غریب کے سرکاری اسپتال میں لاپرواہی، آخر کب رکے گی؟ - ازقلم : سید فاروق احمد قادری۔


غریب کے سرکاری اسپتال میں لاپرواہی، آخر کب رکے گی؟ - 
ازقلم : سید فاروق احمد قادری۔

حکومت عوام کو بہتر اور مفت علاج کی سہولت فراہم کرنے کے لیے سرکاری اسپتالوں پر کروڑوں روپے خرچ کرتی ہے۔ بڑی بڑی عمارتیں تعمیر کی جاتی ہیں، جدید طبی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں اور عوام کے علاج کے لیے ڈاکٹروں اور طبی عملے کی تقرری کی جاتی ہے۔

بیڑ کا سرکاری اسپتال بھی غریب اور متوسط طبقے کے لیے ایک اہم سہارا ہے۔ سرکاری اسپتال کا مقصد ہی یہ ہے کہ جس غریب انسان کے پاس نجی اسپتال کے مہنگے علاج کے لیے پیسے نہیں ہیں، اسے عزت کے ساتھ بہتر علاج مل سکے۔

پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب حکومت عوام کی صحت پر کروڑوں روپے خرچ کر رہی ہے تو غریب مریضوں کو علاج کے دوران پریشانی کیوں اٹھانی پڑتی ہے؟

یکم اگست کو پیش آنے والے ایک معاملے میں ڈاکٹر پنم لود کے حوالے سے سنگین شکایت سامنے آئی ہے۔ شکایت کے مطابق آپریشن کے دوران مبینہ طور پر ایکسرے سے متعلق سامان مریض کے اندر رہ جانے کا معاملہ پیش آیا۔ اس معاملے کی تحقیقات اور کارروائی جاری ہے، اس لیے حتمی ذمہ داری کا فیصلہ تحقیقاتی رپورٹ کے بعد ہی ہونا چاہیے۔

لیکن یہ واقعہ ایک بڑا سوال ضرور کھڑا کرتا ہے:

اگر سرکاری اسپتال میں بھی مریض کی زندگی اور صحت کے ساتھ ایسی لاپرواہی کا خدشہ پیدا ہو جائے تو غریب آدمی آخر کہاں جائے؟

سرکاری اسپتال میں آنے والا مریض کسی پر احسان لینے نہیں آتا۔ وہ اپنے حق کے علاج کے لیے آتا ہے۔ حکومت عوام کے پیسے سے اسپتال چلاتی ہے، اس لیے وہاں کام کرنے والے ہر ڈاکٹر اور ملازم کی ذمہ داری ہے کہ مریض کے ساتھ پوری توجہ، احتیاط اور انسانیت کے ساتھ پیش آئے۔

ڈاکٹروں کی اکثریت یقیناً اپنی ذمہ داری پوری ایمانداری سے انجام دیتی ہے، لیکن اگر کہیں کسی کی غفلت ثابت ہوتی ہے تو صرف اس لیے خاموش نہیں رہنا چاہیے کہ معاملہ سرکاری اسپتال کا ہے۔

غریب کی زندگی بھی اتنی ہی قیمتی ہے جتنی کسی امیر انسان کی۔

حکومت نے اگر کروڑوں روپے خرچ کرکے اسپتال بنایا ہے تو اب اس اسپتال کے نظام، ڈاکٹروں اور طبی عملے کی کارکردگی کی بھی سخت نگرانی ہونی چاہیے۔

تحقیقات شفاف ہونی چاہیے، حقیقت عوام کے سامنے آنی چاہیے اور اگر کسی کی غفلت ثابت ہوتی ہے تو قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔

سوال یہ نہیں کہ سرکاری اسپتال پر کتنا پیسہ خرچ ہوا؛ سوال یہ ہے کہ اس پیسے کے بدلے غریب مریض کو کتنا محفوظ، باعزت اور مؤثر علاج مل رہا ہے؟

غریب کی زندگی سے کھیلنے والی لاپرواہی کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

سرکاری اسپتال عوام کی امانت ہیں، اور عوام کو اپنے علاج میں لاپرواہی نہیں بلکہ انصاف، احتیاط اور انسانیت چاہیے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔