ضمیر کب جاگے گا؟ - کالم۔۔ از قلم: رہبر تماپوری۔


 ضمیر کب جاگے گا؟ - کالم۔
از قلم: رہبر تماپوری۔
رابطہ: 8431012141

انسان زندگی بھر کامیابی، آسائش اور خوش حالی کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے۔ کوئی دولت کو کامیابی سمجھتا ہے، کوئی جائیداد کو اور کوئی اختیار کو۔ لیکن حقیقی کامیابی دوسروں کا حق چھیننے میں نہیں، بلکہ حق دار کو اس کا جائز حق دینے میں ہے۔ افسوس کہ بعض لوگ اپنے ہی خاندان کے افراد کی وراثت پر قبضہ کرکے، چند دستاویزات اپنے نام کرواکے اور چالاکی کو دانش مندی سمجھ کر یہ گمان کر لیتے ہیں کہ انہوں نے بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ وہ زمین، مکان اور دولت تو اپنے قبضے میں لے لیتے ہیں، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر حق کے ساتھ ذمہ داری اور ہر ظلم کے ساتھ حساب وابستہ ہے۔ تب دل سے ایک سوال اٹھتا ہے: ضمیر کب جاگے گا؟

کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کی جائیداد محض زمین، مکان یا دولت نہیں رہتی، بلکہ وارثوں کے حقوق سے متعلق ایک امانت بن جاتی ہے۔ ہر حق دار کا حصہ اس کی طاقت، کمزوری یا ضرورت کے مطابق نہیں، بلکہ انصاف کے اصولوں کے مطابق ہوتا ہے۔ مگر بعض لوگ دھوکے، دباؤ، چالاکی یا قانونی پیچیدگیوں کے ذریعے کاغذات اپنے نام کروا لیتے ہیں۔ وہ چند دستاویزات کو اپنی فتح سمجھتے ہوئے دوسروں کے جائز حصے پر قبضہ جما لیتے ہیں۔ لیکن اگر کاغذ کے پیچھے فریب، حق تلفی اور ناانصافی ہو تو کیا صرف نام درج ہو جانے سے اصل حق بدل جاتا ہے؟

حق تلفی کرنے والا بظاہر مطمئن اور کامیاب دکھائی دے سکتا ہے، مگر وہ حقیقی ذہنی سکون سے محروم رہتا ہے۔ رات کی خاموشی میں ضمیر اس سے سوال کرتا ہے: جس زمین پر تم فخر کر رہے ہو، کیا اس میں کسی یتیم کا حصہ نہیں؟ جس مکان کو تم کامیابی کہتے ہو، کیا اس کی بنیاد کسی بہن، بھائی یا کمزور وارث کے حق پر قائم نہیں؟ انسان دنیا کے سامنے اپنی کامیابی کا اظہار کر سکتا ہے، مگر اپنے دل کی عدالت سے کب تک بچ سکتا ہے؟ ضمیر کی آواز وقتی طور پر دبائی جا سکتی ہے، مگر ہمیشہ کے لیے ختم نہیں کی جا سکتی۔

سب سے دردناک صورت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کسی وارث کے انتقال کے بعد اس کے بچوں کو جائز حق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ جن بچوں کے سر سے والد یا والدہ کا سایہ اٹھ چکا ہو، ان کی بے بسی سے فائدہ اٹھانا صرف مالی ناانصافی نہیں، بلکہ رشتوں، اخلاق اور انسانیت کے خلاف سنگین ظلم ہے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ کمزور وارث خاموش ہیں، اس لیے معاملہ ختم ہو گیا؛ مگر خاموشی ہمیشہ رضامندی نہیں ہوتی۔ کسی مجبور کی خاموش آنکھیں بھی انصاف کے دروازے پر سوال بن کر کھڑی رہتی ہیں۔ ان کی خاموش فریاد، محرومی اور بے بسی ایک ایسے دکھ کی تصویر بن جاتی ہے جسے کوئی حساس دل آسانی سے نظر انداز نہیں کرسکتا۔

انسان دنیا کی عدالتوں، لوگوں کے سوالوں اور قانونی پیچیدگیوں سے شاید بچ نکلے، مگر آخرت کی جواب دہی سے بچنا ممکن نہیں۔ قیامت کے دن، میدانِ حشر میں وہی وارث اپنے حق کے بارے میں سوال کریں گے، جن کے حصے دنیا میں دبائے گئے تھے۔ وہاں نہ طاقت کام آئے گی، نہ دولت، نہ اثر و رسوخ اور نہ کاغذی چالاکی۔ وہاں ہر شخص کو اپنے اعمال کا جواب دینا ہوگا۔ جس نے کسی کا حق لیا ہوگا، اسے بتانا پڑے گا کہ اس نے ایسا کیوں کیا اور کس بنیاد پر کیا۔ دنیا میں چھپائی گئی حقیقت وہاں ظاہر ہوگی اور ہر محرومی کا حساب سامنے آئے گا۔

بعض اوقات اللہ تعالیٰ انسان کو فوری طور پر گرفت میں نہیں لیتا۔ وہ مہلت دیتا ہے، رزق عطا کرتا ہے اور بظاہر کامیابی بھی نصیب ہونے دیتا ہے۔ مگر ظاہری خوش حالی کو ہمیشہ حقانیت کی دلیل سمجھ لینا بڑی غلطی ہے۔ مظلوم کی دعا، آہ اور فریاد کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔ انسان نہیں جانتا کہ کسی محروم دل کی فریاد کب اور کس صورت میں اثر دکھائے گی۔ ظلم سے حاصل ہونے والی آسائش وقتی ہوسکتی ہے، مگر اس کے نتائج ہمیشہ انسان کے اختیار میں نہیں رہتے۔

اس لیے ہر شخص کو اپنے دل سے پوچھنا چاہیے: کیا میری خوش حالی کسی محروم حق پر قائم ہے؟ کیا میری کامیابی کے پیچھے کسی وارث کی بے بسی، کسی یتیم کی محرومی یا کسی مظلوم کی آہ تو نہیں؟ اگر جواب ہاں میں ہو تو ابھی بھی وقت ہے کہ حق دار کو اس کا جائز حق دے دیا جائے۔ دنیا کی کامیابی چند روزہ ہے، مگر اعمال کا حساب باقی رہنے والا ہے۔ جائیداد سے بڑھ کر رشتے، دولت سے بڑھ کر انصاف اور چالاکی سے بڑھ کر صاف ضمیر ہے۔ حقیقی کامیابی حق چھیننے میں نہیں، بلکہ حق لوٹانے میں ہے۔ مظلوم کی آہ کو معمولی نہ سمجھو، کیونکہ انصاف کی گرفت خاموش ضرور ہوتی ہے، مگر بے اثر نہیں۔ آخر ضمیر کب جاگے گا؟

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔