ممتاز عثمانین عارف قریشی کی حیدرآباد اور جدہ میں ادبی 'دینی' اور ملی خدمات قابل تحسین و ناقابل فراموش پرنس نجف علی خان کے ہاتھوں با وقار "کمیونٹی ایوارڈ" کی پیشکشی ،مولانا عبدالرحیم بانعیم، پروفیسر شکور، مولانا محمود بادشاہ اور ضیاء الدین نیر کا خراج تحسین۔
حیدرآباد 30 جولائی (پریس نوٹ) پرنس نجف علی خان ( نبیرہ آصف سابع نواب میر عثمان علی خان بہادر بانی جامعہ عثمانیہ حیدرآباد) نے جناب عارف قریشی کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں عارف قریشی کی خدمات کی دل سے قدر کرتا ہوں وہ عثمانین ہی نہیں غیر عثمانین کی بھی بہتر انداز میں خدمات انجام دے رہے ہیں پرنس نجف علی خان نے زبردست تالیوں کی گونج میں جناب قریشی کو باوقار" کمیونٹی ایوارڈ " پیش کیا اور کہا کہ جناب عارف قریشی نے عثمانیہ یونیورسٹی سے متعلق سوونیر بھی جاری کیا اور یونیورسٹی کے سو سال کی تکمیل پر جشن بھی منایا یہ بہت بڑی خوشی کی بات ہے وہ جدہ میں انڈین ایمبیسی اسکول میں بچوں کو کتابوں کی مفت سربراہی میں نمایاں خدمات انجام دیتے ہیں جو قابل تحسین اور قابل تقلید ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے سعودی عرب کے این آر آئی اور حیدرآباد کے معزز و نامور تنظیموں کی جانب سے ممتاز عثمانین جناب عارف قریشی جدہ بانی و صدر انڈین کلچرل سوسائٹی جدہ وصدر بزم عثمانیہ جدہ کی 50 سال سے سعودی عرب میں حب الوطنی سے سرشار بے لوث خدمات کے اعتراف میں منعقدہ جشن عارف قریشی سے خطاب کرتے ہوئے کیا جو میڈیا پلس آڈیٹوریم گن فاونڈری حیدرآباد میں منعقد ہوا پرنس نجف علی خان نے کہا کہ جناب عارف قریشی جدہ میں بھی جشن جمہوریہ اور یوم جمہوریہ کی تقریب بھی بڑے شاندار انداز میں منعقد کرتے ہیں جو کہ قابل ستائش اقدام ہے مولانا عبدالرحیم با نعیم سابق امام و خطیب مسجد الرحمن جدہ سعودی عرب نے کہا کہ اللہ اور مخلوق میں وہ شخص پسندیدہ ہوتا ہے جو اپنی صلاحیتوں کو اللہ کے بندوں کے نفع کے لیے وقف کر دیتا ہے ہمیں چاہیے کہ ہم فلاح و بہبود اور خیر کے کاموں میں جتنا ممکن ہو سکے بڑھ چڑھ کر حصہ لیں سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے مولانا عبدالرحیم با نعیم نے کہا کہ لوگوں میں اچھے لوگ وہ ہوتے ہیں جو لوگوں کے کام آتے ہیں بھلائی کے کام کرنے والوں کو اللہ تعالی استقرار عطا فرماتا ہے اور اگر ہم کوئی اچھا کام کرتے ہیں تو اس پر بھی ہم کو اللہ کا شکر گزار بندہ بننا چاہیے انہوں نے کہا کہ عوامی بھلائی کے کام کرنے والوں اور دیگر خیر کے کام کرنے والوں کے لیےہمارے معاشرے میں اہمیت سے پروگرام ہونے چاہیے انہوں نے جدہ میں عارف قریشی کی مختلف فلاحی اور ملی کاموں کے جذبے کو بے حد سراہا مولانا کی قراءت کلام پاک سے ہی تقریب کا آغاز ہوا ممتاز و معروف سنجیدہ مزاحیہ و نعتیہ شاعر جناب لطیف الدین لطیف نے بڑی ہی عمدگی کے ساتھ کاروائی چلائی اور اور نعت پاک سنائی پروفیسر ایس اے شکور سیکرٹری دائرۃ المعارف عثمانیہ یونیورسٹی نے کہا کہ جناب عارف قریشی بحیثیت منتظم بہت زیادہ خوبیوں کے مالک ہیں بزم عثمانیہ جدہ کے قیام کے ذریعے انہوں نے بہت سارے فلاحی کام انجام دیے ہیں حیدرآباد میں بھی اپنی زندگی کا ایک بہت بڑا حصہ انہوں نے عوامی فلاح و بہبود میں گزارا انہوں نے یہ بھی کہا کہ عارف قریشی کو عثمانیہ یونیورسٹی سے کافی لگاؤ ہے ان کی طویل خدمات کو مختصر انداز میں بیان نہیں کیا جا سکتا جناب عارف قریشی نے حجاج کرام کے لیے" حج کے پانچ دن " عنوان سے بھی ایک کتاب مرتب کی تھی جو کافی مقبول عام ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ جناب عارف اردو میڈیم طلباء کی بطور خاص ہر ممکن مدد کرتے ہیں یہ بہت مسرت کی بات ہے مولانا محمود بادشاہ قادری زریں کلا نے کہا کہ جناب عارف قریشی ہمیشہ خیر کے ہر کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ان سے اپنے دیرینہ تعلقات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جناب عارف قریشی نے جدہ پہنچنے کے بعد روزگار ہی کو ترجیح نہیں دی بلکہ عوامی خدمت ان کا ہمیشہ شعار رہا ہےسابق صدر بزم عثمانیہ جدہ اور سابق صدر کل ہندمجلس تعمیر ملت جناب ضیاء الدین نیر نے عارف قریشی کے ساتھ اپنے دیر ینہ تعلقات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہی کی کوششوں سے جدہ ریاض اور مدینہ منورہ میں بہت بڑے پیمانے پر مشاعرے منعقد ہوئے انہوں نے مختلف سماجی عوامی خدمات پر جناب عارف قریشی کو دل کی گہرائیوں کے ساتھ مبارکباد بھی دی پروفیسر محمد مسعود احمد چیف آپریٹنگ آفیسر رینووا بی بی کینسر ہاسپٹل ملک پیٹ حیدرآباد نے کہا کہ جناب عارف قریشی کی ادبی سماجی و دیگر خدمات قابل قدر ہیں انہوں نے کہا کہ جناب عارف قریشی نے چیلنجس کے دور میں سعودی عرب کے مختلف مقامات پر مشاعرے کر کے ایک شاندار روایت قائم کی ہے موجودہ دور میں مشاعرے کروانا آسان ہے ماضی میں صحرائے عرب میں مشاعروں کا انعقاد بھرپور چنجق سے کم نہیں تھا انہوں نے یہ بھی کہا کہ گلف میں اردو مشاعروں کا بڑے پیمانے پر آغاز کرنے کا سہرا جناب عارف قریشی کے سر ہی جاتا ہے انہوں نے جناب عارف قریشی کو دلی مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ آئندہ 50 برس تک اپنی خدمات جاری رکھیں گے اس موقع پر پروفیسر مسعود احمد نے جناب عارف قریشی کو منظوم تہنیت بھی پیش کی ممتاز و معروف سینیئر صحافی جناب کے این واصف نے اپنے مختصر سے خطاب میں جناب عارف قریشی کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں ایک مثالی شخصیت قرار دیا جناب محمد قیصر صدر تنظیم" ہم ہندوستانی" نے اپنے سنجیدہ و مزاحیہ لب و لہجے میں کہا کہ جناب عارف قریشی نے صحرائے عرب میں مختلف جہتوں سے اپنی خدمات انجام دی ہیں انہوں نے صاحب جشن کو جامعہ عثمانیہ کا قابل فخر سپوت قرار دیا مشاعرہ" انداز ہند" کے آرگنائزر جناب محمد قریشی نے کہا کہ جناب عارف قریشی جدہ میں حیدرآبادیوں کی شان ہیں انہوں نے مشاعروں کے ذریعے جو خدمات انجام دی ہیں وہ قابل قدر اور قابل تحسین ہیں جناب منہا ج احمد خان چیئرمین این آر آئی کلب انٹرنیشنل نے کہا کہ این آر آئزکی وجہ سے حکومت کو کافی زر مبادلہ حاصل ہوتا ہے انہوں نے حکومت ہند سے خواہش کی کہ وطن واپس لوٹنے والے این آر آئز کو ماہانہ مناسب انداز میں وظیفہ مقرر کیا جانا چاہیے انہوں نے عارف قریشی کی خدمات کو قابل قدر قرار دیتے ہوئے کہا کہ عارف قریشی نے اردو کے لیے اپنے شہر حیدرآباد اور دیار غیر میں جو خدمات انجام دی ہیں اور دے رہے ہیں ہم انہیں فراموش نہیں کر سکتے جناب ایس کے افضل الدین جنرل سکریٹری پردیش کانگرس کمیٹی نے بھی ولولہ انگیز انداز میں جناب عارف قریشی کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ عارف قریشی حیدرآبادی تہذیب و تمدن کی بہترین عکاس شخصیت ہیں ڈاکٹر خالد شہباز اور جناب لطیف الدین لطیف نے بھی جناب عارف قریشی کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا جناب عارف قریشی نے جناب عابد علی خاں مرحوم بانی ایڈیٹر روزنامہ سیاست اور جناب محبوب حسین جگر مرحوم جوائنٹ ایڈیٹر روزنامہ سیاست کی دیرینہ سرپرستی کے علاوہ ایڈیٹر روزنامہ سیاست جناب زاہد علی خان کے حسن تعاون اور جدہ میں 50 سالہ خدمات کو سراہتے ہوئے خبروں کو نمایاں طور پر شائع کرنے پر اور جشن کے انعقاد کےسلسلے میں نیوز ایڈیٹر جناب عامر علی خان کے بھرپور تعاون پر دلی شکریہ ادا کرتے ہوئے اظہار ممنونیت کیا اور کہا کہ جناب عامر علی خان نے اس جشن کے سلسلے میں جو صحافتی تعاون کیا ہے وہ میرے لیے قابل قدر ہے
عارف قریشی نےتمام محبان سے اظہار تشکر کیا اور اپنے تعلیمی دور سے لے کر مختلف فلاحی سرگرمیوں اور پھر جدہ میں انہوں نے جو خدمات انجام دیں تمام کا مختصر طور پر تذکرہ کیا انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اعزہ اسکول میں تعلیم حاصل کی تھی انہیں حجاج کرام کی خدمات کا بھی شرف حاصل ہوا ہے اس کے علاوہ جدہ میں انہوں نے مختلف کلچرل پروگرام بشمول قوالی کے پروگرام بھی کروائے اور محبان اردو کے ذوق کی تسکین کا سامان کیا اس کے علاوہ خمار بارہ بنکوی اور دیگر ممتاز بین الاقوامی شعرا کو مدعو کرتے ہوئے اردو شاعری کی ممکنہ حد تک خدمت کی ہے انہوں نے بتایا کہ جدہ میں حیدرآباد کا 400 سالہ جشن بھی منایا گیا عثمانیہ یونیورسٹی کی پلاٹنیم جوبلی بھی دو دن تک منعقد کی گئی اس کے علاوہ عثمانیہ یونیورسٹی کے 100 سال کی تکمیل پر بھی جشن منایا گیا اب تک کئی سوونئر بھی شائع کیے گئے انہوں نے اس جشن میں شرکت کرنے اور باوقار کمیونٹی ایوارڈ پیش کرنے پر پرنس نجف علی خان سے بھی اظہار تشکر کیا اور تمام مقررین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے تمام سامعین سے بھی اظہار ممنونیت کیا اس موقع پر مختلف تنظیموں اور جناب عارف قریشی کے محبان کی جانب سے بھی ان کی بکثرت گل پوشی وشال پوشی کی گئی اس موقع پر جناب حمزہ بن عمر المعروف ظفر پہلوان ، مولانا عبدالصبور بیابانی سرور، جناب محمد یونس سلیم،جناب شیخ نظام الدین لئیق, جناب زبیر بن محمد ,جناب محمد نصیر مرزا ,جناب محمود مصری , خادم اردو جناب محمد حسام الدین ریاض ،جناب محمد مظفر احمد, جناب مرزا نواز بیگ ,جناب محمد ذاکر حسین جناب محمد توفیق، جناب محمد احمد، جناب محمد صبغت اللہ شاہد، ڈاکٹر خواجہ فرید الدین صادق، جناب آتش حیدرابادی، ڈاکٹر ناظم علی اور دیگر معززین موجود تھے بزم عثمانیہ کے نائب صدر جناب عارف صدیقی،جنرل سیکرٹری جناب لئیق صدیقی،اور کلچرل سیکرٹری جناب سید رافع کے علاوہ جناب محمد عبدالواجد اور دوسروں نے اس جشن کے انتظامات کے سلسلے میں سرگرم رول ادا کیا لطیف الدین لطیف کے شکریہ پر یہ کامیاب محفل اپنے اختتام کو پہنچی
Comments
Post a Comment