جامِ سخن یعنی منظوم کلامِ شمسی - حضرت مولانا محمد سلیمان شمسی صاحب (سابق شیخ الحدیث دارالعلوم محمدیہ) رح کا مجموعہ، نعتیہ کلام پر تبصرہاز قلم : مفتی محمد اسلم جامعی۔


جامِ سخن یعنی منظوم کلامِ شمسی - 
حضرت مولانا محمد سلیمان شمسی صاحب (سابق شیخ الحدیث دارالعلوم محمدیہ) رح کا مجموعہ، نعتیہ کلام پر تبصرہ
از قلم : مفتی محمد اسلم جامعی۔ 
(استاذ دارالعلوم محمدیہ قدوائی روڑ مالیگاؤں)

دارالعلوم محمدیہ کے کتب خانہ میں ایک کتاب کی تلاش میں سرگرداں تھا دفعتاً دورانِ تلاش ایک کتاب پر نگاہ مرکوز ہوگئی، ہاتھ میں لیکر اس کی ورق گردانی کرنے لگا، یہ جامعہ بیت العلوم، دارالعلوم محمدیہ (مالیگاؤں) اور اشاعت العلوم اکل کوا کے سابق شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سلیمان شمسی صاحب رح کا شعری و نعتیہ مجموعہ تھا جو حضرت مولانا کے انتقال کے ایک ماہ قبل نومبر 1999 میں حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب فلاحی رح نے اپنے مکتبہ السّلام اکل کوا سے شائع کیا تھا، گزشتہ دو سال قبل راقم السطور نے حضرت مولانا محمد سلیمان شمسی صاحب رح کی حیات و خدمات پر ایک طویل مضمون جو چار قسطوں پر محیط تھا زیبِ قرطاس کیا تھا اُس مضمون کی تیاری کے لیے مولانا شمسی صاحب رح کی خود نوشت سوانح حیات، حیات شمسی کا باالاستیعاب مطالعہ کیا تھا اس کے بالکل آخری صفحہ پر اس مجموعۂ کلام کا اشتہار تھا حضرت مولانا کے فرزند مرحوم مولانا شاہد جمال صاحب رح سے رابطہ کیا مگر فی الفور ذوقِ مطالعہ سے محروم رہا آج بفضل اللہ تعالیٰ دید کا شرف حاصل ہوا، تو اُسی جگہ کھڑے کھڑے پوری پڑھ لیا تو دل میں یہ داعیہ موجزن ہوا کہ اس مجموعہ پر کچھ اپنے دلی جذبات و احساسات کو الفاظ و تحریر کا جامہ پہنا کر قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہیے تاکہ اس فن سے ذوق رکھنے والے اس مجموعہ کلام سے استفادہ کریں، 
یہ مجموعۂ کلام 48 صفحات پر مشتمل ہے شروع میں حضرت مولانا غلام محمد وستانوی صاحب رح کی مختصر تحریر تقدیم کے عنوان سےہے، دوسرے صفحہ پر حضرت مولانا طاہر خان صاحب مالیگاؤی رح کی تقریظ ہے اور پھر حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب فلاحی رح کی عرضِ ناشر کے عنوان سے ایک مختصر تحریر ہے، البتہ حضرت مولانا محمد سلیمان شمسی صاحب رح نے اپنے اس مجموعۂ کلام پر کچھ نہیں لکھا، اس کے مطالعہ سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اس مجموعۂ کلام میں بالکل سرسری انداز میں کچھ نمونہ جمع کر دئے گئے، چوں کہ فہرست بھی نہیں ہے اور غزل کا بھی کچھ نمونہ موجود نہیں ہے، اس میں ایک حمد، سات نعتیں اور دو سلام ہیں، اس کے علاوہ ایک آدھ وداعیہ و استقبالیہ ہے ( حُجّاج کے لیے) ، ایک بہترین نظم قرآن کی للکار کے عنوان سے ہے، جامعہ کے فارغین اور ختمِ بخاری کے عنوان سے نظمیں ہیں اس کے علاوہ اشاعت العلوم اکل کوا پر ایک نظم اور اس کا ایک ترانہ ہے، حضرت قاری صدیق صاحب باندوی رح حضرت مولانا غلام محمد وستانوی صاحب رح کے شیخ و مرشد اور جامعہ کے سرپرست تھے، اس لیے وقتاً فوقتاً ان کی وہاں حاضری ہوتی تھی، تین استقبالیہ نظمیں حضرت قاری صاحب رح کی آمد پر کہی گئیں نیز قاری صدیق صاحب باندوی رح کی وفات حسرت آیات پر ایک پُر سوز مرثیہ بھی شاملِ کتاب ہے حضرت مولانا غلام محمد وستانوی رح کی مخلصانہ محنت، دلسوزی، افتتاح مسجدِ میمنی، جامعہ کے فیضِ عام، جامعہ مظہر سعادت ہانسوٹ ، روحِ اقبال سے معذرت کے ساتھ، دعوتِ فکر، ان شاء اللہ اور چشمۂ حیوان کے عنوانات پر بہترین نظمیں ہیں جو مولانا شمسی صاحب رح کے شعری ذوق و شوق اور قادر کلامی پر غمّاز ہے، 

حضرت مولانا محمد سلیمان شمسی صاحب رح جہاں ایک محدث، فقہی، مسندِ تدریس پر جلوہ گر ہوکر علمی گتھیاں سلجھانے والے مدرس، پُر کیف خطیب تھے تو وہی پر وہ کہنہ مشق اور قادر الکلام شاعر و ادیب بھی تھے حضرت مولانا کے علاقہ خیرآباد کے نامور ادیب و شاعر مولانا فضلِ حق صاحب رح حضرت مولانا محمد سلیمان شمسی صاحب رح کے بابت فرماتے ہیں کہ شمسی تخلص فرماتے تھے شیدا خیرآبادی سے شرفِ تلمذ نے آپ کو دبستانِ باغ کا بلبل ہزار داستان بنادیا تھا، شمسی خیرآبادی رح نے تمام اصنافِ سخن پر طبع آزمائی فرمائی، نعتوں اور غزلوں کا معتدبہ حصہ اب بھی موجود ہے، شمسی صاحب رح نے نعتیں لکھیں اور خوب لکھی ہیں، بقول مولانا سید سلیمان ندوی رح،، نعت کی راہ شاعری کی مشکل ترین راہوں میں سے ہے، اور تمام اصنافِ شاعری میں مشکل ہے،،، شمسی صاحب رح اس مشکل ترین وادئ پُر خار کی جادہ پیمانی میں اپنے دامن کو غلوئے عقیدت اور شرک کی نحوست سے صاف بچالے گئے ہیں، (اسی طرح) شمسی صاحب کو غزلوں میں حسن کی جلوہ گری کے ساتھ ساتھ، عشق کی خودداری اور حوصلہ مندی بھی موجود ہے وہ عشق کی عظمت و برتری کو اس انداز میں پیش فرماتے ہیں کہ حسن کی ساری جلوہ طرازیاں عشق کی رہینِ منت معلوم ہوتی ہے (تاریخ خیرآباد و تذکرہ علماء و دانشوران صفحہ 179) عشقِ رسول میں ڈوبے جذبات جب الفاظ و تحریر کی شکل اختیار کرتے ہیں تو وہ نعت کہلاتے ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح سرائی بڑی نعمت ہے آپ کے شمائل کا تذکرہ عبادت ہے، شاعر نے کیا خوب کہا

 نعت کہنا اور سننا ہے عبادت اصل میں
نعت کیا ہے عشقِ شاہِ دیں کو گرما نے کا نام
لیکن یہ سفر انتہائی پُر خطر ہے بعض لوگ نعت گوئی میں مبالغہ آرائی کرتے ہوئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مقامِ الوہیت تک پہنچا دیتے ہیں مگر حضرت مولانا کا یہ مجموعہ کلام ان تمام مبالغہ آرائیوں سے پاک اور صاف ہے مطالعہ کریں اور سر دھنئیے اس میں حضرت مولانا نے نعت اور نظم کے ساتھ مرثیہ بھی لکھا چوں کہ اشعار کی دوسری صنف مرثیہ بھی ہے جس میں شاعر کے جذبات، یاس و حسرت اور رنج و الم کی کیفیت پنہاں ہوتی ہے، تیم بن نویرہ عربی زبان کے لا ثانی مرثیہ خواں ہیں اور عربی ادب کی تاریخ نے آج تک ان جیسا مرثیہ خواں پیدا نہیں کیا،ان کے بھائی مالک بن نویرہ بڑے بہادر انسان تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر اسلام لائے، جب تک مالک زندہ رہے تیم کو کوئی فکر نہ تھی نہ معاش کی فکر نہ گھر اور نہ اشعار کا کوئی خاص ذوق تھا لیکن مالک حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں مسلمانوں کے ہاتھوں مقتول ہوئے مالک کے جانے کے بعد تیم نے باقی زندگی بھائی کے غم میں مرثیوں کے لیے وقف کردی ان کو اپنے بھائی سے محبت ہی نہیں عشق تھا، پوری عمر خود بھی روتے رہے اور زمانے کو بھی رُلاتے رہے، اور حقیقت یہ ہے مالک کے غم نے تیم سے وہ دردناک مرثیے کہلوائے ہیں کہ جنہیں پڑھ کر آج بھی آنکھیں آشکبار اور دل غمگین ہوجاتا ہے پڑھیئے اور دیکھئیے کس قیامت کے عالم میں انھوں نے یہ شعر کہیے ہیں 

لقد لامنی عند القبور علی البکاء
رفیقی لتذراف الدموع السوافك
فقال أتبکی کل قبر رأیته
لقبرثوی بین اللوی فالدکادك
فقلت له ان الشیخا یبعت الشجا
فدعنی فھذاکله قبر مالك

(١)قبروں کے پاس میری آنکھوں سے اشکہائے غم کا سیلاب رواں دیکھ کر میرے رفیق نے مجھے ملامت کی، (٢) کہنے لگا یہ کیا ہے صرف مالک کی وجہ سے تو ہر قبر کو دیکھ کر رونے لگتا ہے، (٣) میں نے کہا، درحقیقت ایک غم کا منظر، دوسرے غم کی یاد تازہ کرتا ہے، لہذا مجھے رونے دیں میرے لیے تو یہ تمام قبریں مالک کی قبر بن گئی ہیں (توضیح الدراسة فی شرح الحماسة صفحہ ١٤ لإبن الحسن عباسی )
الغرض مرثیہ میں بھی شاعرکے جذبات و احساسات پنہاں ہوتے ہیں، شاعری ذوق کے خوگر افراد کو اس مختصر سے مجموعہ کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے احباب کی تسکینِ ذوق کے لیے جامِ سخن سے مولانا شمسی صاحب رح کے اشعار کا کچھ نمونہ پیشِ کرتا مگر مضمون کی طوالت کے لیے اس کو قلم انداز کرتا ہوں 

منجانب ادارہ پیغامِ جامعی مالیگاؤں۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔