غزل - میربیدری، کرناٹک۔
غزل -
میربیدری، کرناٹک۔
تجھے نزدیک ہر دم لاؤں چل کر
مگرکچھ دیکھ لیتے داؤں چل کر
بڑی سرعت سے ہم آئے ہیں گاؤں
وہ واپس آئے پاؤں پاؤں چل کر
برس بیتے، تمنا اپنی بھی ہے
ترے رستے پہ میں دِکھلاؤں چل کر
اسے شرمانا کیاآئے، ہے یہ شرط
اسی کی طرح میں شرماؤں چل کر
اسی اک آرزو کے ساتھ ہے وہ
ذرا میں پاس اس کے آؤں چل کر
بزرگوں نے جہاں تھے دن گزارے
کبھی وہ دیکھ آتے گاؤں چل کر
قیامت آئے تو ان کے ہی دربار
لئے اپنا کٹا سر جاؤں چل کر
پسند اس کی ہے، دعوت اس کی ہے میرؔ
پسندیدہ میں میٹھا کھاؤں چل کر
Comments
Post a Comment