مسجد کی چمک یا امام کی عزت؟۔ از قلم :عالمہ مبین پالیگار، بیلگام، کرناٹکا۔


 مسجد کی چمک یا امام کی عزت؟
از قلم :عالمہ مبین پالیگار، بیلگام، کرناٹکا۔
8904317986

 مسجد کی چمک یا امام کی عزت؟
ذرا سوچئے…
ہم مسجد کے گنبد پر لاکھوں خرچ کرتے ہیں۔
سنگِ مرمر، خوبصورت قالین، قیمتی لائٹس — سب کچھ بہترین چاہتے ہیں۔
لیکن جب بات آتی ہے امام کی تنخواہ کی
تو کہا جاتا ہے:
“چندہ کم ہے…”
“اتنے میں گزارہ کر لیں…”
 کیا یہ انصاف ہے؟
 امام کون ہے؟
 آپ کے بچوں کو قرآن سکھاتا ہے
  آپ کا نکاح پڑھاتا ہے
 آپ کے والدین کا جنازہ پڑھاتا ہے
 ہر دینی مسئلہ میں رہنمائی کرتا ہے
اور پھر بھی…
آج کے مہنگائی کے دور میں 8 یا 10 ہزار روپے؟
 آج کے حالات میں مناسب تنخواہ
• گاؤں: کم از کم 15–20 ہزار
• شہر: کم از کم 20–30 ہزار
• بڑا شہر: 30 ہزار یا اس سے زیادہ
امام بھی انسان ہے۔
اس کے بھی بچے ہیں، گھر ہے، ضروریات ہیں۔
 یاد رکھیں
مسجد عمارت سے نہیں،
بلکہ امام کے اخلاص اور سکون سے آباد ہوتی ہے۔
اگر امام پریشان ہوگا
تو بستی کیسے سکون میں رہے گی؟
 پیغام برائے اہلِ ایمان
 ہر نمازی ماہانہ مستقل چندہ مقرر کرے
 امام کے لیے رہائش اور بجلی کا انتظام ہو
 سالانہ تنخواہ میں اضافہ طے ہو
“مسجد کی اصل خوبصورتی،
امام کی مطمئن زندگی ہے۔”

اللہ اہل ایمان کو سمجھ عطا فرمائے آمین یارب العالمین

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔