درس قرآن اور درس حدیٹ کی اہمیت و ضرورت۔ازقلم۔۔۔ مولوی شبیر عبدالکریم تانبے

درس قرآن اور درس حدیٹ کی اہمیت و ضرورت۔
ازقلم۔۔۔ مولوی شبیر عبدالکریم تانبے

       قرآن کریم وہ آخری آسمانی کتاب ھدایت ہے جو ساری انسانیت کی ہدایت و رہنمائی کے لئے اللہ تعالی نے اپنے آخری پیغمبر حضرت محمد پر نازل فرمائی اور جسکی حفاظت کا ڈمہ بھی خو د اللہ تعالی نے لیا ہے جیساکہ قرآن کریم میں بیان ہوا ہے 
    ہر نبی کو ان کے زمانے میں موجود باطل نظریات اور باطل عقائد کی تردید اور حق و باطل کے درمیان فرق کرنے کے اعتبارسے معجزات عطا فرمائے گئےجیساکہ حضرت موسی اور حضرت عیسی کو انکے زمانے کے حالات کے مناسب معجزات عطا فرمائے گئے جن سے حق و باطل اور سچ و جھوٹ کی حقیقت واضح ہوگئی 
   اسیطرح نبئ کریم کو مختلف معجزات عطا فرمائے گئے لیکن آپ کا سب سے بڑا اور زندہ و جاوید معجزہ قرآن کریم ہے جو علمی شکل میں ہے اور چونکہ یہ آخری آسمانی کتاب ھدایت ہے اس لئے اسکی تعلیمات اور احکامات میں قیامت تک آنے والے ہر زمانے کے ہر قسم کے بگاڑ فساد اور مسائل کا حل موجود ہے 
   لیکن چونکہ قرآن کریم اسیطرح اسکی تشریح و توضیح یعنی نبئ کریم کی احادیٹ مبارکہ عربی زبان میں ہیں جو عربوں کے علاوہ اور کسی قوم کی مادری زبان نہیں ہے اسلئے ہرکوئی نہ اسے سمجھ سکتا ہے اور نہ ہرکوئی اس سے مکمل طورپر استفادہ کرسکتا ہے اگرچہ دنیا کی مختلف زبانوں میں قرآن کے تراجم اور اسکی تفاسیر موجود ہیں لیکن صرف ترجمہ پڑھکر صحیح طورپر قرآن کریم کو سمجھا نہیں جا سکتا 
   اسلئے قرآن کریم اور احادیث مبارکہ کو صحیح طورپر سمجھنے اور ان سے استفادہ حاصل کرنے کے عربی زبان میں کسی قدر مہارت اور عبور حاصل ہونا ضروری ہے اسلئے الحمد لللہ مدارس اسلامیہ میں عربی زبان میں مہارت اور اس پر عبور حاصل کرنے کے لئے محنت کی جاتی ہے جسکی وجہ سے علماء کرام کے لئے قرآن کریم اور احادیث مبارکہ کو سمجھنے اور ان سے استفادہ کرنا آسان ہوتا ہے 
   لیکن ہر مسلمان سے اسکا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا اور نہ وہ شریعت میں مطلوب ہے لیکن اہل علم کی ایک جماعت ہونی چاہئے جو علم دین میں مہارت حاصل کرے اور قوم و ملت تک صحیح طورپر دین کی تعلیمات پہنچائے 
     جو مدارس اور رفاہی اور فلاحی ادارے قوم و ملت کی بھلائی اور فلاح و بہبودی کے لئے قوم و ملت کے ہر قسم کے تعاون سے بنائے گئے ہیں انکی ذمہ داری ھیکہ قوم و ملت کو قرآن کریم اور احادیث مبارکہ سے روشناس اور واقف کرانے کے لئے ہر علاقے میں ضرورت کے اعتبارسے ماہر قابل اور باصلاحیت مبلغین علماء کرام کا تقرر کریں جو ہر گاوں جاکر درس قرآن اور درس حدیث کا فریضہ انجام دیں اور موجودہ حالات کا قرآن کریم اور احادیث مبارکہ سے حل پیش کریں اس سے امت کے اندر قرآن فہمی اور حدیث فہمی کا ذوق و شوق پیدا ہوگا اور امت میں اتفاق و اتحاد پیدا ہوگا اور امت کی صحیح طورپر رہنمائی بھی ہوگی اسطرح جمعہ و عیدین شادی بیاہ اور دیگر موقعوں پر قرآن و حدیث کی روشنی میں صحیح طورپر قوم و ملت کی رہنمائی کریں تو ان شاءاللہ اسکے مثبت نتائج حاصل ہوسکتے ہیں اسلئے آج ہر مسجد میں درس قرآن اور درس حدیث کا ہونا بہت ضروری ہے 
  کچھ ادارے اسکے لئے کوشش کررہے ہیں لیکن کیا جن حضرات کو تنخواہ دیکر اس کام کے لئے مقرر کیا جاتا ہے کیا انکے اندر اتنی صلاحیت اور قابلیت ہوتی ھیکہ وہ صحیح طورپر اس فریضے کو انجام دے سکیں ؟ یا صرف کھانا پوری کرکے آرام اور سہولت کیساتھ اپنے روزی روٹی اور معاش کا انتظام ہوتا ہے اور ان ساری قربانیوں کے باوجود امت کے پلڑے میں کچھ نہیں آتا 
   حالانکہ قابل لائق اور باصلاحیت افراد کی کمی نہیں ہے لیکن بسااوقات درس قرآن درس حدیٹ اور مبلغ کا فریضہ انجام دینے کے لئے ایسے افراد کا تقرر کیا جاتا ہے جنکے اندر قرآن کریم کی آیات یا احادیٹ مبارکہ کا عربی سے اردو میں ترجمہ کرنیکی بھی صلاحیت و قابلیت نہیں ہوتی معنی اور مفہوم تو دور کی بات ہے اسطرح جمعہ کا بیان جو بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے ادھر ادھر کی باتیں اور قصے کہانیاں بیان کرکے اپنی ڈیوٹی ہوری کی جاتی ہے خدارا اللہ کا خوف کرنا چاہئے اسلئے کہ امت کا پیسہ استعمال ہورہا ہے یہودی علماء کیطرح امت کو غلط سلط بتاکر اور گمراہ کرکے اپنے پیٹ کی آگ نہ بجھائے عزت و مرتبہ اور روزی روٹی اللہ تعالی عطا فرمائینگے اسلئے اس اہم فریضے کے لئے قابل اور باصلاحیت افراد کا تقرر کرنا چاہئے اسلئے کہ نااہل کو ذمہ دار بنائے جانیکو نبئ کریم نے قیامت کی نشانی بتلائی ہے 
   اسلئے درس قرآن درس حدیٹ اور مبلغ کا فریضہ انجام دینے کے لئے باصلاحیت قابل اور بااخلاق علماء کرام کا تقرر کرنا یہ وقت کی اہم ضرورت ہے اسلئے مدارس و دیگر فلاحی و رفاہی اداروں کو اسکی فکر کرنی چاہئے ورنہ کل قیامت کے دن امت اللہ تعالی کے روبرو انکا دامن پکڑیگی اور سوال کریگی 
   اللہ تعالی ہمیں قرآن کریم اور احادیث مبارکہ کا صحیح فہم عطا فرمائے

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔