پندرہ 15 اگست کی صبح درخشاں - محمد ناظم ملی، جامعہ اکلکواں۔
پندرہ 15 اگست کی صبح درخشاں -
محمد ناظم ملی، جامعہ اکلکواں۔
برسوں کی غلامی کے بعد 15 اگست 1947 کو جو صبح درخشاں باشندگان ہند کی قسمت اور تقدیر میں ائی درحقیقت وہ ان ہندوستانیوں کا وہ سہانا سپنا اور خواب تھا جس کی تعبیر کے حصول میں ہندوستانی نرگس سینکڑوں سال بے نور رہی تھی تاہم دیوانگان عشق ازادی ہر راہ سے اپنے مقصد و مراد کو پہنچے جہاں انہوں نے ازادی کی نیلم پری اور نرگس مستانہ کو گلے لگانے کے شوق میں ہزار ہا ہزار گلے کٹوا دیے ہزاروں جانیں ارپن اور قربان کر دی وہیں انہوں نے بصد شوق اپنے دیرینہ ملک اور پیارے وطن کے لیے ہر چھوٹی بڑی قربانی پیش کرنے سے کبھی بھی دریغ نہیں کیا۔ وطن عزیز کی محبت میں سرشار رہے اور ایک منٹ کے لیے بھی اپنے پیارے وطن سے بے اعتنائی اور بے وفائی نہیں کی وہ اورتھے جو انگریز کی غلامی بصد شوق اختیار کر رہے تھے اور اسی میں ان کو مزہ ا رہا تھا۔ لیکن باشندگان ہند میں اس وقت ایسے لوگ بھی تھے جو انگریزوں کو ایک لمحہ کے لیے ہند کی سرزمین پر دیکھنا نہیں چاہتے تھے اور وہ یہ صدا لگاتے رہے تھے
ہے جرم اگر وطن کی مٹی سے محبت
یہ جرم سدا میرے حسابوں میں رہیں گا
یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ ازادی دنیا کی بہت بڑی نعمت ہے اور غلامی دنیا کی سب سے بڑی لعنت ہے ازادی کاایک لمحہ غلامی کی ہزار سالہ زندگی سے بہتر ہوتاہے غلامی جب گلے کا طوق ہے، تو یقینا ازادی بھی جواہرات سے مزین گلے کا ایک ہار ہے، اور خدا کی رحمتوں میں سے ایک بڑی رحمت ہے،
یقینا غلامی خدا کی لعنت کا طوق ہے، غلامی حسن زبانی سے محرومی کا ایک اعلان ہے ،غلامی ذہنی صلاحیتوں کی زنگ الودگی کا نام ہے، غلامی اپنی خودداری اور انا کو فنا کے گھاٹ اتارنے کا نام ہے، غلامی دوسروں کی خوشی کے لیے اپنی مسرتوں کو پامال کرنے کی رسم قدیم ہے، غلامی چاہے ذہنی ہو ، غلامی چاہے قلبی ہو، غلامی چاہے لسانی ہو ،غلامی چاہے قلمی ہو ، غلامی ہرحال میں بندوں سے جینے کا حق چھین لیتی ہے، اسی لیے اسلام میں غلامی لعنت کا تصور ہے اور ازادی کی ایک خاص اہمیت ہے ۔
تم ہو ایک زندہ و جاوید روایت کے چراغ
تم کوئی شام کا سورج ہو جو ڈھل جاؤ گے
ازادی یقینا انسان کو اپنے حقوق کے ساتھ جینے کا سلیقہ سکھاتی ہے، جیو اور جینے دو کے طریقوں سے اشنا کرتی ہے ، یقینا ازادی ہر نفس زکیہ، اور ثاقب ذہن، تازہ طبیعت انسان کی ہر تمنا سے پہلی تمنا اور ہر ارزو سے پہلی ارزو ہوتی ہے ازادی اپنے متوالوں میں چیتے کا جگر اور شاہین کا تجسس پیدا کرتی ہے۔ ممولے کو شہباز سے نبرد ازما ہونے کا حوصلہ دیتی ہے۔ بلبل بے نوا میں شاہین کی ادا پیدا کرتی ہے جی ہاں! ازادی انسانی صلاحیتوں کو جلا بخشتی ہے, ازادی ہی رونق بہاراں ہے اور قلب حزین کے لیے سامان مسرت بھی۔
خدا کرے میری ارض ہند پر پڑے
وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
اپ مانے نہ مانے مگر سچ یہی ہے کہ ازادی کی یہ نیلم پر ی۔اور عروس دلربا ہم کو جو ملی ہے اس کے لیے مصائب و الام کے دریا عبور کیے گئے ہیں باشندگان ہند خصوصا مسلمانوں کی ہڈیاں اینٹوں کی جگہ اور خون پانی کی جگہ استعمال ہوا ہے یہ مبالغہ ارائی نہیں حقیقت کا وہ سچا پہلو ہے جو سچی تاریخ کا اج بھی ایک اہم عنوان بنا ہوا ہے اور تاریخ پر لکھی گئی کتابوں کی زینت بنا ہوا ہے فرصت ملے تو ضرور پڑھیے۔ فیس بک انسٹاگرام یوٹیوب واٹس ایپ یونیورسٹی سے مت پڑھیے! اپ کو وہاں سچائی نظرنہیں ائے گی حقیقت تاریخ کی مستند کتابوں میں نظر ائے گی وہاں اپ کو نظر ائے گا جلیان والا باغ، مالٹا کی جیل، دلی کا چاندنی چوک ،بکسر کی لڑائی، بعبور دریائے شور ،یعنی کالے پانی کی سزائیں، ٹیپو کا حوصلہ حیدر علی کی جدوجہد شاہ عبدالعزیز کا فتوی قاسم نانوتوی کی ثاقب ذہنی ازاد و جوہر کی طبع ازمائی سبھاش چندر بوس گاندھی وہ نہرو کی کوششیں سب دکھائی دے گی، اس گراں قدر تخلیق ازادی کا اندازہ وہی لوگ لگا سکتے ہیں جن کے یہاں غلامی کو لعنت سمجھا جاتا ہے اور جن کا تصور یہ ہے
شہیدوں کے لہو سے جو زمین سیراب ہوتی ہے
بڑی زرخیز ہوتی ہے بڑی شاداب ہوتی ہے
Comments
Post a Comment