آج کی حکومتیں اور حضرت عمر فاروقؓ کا طرزِ حکمرانی - ازقلم: سید فاروق احمد قادری۔


آج کی حکومتیں اور حضرت عمر فاروقؓ کا طرزِ حکمرانی - 
ازقلم: سید فاروق احمد قادری۔

دنیا کی تاریخ میں بہت سے حکمران گزرے، مگر چند ہی ایسے ہوئے جنہیں صدیوں بعد بھی انصاف، دیانت، سادگی اور عوامی خدمت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ حضرت عمر فاروقؓ انہی عظیم حکمرانوں میں سے ایک ہیں۔ ان کا دورِ خلافت اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ ایک ریاست کی اصل طاقت اس کے انصاف، عوامی خدمت اور جوابدہی میں ہوتی ہے، نہ کہ صرف اقتدار اور قوت میں۔
اسلامی تاریخ میں بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ رات کے وقت بھیس بدل کر مدینہ کی گلیوں میں گشت کرتے تھے تاکہ اپنی رعایا کے حالات خود دیکھ سکیں۔ اگر کہیں کوئی بھوکا، بیوہ، یتیم یا ضرورت مند ہوتا تو اس کی مدد کو اپنا فرض سمجھتے۔ بیت المال کے ذریعے معاشرے کے کمزور طبقات کی کفالت کا منظم نظام قائم کیا گیا، جو فلاحی ریاست کی ایک روشن مثال ہے۔
روایت ہے کہ ایک رات‌ گشت کے دوران انہوں نے ایک خاتون کی درد بھری آواز مکان سے سنی، جس کا شوہر کئی ماہ سے جہاد پر گیا ہوا تھا۔ اس واقعے نے انہیں احساس دلایا کہ ریاست کی ذمہ داری صرف سرحدوں کی حفاظت نہیں، بلکہ خاندانوں کے حقوق کا تحفظ بھی ہے۔ اسی لیے انہوں نے فوجیوں کو طویل عرصے تک اپنے اہلِ خانہ سے دور نہ رکھنے کا انتظام فرمایا۔
ایک اور مشہور روایت میں آتا ہے کہ گشت کے دوران حضرت عمر فاروقؓ نے ایک بیوہ عورت کی بھوک اور پریشانی دیکھی۔ وہ خود بیت المال گئے، اپنے کندھوں پر آٹا اور دیگر ضروری سامان اٹھا کر لائے، کھانا تیار کیا اور اس عورت کو کھلایا۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ عظیم حکمران وہی ہوتا ہے جو عوام کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھے۔
آج بھی حکومتیں عوام کی فلاح کے لیے راشن، پنشن، وظائف اور دیگر امدادی اسکیمیں نافذ کرتی ہیں، جو خوش آئند اقدام ہیں۔ لیکن ایک مثالی حکومت صرف منصوبوں سے نہیں بنتی، بلکہ انصاف، شفافیت، جوابدہی اور عوام کے مسائل سے مسلسل آگاہ رہنے سے مضبوط ہوتی ہے۔
اگر ہر سطح پر—مرکز، ریاست، ضلع، تعلقہ اور گرام پنچایت—انتظامیہ عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل کو سمجھے، تعلیم، زراعت، روزگار، خواتین کی بہبود اور غریبوں کی ضروریات پر مسلسل توجہ دے، تو حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد مزید مضبوط ہوگا اور ترقی کے ثمرات معاشرے کے آخری فرد تک پہنچ سکیں گے۔
ہندوستان کو آج سب سے زیادہ ضرورت معیاری تعلیم، مضبوط معیشت، سماجی انصاف اور قومی یکجہتی کی ہے۔ نئی نسل کو اپنی تاریخ، اپنے عظیم رہنماؤں اور اعلیٰ اخلاقی اقدار سے روشناس کرانا بھی ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے، کیونکہ مضبوط کردار اور معیاری تعلیم ہی کسی قوم کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتے ہیں۔
یہ مضمون کسی حکومت یا شخصیت پر تنقید کے لیے نہیں، بلکہ ایک ایسے طرزِ حکمرانی کی یاد دہانی ہے جس میں اقتدار سے زیادہ اہمیت عوام کی خدمت، انصاف اور امانت داری کو دی جاتی ہے۔ حضرت عمر فاروقؓ کا عدل، سادگی، خدمتِ خلق اور جوابدہی آج بھی ہر حکمران اور ہر معاشرے کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں عدل، دیانت، خدمتِ خلق، سچائی اور انسانیت کی خدمت کے جذبے کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
 سید فاروق احمد قادری

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔