ملک میں ہرسال 10 ہزار سے زائد کسانوں کی خودکشی،ذمہ دار کون؟ازقلم : سرفرازاحمدقاسمی حیدرآباد۔


ملک میں ہرسال 10 ہزار سے زائد کسانوں کی خودکشی،ذمہ دار کون؟
ازقلم : سرفرازاحمدقاسمی حیدرآباد۔
رابطہ: 8099695186

     پچھلے دنوں شہرحیدرآباد کے علاقے شمس آباد کے قریب بہادر گوڑہ گاؤں میں مجوزہ بلیٹ ٹرین ہب کے لیے 650 ایکڑ اراضی کی باڑبندی کے دوران،پیدا ہونے والی کشیدگی ایک بار پھر اس بنیادی سوال کو سامنے لے آئی ہے کہ کیا ترقیاتی منصوبوں کو مقامی لوگوں کےحقوق اورمعاشی تحفظ کونظرانداز کر کے آگے بڑھایا جاسکتا ہے؟یہ کیسی حکومت ہے جو عوام کے بنیادی حقوق اور انکے معاشی تحفظ کا بالکل کوئی خیال نہیں رکھناچاہتی؟ آخر یہ کیسی ترقی ہے جوعوامی مفاد سے پرے ہے؟پھر ایسی ترقی کا کیا مطلب ہوسکتاہے؟ ترقی ہرریاست کی اہم ضرورت ہے لیکن اگر اس کی قیمت کسانوں کے روزگار اورسماجی استحکام کی صورت میں ادا کی جائے تو یہ ترقی اپنے مقصد سے کوسوں دور ہوجاتی ہے،پھر ایسی ترقی کا کوئی مطلب نہیں رہ جاتا،مرکزی حکومت کی جانب سے حیدرآباد کو پونے(مہاشٹرا) چنئی(تامل ناڈو) اور بنگلور(کرناٹک) یعنی تین ریاستوں سے جوڑنے والی تیزرفتار ریل راہداری منصوبے،مستقبل کے ہندوستان کی جدید انفراسٹرکچر پالیسی کا اہم حصہ ہیں،اسی منصوبے کے تحت شمس آباد کے راجیو گاندھی بین الاقوامی ایئرپورٹ کے قریب،بلیٹ ٹرین ہب قائم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔بلا شبہ ایسے منصوبے،سرمایہ کاری،روزگار اور اقتصادی ترقی کے نئے مواقع پیدا کرتے ہیں لیکن ان کی کامیابی کا انحصار اس بات پربھی ہے کہ متاثرہ آبادی کو کس حدتک اعتماد میں لیاجاتا ہے؟بہادر گوڑہ کے کسانوں کا موقف ہے کہ اگرچہ ان کے پاس اراضی کی ملکیت کےسرکاری دستاویزات نہیں ہیں لیکن وہ برسوں سے اس زمین پر کاشتکاری کرتے آرہے ہیں اور یہی ان کی روزی روٹی کا واحد ذریعہ ہے۔دوسری جانب سرکاری ادارے،خصوصا ریوینیومحکمہ اورہائیڈرا سرکاری ریکارڈ کی بنیاد پر اس زمین کوسرکاری ملکیت قرار دے رہے ہیں۔یہ قانونی تنازع اپنی جگہ اہم ہے لیکن اس سے بھی زیادہ اہم سوال ان درجنوں خاندان کے مستقبل کا ہے جو پچھلے کئی دہائیوں سے اس زمین اور اسکی کاشت کاری پر انحصار کرتے رہے ہیں،تشدد،جھڑپیں،گرفتاریاں اور احتجاج کسی مسئلے کا پائیدارحل نہیں ہوتے۔ اگرمظاہرین نے قانون ہاتھ میں لیا تو یہ قابل مذمت ہے لیکن ریاستی اداروں کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ طاقت کے استعمال سے پہلے بات چیت اور اعتماد سازی کو ترجیح دیں۔ترقیاتی منصوبوں میں،عوامی رضامندی اورشفافیت ہی دیر پا کامیابی کی ضمانت ہوتی ہے۔حکومت اگر واقعی اس منصوبے کوعوامی مفاد کا منصوبہ سمجھتی ہے تو اسے چاہیے کہ وہ متاثرہ کسانوں کے لیے منصفانہ،معاوضہ،متبادل زمین یا مناسب بعض آباد کاری کا جامع پیکج پیش کرے۔صرف یہ کہنا کہ یہ سرکاری زمین ہے،اس سے سرکار کی ذمہ داری ہرگز ختم نہیں ہوسکتی،یہ ان لوگوں کے معاشی نقصان کا ازالہ نہیں کرسکتا،جنہوں نے برسوں اس زمین کو قابل کاشت بنایا اور اپنی زندگی اس سے وابستہ رکھی،ایک عرصے تک انکے پاس رہی،محنت،جدوجہد،جانفشانی کی یہ کیسی قیمت ہے جو انھیں ادا کرنی پڑرہی ہے؟ کیا حکومت اپنی مرضی سے جب اورجس وقت چاہے گی اسطرح کی زمین اپنے قبضے میں لیکر اسکیم بنائے گی اور عوام کے دکھ درد کا کوئی خیال نہیں کیاجائے گا؟آخر یہ کیسے ملک میں ہم لوگ رہ رہے ہیں؟ جہاں عوام،غریب،مزدور اور کسانوں کے خوابوں کو پیروں تلے روندا جارہا ہے،غریبوں کی ساری کمائی ایک جھٹکے میں ہوا ہور ہی ہے۔اوپر کے اس واقعے سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ ہندوستان میں زمین کے ریکارڈ کوجدید اورشفاف بنانے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے،زمین کی ملکیت اور استعمال سے متعلق ابہام اکثر ایسے تنازعات کو جنم دیتے ہیں،اسلئے ضرورت ہے کہ ملک بھر کے گوشے گوشے میں زمین کے ریکارڈ کو جدید اورشفاف بنایاجائے،اس سے متعلق کاغذات کے لئے شفافیت برتی جائے تاکہ زمین سے متعلق ملکیت اور اسکے استعمال میں جو ابہام رہتا ہے وہ ختم ہو،صرف زمین کی ملکیت اور اسکے استعمال کا مسئلہ ہی غور طلب نہیں ہیں بلکہ کئی دیگر ایسے مسائل ہیں جوفوری حل طلب ہیں اور پیچیدہ ہوتے جارہے ہیں،موسمی تبدیلی اورفصلوں کونقصانات کے نتیجے میں ملک میں کسانوں کی خودکشی کے واقعات کوئی نئی بات نہیں ہے،مرکزی و ریاستی حکومتوں کی جانب سے کسانوں اور زرعی شعبے کی بھلائی کے بلند بانگ دعوے تو کیے جاتے ہیں لیکن حکومت کی جانب سے جاری کئے جانے والے اسکیمات کے فوائدحقیقی کسانوں تک نہیں پہنچ پارہے ہیں،اسکی کیا وجہ ہے؟ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک دہے کے دوران ملک میں ہرسال 10 ہزار سے زائد کسان خودکشی کررہے ہیں،گزشتہ چندبرسوں میں کسانوں کی خودکشی کے واقعات میں ہرسال معمولی فرق دیکھاگیا۔2015 میں 12602 کسانوں نے خودکشی کی تھی،اسکے بعد کے برسوں میں خودکشی کرنے والے کسانوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے اور 2024 میں 10546 کسانوں کی خودکشی کے واقعات منظر عام پر آئے،زرعی شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشی دباؤ،فصلوں کونقصان،قرض اورغیرمتوقع موسمی حالات کے نتیجے میں کسان ہرسال بھاری نقصانات کا سامنا کررہے ہیں،حکومتوں کی جانب سے قرض معافی کا اعلان کیا جاتا ہےلیکن اسکیم سے استفادہ کے لیے سخت شرائط کےسبب چھوٹے اورمتوسط کسان قرض کی ادائیگی کے پوزیشن میں نہیں ہوتے اور فائنانس کے بڑھتے دباؤ کے نتیجے میں وہ خودکشی پرمجبور ہورہے ہیں،قومیائے ہوئے بینکوں اور کوآپریٹیو بینک کی جانب سے قرض کی ادائیگی کے لیے قانونی طریقہ سے دباؤ بنایا جاتا ہے۔حالانکہ ہرسال 10 ہزار کسانوں کی خودکشی کے سرکاری اعداد و شمار پر ماہرین کو شبہات ہیں،ان کا کہنا ہے کہ کئی ایسے واقعات ہیں جوعہدے داروں کے علم میں آنے کے باوجود،انہیں خودکشی کے زمرے میں شامل نہیں کیاجاتا،دیہی سطح پر زرعی شعبے کے لیے ایک مستحکم امدادی نظام اورفصلوں کے مناسب معاوضے کو یقینی بناتے ہوئے،زرعی شعبے کوخوشحال بنایا جا سکتا ہے،زرعی شعبے کو مفت برقی سربراہی کے باوجود کسانوں کے معاشی بوجھ میں کوئی خاص کمی نہیں آئی ہے۔
سوال یہ ہے کہ جب اتنی بڑی تعداد میں پورے ملک میں کسانوں کی خودکشی ہورہی ہے اور وہ اپنی جان سے ہاتھ دھورہے ہیں تو آخر اس کا ذمہ دار کون ہے؟اورحکومت اس سلسلے میں کیا اقدام کررہی ہے؟ کیا حکومت کی یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ اس طرح کے حالات سے نمٹنے کے لیے جنگی خطوط پر کام کرے اور لوگوں کی زندگیوں کے تحفظ کو یقینی بنائے آخر اتنی بڑی تعداد میں کسانوں کی خودکشی کا ذمہ دار کون ہے؟کئی ریاستوں میں آج بھی کسان سڑکوں پر ہیں،مدھیہ پردیش کے بھوپال اور دیگر کئی شہروں سے یہ خبر آرہی ہے کہ وہاں کسان سڑکوں پر ہیں سراپا احتجاج ہیں۔سوال یہ ہے کہ آخر انکے مسائل کب حل ہونگے؟کسان آندولن تحریک کے دوران 700 سے زائد کسانوں نے خودکشی تھی۔
 حکومت نے کسانوں سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے،جن میں فصلوں کی کم از کم امدادی قیمت (MSP) کی قانونی ضمانت اور کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کے مطالبات ہنوز تشنۂ طلب ہیں،اگرچہ حکومت نے ایم ایس پی کی شرح میں باقاعدہ اضافہ اور کسان سمان ندھی جیسی اسکیمیں جاری رکھی ہیں۔لیکن حکومتی اقدامات اور دعوے بڑا فرق نظر آتاہے،حکومت ہر سال فصلوں کی پیداواری لاگت سے کم از کم 50 فیصد زیادہ منافع کے تحت ایم ایس پی میں اضافہ کرتی ہے۔پی ایم کسان سمان ندھی کے ذریعے کسانوں کے بینک اکاؤنٹ میں براہ راست مالی امداد منتقل کی جاتی ہے۔زرعی بجٹ میں اضافہ اور خوراک کے غلے کی پیداوار میں ریکارڈ بہتری آئی ہے۔یہ حکومت کا دعوی ہے جبکہ کسان تنظیمیں ایم ایس پی پر خریداری کی قانونی ضمانت کا مطالبہ کررہی ہیں،جو اب تک منظور نہیں ہوا۔ 2020-2021 کی کسان آندولن تحریک کے دوران حکومت نے جو وعدے (جیسے قرض معافی اورسوامی ناتھن کمیشن کی سفارشات پر عمل) کیے تھے،وہ اب تک پورے نہیں کیے گئے،متنازع زرعی قوانین2021ء میں واپس لینے کا حکومت نے اعلان کیا تھا اور باضابطہ طور پر اسے پارلیمنٹ سے منسوخ کردیا گیا تھا۔ 19 نومبر 2021ء کو وزیر اعظم نریندر مودی نے قوم سے خطاب میں تینوں زرعی قوانین واپس لینے کا اعلان کیا تھا۔پھر29 نومبر 2021ء کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں (لوک سبھا اور راجیہ سبھا) نے 'فارم لاز ریپیل بل 2021' پاس کرکے ان قوانین کو منسوخ کردیاتھا۔لیکن اسکے باوجود کسانوں کے یہاں کچھ نہیں بدلا اور اسی لئے خودکشی کا سلسلہ رکا نہیں ہے اب بھی جاری ہے۔
عالمی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کی ہر ایک لاکھ آبادی میں سے 12 لوگ خودکشی کرتے ہیں،عام طور پرسمجھا یہی جاتا ہے کہ خودکشی کم لوگ کرتے ہیں،شاید یہی وجہ ہے کہ اس کے خلاف کوئی بڑی عالمگیر تحریک نہیں چلائی جارہی ہے،جبکہ کرونا وائرس کے بعد کئی ملکوں کی اقتصادی حالت خستہ ہوئی ہے،بڑی تعداد میں لوگوں کو بے روزگار ہونا پڑا ہے،جسکی وجہ سے خودکشی کرنے والوں کی تعداد بھی بڑھی ہے،حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے،حال ہی میں کچھ سال پہلے برطانیہ اور جاپان نے باضابطہ طورپر وزیر تنہائی بنا دیا ہے تاکہ وہ لوگوں کو تنہائی سے بچائے،ان کے خودکشی کرنے کی وجوہات کا پتہ لگاکر ان وجوہات کوختم کریں اور لوگوں کو اپنے قیمتی زندگی کی اہمیت کا احساس دلائیں،جاپانی حکومت نے اپنا پہلا وزیر تنہائی مقرر کیا ہے،وزیر تنہائی کی اہمیت ہر ملک کے لیے اس لیے بھی نظر آتی ہے کیونکہ خودکشی کرنے والوں کی تعداد کرونا کی آمد سے پہلے ہی اچھی خاصی تھی،مہذب دنیا کا ایک ڈراؤنا سچ یہ بھی ہے کہ ہر 40 سیکنڈ میں خودکشی کے ایک سے زائد واقعات رونما ہوتے ہیں،ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کئی سال قبل ایک رپورٹ جاری کی تھی،اس رپورٹ کو 10 سال کے ریسرچ کے بعدتیار کیا گیا تھا،ریسرچ کرنے والوں نے پوری دنیا سے اس کے لیے اعداد وشمار یکجا کیے تھے اور انھیں کی بنیاد پر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے یہ چونکانے والی بات کہی تھی کہ دنیا میں ہر 40 سیکنڈ میں ایک سے زائد آدمی خودکشی کرلیتا ہے،ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے لیے 10 سال تک ریسرچ کرنے کے بعد ریسرچ کرنے والوں نے اندازہ لگایا تھا کہ پوری دنیا میں ہرسال تقریبا 800,000 لوگ خودکشی کرتے ہیں،15 سے 29 سال کی عمر کے لوگوں کی موت کی ایک دوسری وجہ خودکشی ہے،چنانچہ برطانیہ میں خودکشی کے خلاف مہم چلانے والے جونی بنجامن کی اس بات سے عدم اتفاق کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ اس سلسلے میں عوام میں زیادہ بیداری ہونی چاہیے،اسکولوں میں بھی اس سلسلے میں زیادہ تعلیم دی جانی چاہیے،مگر ان باتوں کے ساتھ گھر میں بہتر ماحول رکھنا ضروری ہے،بچوں سے محبت کرنی چاہیے مگرانہیں زیادہ حساس نہیں بننے دینا چاہیے،زیادہ حساس بچے باتوں کو جلدی دل پر لیتے ہیں،ان کے لیے چھوٹی باتیں بھی بڑی بن جاتی ہیں،آرگنائزیشن کی رپورٹ سے یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ دنیا بھرمیں ہونے والی خودکشی کی مجموعی تعداد میں سے تین چوتھائی خودکشی کم یا متوسط آمدنی والے ملکوں کے لوگ کرتے ہیں،امیرملکوں میں عورتوں کے مقابلے تین گنا زیادہ مرد خودکشی کرتے ہیں،اس کے باوجود ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی خودکشی کی روک تھام کےلئے صرف 28 ملکوں میں ہی قومی سطح پر اسٹریٹیجی موجود ہے لیکن دنیا بھر کے ملکوں کی مجموعی تعداد کو دیکھتے ہوئے یہ تعداد برائے نام ہے،خودکشی کی روک تھام کے لیے محلے واری سطح پرسوشل ایکٹیوسٹ کوبھی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہیے،سماجی تنظیموں کو بھی اپنے پلیٹ فارم سے لوگوں کی ذہن سازی اورشعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ زندگی اللہ کی جانب سے عطا کی گئی بہت بڑی امانت ہے،اس لیے اس دنیا کی چھوٹی چھوٹی معمولی چیزوں سے متاثر ہو کر اپنی زندگی کو ختم کرنا اور جان سے ہاتھ دھوبیٹھنا کسی بھی طرح مناسب نہیں ہے،ہرحال میں جان کا تحفظ ہونا چاہئے یہ ہرشخص کی بنیادی ذمہ داری اور اخلاقی فریضہ ہے، کسانوں سمیت اسٹوڈینس،مہنگائی اوربے روزگاری وغیرہ سے متاثر ہونے والے لوگوں کی بڑی تعداد خودکشی کررہی ہے اور ایسے لوگوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے جو یقینا افسوسناک ہے،سوال پھر یہی ہے کہ ان واقعات اورحواث کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا کوئی اسکی ذمہ داری قبول کرے گا؟
(مضمون نگار،معروف صحافی،کالم نویس اورسیاسی تجزیہ نگار ہیں)
sarfarazahmedqasmi@gmail.com

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔