق اس سرگرمی کا بنیادی مقصد محض مسابقت نہیں بلکہ طلبہ کے دل و دماغ میں سیرتِ طیبہ ﷺ کی محبت، آپ ﷺ کی تعلیمات سے واقفیت اور اسوۂ حسنہ کو زندگی میں اختیار کرنے کا شعور پیدا کرنا ہے۔
مقابلے میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ میں جماعتِ اسلامی ہند اور مقامی محمد زاہد دیشمکھ فاؤنڈیشن کی جانب سے انعامات آئندہ ماہ منعقد ہونے والی ایک پروقار تقریب میں تقسیم کیے جائیں گے۔ اس موقع پر جماعتِ اسلامی ہند جلگاؤں کے ضلعی صدر پروفیسر سہیل امیر شیخ، امیرِ مقامی جلگاؤں ڈاکٹر شیخ عبداللہ، نائب امیرِ مقامی کھاٹک رضوان احمد، فرید شیخ، ساجد دیشمکھ، موظف صدر مدرس گلاب شیخ، شفقت حسین، موظف سپروائزر عبدالقیوم شاہ، شیخ ساجد اختر، شیخ زیان احمد، ایس آئی او کے سابق صدرِ یونٹ دانش خان، دیگر ایسوسی ایٹس، جی آئی او کی ناظمہ رابیعہ رفیق خان، موظف صدر معلمہ عفیفہ شاہین میر، سمیت دیگر ذمہ داران اور معززین خصوصی طور پر موجود تھے۔
واضح رہے کہ موجودہ دور میں جب نوجوان نسل مختلف النوع فکری و سماجی چیلنجز سے دوچار ہے، ایسے میں سیرتِ نبوی ﷺ کے مطالعے کو تعلیمی و تربیتی سرگرمیوں کا حصہ بنانا نہایت اہمیت کا حامل ہے
Comments
Post a Comment