اقبال فہمی (قسط ہفتم) ہمالہ سکوت شب جمال فطرت اور تفکر کی بیداری ہے - ازقلم : ابرارالحق مظہرؔ حسناتی۔
اقبال فہمی (قسط ہفتم)
ہمالہ سکوت شب جمال فطرت اور تفکر کی بیداری ہے -
ازقلم : ابرارالحق مظہرؔ حسناتی۔
(رابطہ نمبر :-بذریعہ وہٹسآپ)
7899407154
نظم ہمالہ کے اس حصے میں علامہ اقبال کا فکری سفر ایک نہایت لطیف اور روحانی کیفیت میں داخل ہوتا ہے۔ سابقہ اشعار میں ندی کی روانی بادلوں کی حرکت ہوا کی جنبش اور فطرت کے مختلف مظاہر میں زندگی اور حرکت کا فلسفہ نمایاں تھا؛ مگر اب منظر بدلتا ہے۔ دن کی حرکت اپنے اختتام کو پہنچتی ہے، رات اپنی سیاہ زلفیں کھولتی ہے آبشاروں کی آواز سنائی دیتی ہے شام کی خاموشی پھیلتی ہے اور درخت گویا تفکر میں محو ہو جاتے ہیں۔ یہاں اقبال فطرت کے سکون کو موت یا جمود کی علامت نہیں بناتے بلکہ اسے غور و فکر خود شناسی اور باطنی بیداری کا موقع قرار دیتے ہیں۔
یہاں ایک بنیادی اقبالی نکتہ سامنے آتا ہے کہ زندگی صرف حرکت کا نام نہیں حرکت کے ساتھ تفکر بھی ضروری ہے۔ اگر انسان مسلسل دوڑتا رہے مگر کبھی یہ نہ سوچے کہ وہ کہاں جا رہا ہے کیوں جا رہا ہے اور اس سفر کی آخری منزل کیا ہے تو اس کی حرکت محض اضطراب بن جاتی ہے۔ اسی طرح اگر انسان غور و فکر ہی میں پڑا رہے اور عمل سے محروم ہوجائے تو اس کی فکر بے نتیجہ ہوجاتی ہے۔ اقبال کے ہاں کامل زندگی وہ ہے جس میں فکر بھی ہو اور عمل بھی خلوت بھی ہو اور جلوت بھی سکوت بھی ہو اور نغمہ بھی۔
اقبال فرماتے ہیں:
لیلئ شب کھولتی ہے آ کے جب زلف رسا
دامن دل کھینچتی ہے آبشاروں کی صدا
یہاں رات کو لیلئ شب کہنا محض حسنِ تشبیہ نہیں بلکہ اقبال کی فطرت نگاری کی ایک بنیادی خصوصیت ہے۔ رات ایک حسین پیکر بن جاتی ہے جو اپنی لمبی سیاہ زلفیں کھول رہی ہے۔ اس تصویر میں ایک طرف رات کی تاریکی ہے اور دوسری طرف اس تاریکی کے اندر چھپی ہوئی کشش۔ اقبال تاریکی کو صرف خوف وحشت یا عدمِ روشنی کے معنی میں نہیں دیکھتے ان کے ہاں رات اپنے اندر ایک ایسی خلوت پیدا کرتی ہے جس میں انسان اپنے اندر کی دنیا کو دیکھ سکتا ہے۔
دن کی روشنی میں انسان کی توجہ باہر کی دنیا کی طرف رہتی ہے۔ بازار کاروبار گفتگو لوگوں کی آمدورفت اور دنیاوی مشاغل انسان کو مسلسل اپنے اندر سے باہر کھینچتے رہتے ہیں۔ لیکن جب رات آتی ہے اور ظاہری دنیا کا شور کم ہوجاتا ہے تو انسان کے سامنے اس کا اپنا دل آجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال رات کے اس منظر کو روحانی کیفیت میں تبدیل کر دیتے ہیں۔
مگر اس خاموش رات میں بھی آبشاروں کی صدا جاری ہے۔ یہ نہایت اہم نکتہ ہے۔ رات خاموش ہے، لیکن فطرت بالکل خاموش نہیں۔ ظاہری شور ختم ہونے کے بعد ایک دوسری آواز سنائی دینے لگتی ہے۔ یہی اقبال کا اصل اشارہ ہے کہ جب دنیا کا شور کم ہوتا ہے تو انسان کو کائنات کی گہری آواز سنائی دیتی ہے۔
دامن دل کھینچتی ہے میں اقبال نے دل کو ایک ایسے مرکز کے طور پر پیش کیا ہے جو فطرت کی آواز سے متاثر ہوتا ہے۔ آبشار کی آواز صرف کانوں تک نہیں پہنچتی بلکہ دل کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ یہاں دل اقبال کے فلسفے میں اپنی مخصوص معنویت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ یہ وہ دل نہیں جو صرف جذبات اور خواہشات کا مرکز ہو بلکہ وہ قلب انسانی ہے جو ایمان عشق وجدان اور معرفت کی صلاحیت رکھتا ہے۔
آبشار کا مسلسل گرنا بھی ایک علامت ہے۔ وہ بلندی سے پستی کی طرف آتی ہے مگر اس کا وجود کم نہیں ہوتا بلکہ راستے میں اس کی آواز مزید نمایاں ہوجاتی ہے۔ اس میں بھی اقبال کے فلسفۂ زندگی کا ایک پہلو پوشیدہ ہے کہ بلندی حاصل کرنے والا وجود اگر دوسروں کے لیے فیض کا ذریعہ بن جائے تو اس کی رفعت کم نہیں ہوتی بلکہ اس کی معنویت بڑھ جاتی ہے۔
پھر اقبال فرماتے ہیں:
وہ خموشی شام کی جس پر تکلم ہو فدا
وہ درختوں پر تفکر کا سماں چھایا ہوا
یہ شعر اس پوری قسط کا فکری مرکز ہے۔ اقبال شام کی خاموشی کو ایسی خاموشی قرار دیتے ہیں جس پر تکلم قربان ہو جائے۔ عام طور پر انسان خاموشی کو الفاظ کی عدم موجودگی سمجھتا ہے لیکن اقبال کے نزدیک بعض خاموشیاں ہزاروں تقریروں سے زیادہ بلیغ ہوتی ہیں۔ جب کائنات اپنی خاموشی میں انسان سے مخاطب ہو تو الفاظ کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
یہاں اقبال دراصل خاموشی اور معنی کے تعلق کو واضح کرتے ہیں۔ اگر خاموشی خالی ہو تو وہ محض خاموشی ہے لیکن اگر اس میں غور و فکر مشاہدہ اور معرفت موجود ہو تو وہ خاموشی ایک مکمل زبان بن جاتی ہے۔ اسی لیے قرآن مجید انسان کو بار بار آسمان و زمین کی تخلیق رات اور دن کے اختلاف اور کائنات کے مظاہر میں غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ اہلِ عقل وہ ہیں جو مظاہر کو دیکھ کر ان کے پیچھے موجود حکمت کو دریافت کرتے ہیں۔
اقبال اسی قرآنی طرزِ فکر کو درختوں کے منظر میں داخل کرتے ہیں:
وہ درختوں پر تفکر کا سماں چھایا ہوا
درخت بظاہر خاموش کھڑے ہیں۔ نہ ان کی زبان ہے نہ وہ انسانوں کی طرح گفتگو کرتے ہیں، لیکن شاعر ان پر تفکر کا سماں دیکھ رہا ہے۔ یہ دراصل شاعر کے اپنے باطن کی کیفیت بھی ہے۔ جو شخص خود غور و فکر کی حالت میں ہو، اسے پوری کائنات متفکر نظر آنے لگتی ہے۔
یہاں اقبال کی فطرت نگاری اپنی بلندی پر پہنچ جاتی ہے۔ وہ درختوں کو انسانی عقل نہیں دے رہے بلکہ ان کی خاموشی کو انسانی تفکر کی علامت بنا رہے ہیں۔ درخت زمین میں جڑے ہوئے ہیں مگر ان کی شاخیں آسمان کی طرف اٹھتی ہیں۔ یہ منظر خود ایک مکمل استعارہ ہے انسان کا جسم زمین سے وابستہ ہے مگر اس کی روح آسمان کی طرف اٹھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اسی لیے اقبال کے نزدیک تفکر محض فلسفیانہ مشغلہ نہیں۔ تفکر وہ قوت ہے جو انسان کو ظاہری دنیا سے باطنی حقیقت تک لے جاتی ہے۔ ایک درخت کو دیکھ کر عام آدمی صرف درخت دیکھتا ہے لیکن صاحبِ بصیرت اس کے اندر زندگی کا نظم زمین و آسمان کا تعلق پانی کی گردش سورج کی روشنی موسموں کی تبدیلی اور خالق کی حکمت کا مشاہدہ کرتا ہے۔ یہی آفاقی تفکر اقبال کے قرآنی شعور کا ایک اہم حصہ ہے۔
اس کے بعد شاعر منظر کو مزید گہرا کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
کانپتا پھرتا ہے کیا رنگِ شفق کوہسار پر
خوش نما لگتا ہے یہ غازہ ترے رخسار پر
یہاں شام کی سرخی کو ہمالہ کے رخسار پر لگے ہوئے غازے سے تشبیہ دی گئی ہے۔ لیکن اس حسین منظر میں بھی اقبال صرف حسن نہیں دیکھتے بلکہ ایک گہری حرکی کیفیت محسوس کرتے ہیں۔ شفق کا رنگ پہاڑوں پر پھیل رہا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے جیسے وہ کانپ رہا ہو۔ یہ کانپنا منظر میں زندگی اور لطافت پیدا کرتا ہے۔
غازہ حسن و جمال کی آرائش کے لیے استعمال ہونے والی چیز ہے۔ اقبال ہمالہ کے چہرے پر شفق کو غازہ قرار دے کر ایک ایسی تصویر بناتے ہیں جس میں پہاڑ انسانی جمالیاتی شعور کا آئینہ بن جاتا ہے۔ لیکن یہاں بھی مقصود محض حسن کی تعریف نہیں۔ اقبال کے ہاں حسن انسان کو اپنی طرف روکنے کے بجائے حقیقت حسن کی طرف لے جاتا ہے۔
یہاں اسلامی تصورِ جمال بھی پس منظر میں موجود ہے۔ مسلمان شاعر کے لیے کائنات کا حسن خود مختار حقیقت نہیں بلکہ خالق حسن کی قدرت کی علامت ہے۔ پھول خوبصورت ہے لیکن اس حسن کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ ہے پہاڑ عظیم ہے لیکن اس عظمت کا عطا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے شفق دلکش ہے لیکن اس کے رنگوں کے پیچھے وہی قدرت کام کر رہی ہے جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا۔
اسی لیے اقبال کی فطرت پرستی کو مغربی معنی میں فطرت پرستی سمجھنا درست نہیں۔ وہ فطرت کو معبود نہیں بناتے نہ اسے خود مختار حقیقت قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک فطرت ایک آیت ہے ایک نشانی ہے ایک آئینہ ہے جس میں قدرتِ الٰہی کا عکس دیکھا جاسکتا ہے۔
اس شعر میں ایک اور لطیف پہلو بھی ہے۔ دن کا اختتام شفق سے ہوتا ہے اور رات کا آغاز ہوتا ہے۔ یعنی روشنی اور تاریکی ایک دوسرے کے بعد آتی ہیں۔ یہ تبدیلی انسان کو زمانے کی ناپائیداری کا احساس دلاتی ہے۔ کوئی کیفیت مستقل نہیں دن رات میں بدلتا ہے، بہار خزاں میں جوانی بڑھاپے میں اور زندگی موت میں۔ لیکن اس مسلسل تبدیلی کے اندر ایک مستقل نظام قائم ہے۔ اقبال اسی نظام کے ذریعے انسان کو ظاہری تغیرات کے پیچھے موجود ایک ثابت حقیقت کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
یہاں فلسفۂ خودی کا ایک بنیادی پہلو بھی سامنے آتا ہے۔ خودی کو اپنی حقیقت پہچاننے کے لیے صرف باہر کی دنیا دیکھنا کافی نہیں اسے خلوت سکوت اور تفکر سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔ انسان جب رات کی خاموشی میں اپنے دل کی طرف متوجہ ہوتا ہے جب آبشار کی آواز کو محض آواز نہیں بلکہ پیغام سمجھتا ہے جب درختوں کی خاموشی میں تفکر کا سبق پڑھتا ہے اور جب شفق کے بدلتے رنگوں میں زمانے کی گردش دیکھتا ہے تو اس کے اندر ایک نئی بصیرت پیدا ہوتی ہے۔ یہی بصیرت خودی کو بیدار کرتی ہے۔
اقبال کا اصل مقصد انسان کو فطرت کا تماشائی بنانا نہیں بلکہ فطرت کا صاحب معنی مشاہدہ کرنے والا بنانا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ انسان پہاڑ کو دیکھے تو استقامت سمجھے ندی کو دیکھے تو حرکت بادل کو دیکھے تو فیض پھول کو دیکھے تو جمال رات کو دیکھے تو خلوت خاموشی کو دیکھے تو تفکر اور شفق کو دیکھے تو تغیر زمانہ کے اندر قدرت الٰہی کا نظام۔
یوں ان اشعار میں ہمالہ کا منظر آہستہ آہستہ ایک ایسی روحانی مجلس میں تبدیل ہوجاتا ہے جہاں نہ کوئی واعظ منبر پر ہے نہ کوئی مدرسہ سامنے ہے نہ کوئی کتاب ہاتھ میں ہے لیکن رات آبشار درخت پہاڑ اور شفق سب مل کر انسان کو درس دے رہے ہیں۔ یہی اقبال کی فطرت نگاری کا کمال ہے کہ وہ بے زبان مظاہر کو زبان عطا کرتے ہیں مگر اس زبان کا آخری مقصد فطرت کی پرستش نہیں بلکہ خالق فطرت کی معرفت اور انسان کی باطنی بیداری ہے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں ہمالہ محض ایک قدرتی منظر کی نظم نہیں رہتی بلکہ اقبال کے وسیع تر فکری نظام کا ابتدائی باب بن جاتی ہے ایک ایسا باب جس میں انسان کو بتایا جا رہا ہے کہ اگر نگاہ میں بصیرت دل میں حیات اور فکر میں قرآنی روشنی موجود ہو تو پوری کائنات ایک عظیم کتاب ہے اور اس کتاب کا ہر منظر انسان کو اس کی اصل منزل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
Comments
Post a Comment