تصویروں کی سیاست میں الجھا وکاس۔ ازقلم : وسیم رضا خان۔


تصویروں کی سیاست میں الجھا وکاس۔
ازقلم : وسیم رضا خان۔ 

آج جب ہم اکیسویں صدی کے ہندوستان میں ٹیکنالوجی اور اقتصادی سپر پاور بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں، تب بدقسمتی سے ہماری بحث کا مرکز 'تصویریں' اور 'مجسمے' بن گئے ہیں۔ مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن سے شروع ہونے والا ٹیپو سلطان سے متعلق تنازع اب محض مہاراشٹر تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ قومی سطح پر صف بندی کا ایک نیا ہتھیار بن گیا ہے۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ کیا ہم عظیم ہستیوں کو ان کے کارناموں کے بجائے ان کے مذہب سے پرکھنے کی غلطی کر رہے ہیں؟ ہندو تنظیموں اور مسلم کمیونٹی کے درمیان ٹیپو سلطان کے نام پر بڑھتی ہوئی یہ خلیج تشویشناک ہے۔
تاریخ میں کوئی بھی حکمران مکمل طور پر اچھا یا برا نہیں ہوتا؛ وہ اپنے حالات اور وقت کی سیاست کا حصہ ہوتا ہے۔ ٹیپو سلطان کو محض ان کے مذہب کی وجہ سے مسترد کرنا یا انہیں صرف ایک مذہبی علامت مان لینا، دونوں ہی ان کی تاریخی خدمات (جیسے میسور راکٹ اور انگریزوں کے خلاف سخت جدوجہد) کے ساتھ ناانصافی ہے۔ اگر ہم تاریخ کو غیر جانبداری سے دیکھیں تو وہاں 'ہندو مسلم' کی وہ دیوار نہیں تھی جسے آج کی سیاست نے کھڑا کر دیا ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ٹیپو سلطان کے دور میں ان کے وزیر اعظم پورنیا ایک ہندو تھے۔ شرنگیری مٹھ کے جگت گرو شنکراچاریہ کے ساتھ ان کی خط و کتابت اور مٹھ کو دی گئی سکیورٹی اور عطیات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ان کی دشمنی انگریزوں سے تھی، کسی خاص مذہب سے نہیں۔
چھترپتی شیواجی مہاراج، جنہیں اکثر ہندو فخر کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے، ان کی فوج میں اعلیٰ عہدوں پر مسلم افسران تعینات تھے۔ ان کے توپ خانے کے سربراہ ابراہیم خان اور باڈی گارڈ مداری مہتر اس کی بہترین مثالیں ہیں۔ شیواجی مہاراج کی جدوجہد 'سوراجیہ' (اپنی حکومت) کے لیے تھی، اسلام کے خلاف نہیں۔
آج کا تلخ سچ یہ ہے کہ تصویروں اور مجسموں کی سیاست سے نہ تو ہندوؤں کا پیٹ بھرے گا اور نہ ہی مسلمانوں کو روزگار ملے گا۔ مسلم کمیونٹی کا یہ موقف کہ انہیں کسی عظیم شخصیت کی تصویر یا مجسمے پر اعتراض نہیں ہے، ایک مثبت اور پختہ نظریے کی عکاسی کرتا ہے۔ جب معاشرے کا ایک بڑا حصہ ترقی اور امن کی بات کر رہا ہے، تو علامتوں کے نام پر نفرت پھیلانا صرف توجہ بھٹکانے کی حکمت عملی ہے۔
تاریخ میں اس دور کی عظیم شخصیات نے جو کچھ کیا، وہ اس وقت کا تقاضا تھا۔ آج کا تقاضا ہم آہنگی، تعلیم اور مشترکہ ترقی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ مجمسے اور تصویریں تحریک حاصل کرنے کے لیے ہوتی ہیں، تنازع کے لیے نہیں۔ اگر ہم ماضی کی غلطیوں یا اس دور کی جنگی حکمت عملیوں کو آج کے ترازو میں تولیں گے، تو ہم کبھی آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔ موجودہ چیلنجز جیسے بے روزگاری، صحت اور بنیادی ڈھانچے سے نمٹنے کے لیے ہمیں عظیم ہستیوں کے مذہب کو نہیں، بلکہ ان کی جدوجہد اور حب الوطنی کو اپنانا چاہیے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم علامتوں کی سیاست کو چھوڑ کر حقیقی مسائل پر بات کریں، تاکہ آنے والی نسلیں ہمیں ایک جھگڑالو معاشرے کے طور پر نہیں، بلکہ ایک متحد قوم کے طور پر یاد رکھیں۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔