امیروں کا استقبال غرباء کی حقارت - از قلم : شعیب احمد محمدی۔
امیروں کا استقبال غرباء کی حقارت -
از قلم : شعیب احمد محمدی۔
9284434542
یہ ہمارے معاشرے کی ایک عام اور تلخ حقیقت بن چکی ہے کہ لوگ دولت دیکھ کر رشتے نبھاتے ہیں اور غربت دیکھ کر منہ موڑ لیتے ہیں۔ جہاں کوئی امیر شخص آ جائے تو فوراً کرسیاں پیش کی جاتی ہیں، چائےناشتہ کا خاص اہتمام ہوتا ہے، گھنٹوں بیٹھ کر اس کے حالات پوچھے جاتے ہیں اور آخر میں یہ یقین بھی دلایا جاتا ہے کہ "آپ کو کسی بھی چیز کی ضرورت ہو، کوئی کام ہو، کوئی پریشانی ہو تو ہمیں ضرور یاد کیجیے گا۔ ہم ہروقت آپکی خدمت کے لئے حاضر ہیں"۔
لیکن دوسری طرف وہی شخص جب کسی غریب، ضرورت مند یا سفید پوش انسان سے ملتا ہے تو نظریں چرا لیتا ہے۔ حال چال پوچھنا تو دور، دو منٹ بات کرنا بھی گوارا نہیں کرتا۔ ایسا لگتا ہے جیسے غربت کوئی بیماری ہے جس کے لگنے کا ڈر ہے۔
اہل علم کی غرباء سے دوری
ہائے افسوس! آج کچھ اہل علم میں بھی وہی بیماری آ گئی ہے جو عام لوگوں میں تھی۔ وہ غرباء سے ملنا تو دور، ان کا فون تک اٹھانا پسند نہیں کرتے۔ معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ اپنے قریبی ساتھیوں ،حواری، چمچوں سے کہہ دیتے ہیں کہ "ان کو مجھ سے ملنے سے روک دو، کوئی نہ کوئی بہانہ بنا دو، بس وہ ہم سے ملنے نہ پائیں"۔
یہ رویہ علم کی شان کے بالکل خلاف ہے۔ علم کا مقصد ہی یہ تھا کہ امیر اور غریب کی تمیز مٹا کر سب کو ایک نظر سے دیکھا جائے۔ نبی کریم ﷺ کے دربار میں بادشاہ بھی آتا تھا اور چرواہا بھی، اور دونوں کے لیے دروازہ برابر کھلا تھا۔ صحابہ کرام اور بزرگان دین رات کے اندھیرے میں غریبوں کے گھروں کا راشن پہنچاتے تھے۔
لیکن آج جب ایک سفید پوش یا ضرورت مند آدمی کسی عالم سے ملنے جاتا ہے تو اسے گھنٹوں بٹھایا جاتا ہے، یا صاف انکار کر دیا جاتا ہے۔ حالانکہ وہ اپنی دنیا کا کوئی مسئلہ نہیں لے کر جاتا ہے، بس دین کا ایک سوال یا زندگی کی ایک پریشانی لے کر آیا ہوتا ہے۔
یاد رکھیں، علم کی عزت عاجزی سے ہے، تکبر سے نہیں۔ جس علم نے آپ کو لوگوں سے اونچا کر دیا اور آپ کو غریب کا دکھ نظر آنا بند ہو گیا، تو سمجھ لیں کہ وہ علم نفع والا نہیں رہا۔
اہل علم قوم کے معالج ہوتے ہیں۔ اگر معالج ہی مریض سے ملنے سے انکار کر دے تو شفا کہاں سے آئے گی؟
ہماری سوچ کی اصلاح
یہ رویہ صرف بدتمیزی نہیں، یہ ہماری سوچ کی بیماری ہے۔ ہم نے انسان کی عزت اس کے کردار، اخلاق اور تقوی سے نہیں بلکہ اس کے بینک بیلنس، گاڑی اور کپڑوں سے تولنا شروع کر دیا ہے۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ رزق دینے والا اللہ ہے۔ آج جو امیر ہے کل غریب ہو سکتا ہے، اور جو غریب ہے کل اللہ اسے نواز دے۔
اسلام نے تو ہمیں یہ سکھایا ہے کہ غریبوں سے محبت کرو، ان کے پاس بیٹھو، ان کا دکھ بانٹو۔ نبی کریم ﷺ مسکینوں کے ساتھ کھانا کھاتے تھے۔ صحابہ کرام غریبوں کی عزت کرتے تھے۔
نتیجہ
یاد رکھیں، اصل بڑائی پیسے میں نہیں، دل میں ہے۔ جس دن ہم نے غریب کا ہاتھ تھامنا شروع کر دیا، اسی دن ہمارا معاشرہ سدھر جائے گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم امیر کو اس کی حیثیت کی وجہ سے نہیں، انسان ہونے کی وجہ سے عزت دیں۔ اور غریب کو اس کی غربت کی وجہ سے حقیر نہیں، بلکہ اس کی عزت نفس کی وجہ سے اپنائیں۔
کیونکہ قبر میں نہ بینک بیلنس جائے گا نہ گاڑی۔ وہاں صرف آپ کا اخلاق اور لوگوں کے ساتھ کیا گیا سلوک اور نیکیاں کام آئے گا۔
اللہ ہم سب کو خاص کر اہل علم اور اونچے طبقے کو سچا اخلاص اور مخلوق کی خدمت کی توفیق دے۔ آمین۔
Comments
Post a Comment