یہ جھوٹی محبتیں - از قلم : ظفر ھاشمی ندوی، (سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ)
یہ جھوٹی محبتیں -
از قلم : ظفر ھاشمی ندوی،
(سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ)
ربیع الاول کا مہینہ شروع ہوتے ہی لاکھوں نہیں کروڑوں جھوٹے مسلمانوں کی اصل حقیقت سامنے آ جاتی ہے- یہ سارے مسلمان سال بھر تو اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے کوسوں دور رہتے ہیں مگر صرف ۱۲ ربیع الاول کو اس دن کی فجر ظہر عصر نہ پڑھ کر مغرب میں یا اسے بھی چھوڑکر عشاء کی نماز میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی محبت کا جھوٹا دعویٰ کرکے درود و سلام پڑھنے ، جشن منانے اور معلوم نہیں کیا کیا کرنے آ جاتے ہیں - اتنا ہی نہیں بلکہ خود اس دن کی عشاء پڑھ کر بیان سن کر اور درود وسلام پڑھ کر گھر جا کر سو جاتے ہیں اور پھر فجر بھی نہیں پڑھتے ہیں- اس کے بعد پھر سال بھر کتے کی دم ٹیڑھی کی ٹیڑھی رہتی ہے -
کیا حضرت ابوبکر حضرت عمر حضرت عثمان اور حضرت علی اور دوسرے تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ایسی ہی محبت تھی- کیا ایسی ہی محبت رکھنے کا قرآن و حدیث میں حکم دیا گیا ہے؟
ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے چہرہ مبارک پر ڈاڑھی تھی مگر مسلمان مرد ڈاڑھی نہیں رکھتے ہیں - آپ نے فرمایا قرۃ عینی فی الصلوٰۃ میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے مگر بے شمار مرد اور عورتیں نماز نہیں پڑھتے ہیں- نبی نے فرمایا أحسنکم خلقا أحسنکم لاھلکم وانا احسنکم لاننی أحسن الی أھلی تم میں سب سے بہتر اخلاق اس شخص کے ہیں جو اپنے گھر والوں کے ساتھ سب سے بہتر سلوک کرتا ہے اور میں تم میں سب سے بہتر ہوں اس لئے کہ میرے اخلاق اپنے گھر والوں کے ساتھ سب سے اچھے ہیں - مگر ہماری سوسائٹی میں ہر شوہر اپنی بیوی کے ساتھ سب سے برا سلوک کرتا ہے- نبی نے فرمایا ہے خیرکم من تعلم القرآن و علمہ تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن کو سیکھے اور سکھائے مگر بے شمار مسلمان مرد و عورت قرآن پڑھنا بھی نہیں جانتے ہیں - نبی نے فرمایا ہے لا یؤمن احدکم حتی یحب لاخیہ ما یحب لنفسہ
تم میں سے کسی کا ایمان مکمل نہیں ہے جب تک وہ اپنے مسلمان بھائی کے لئے وہی چیز پسند کرے جو وہ خود اپنے لئے پسند کرتا ہے- بتاؤ ایسے مسلمان کہاں ہیں - آپ نے فرمایا ہے ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کو قتل کرنا یا اس کی عزت کو اچھالنا یا اس کا مال ہڑپ کرلینا حرام ہے - کیا ہم سب ایسے مسلمان ہیں-آپ نے فرمایا ماں تیری جنت ہے اور باپ اس جنت کا دروازہ تیرا جی چاہے تو اس دروازہ کو باقی رکھ یا اسے توڑ دے یعنی ماں باپ کا بھر پور احترام اور اطاعت کرے یا بے عزتی اور نافرمانی کرکے اپنی جنت برباد کرے-
غرض ہمارے نبی کی تمام باتوں پر عمل نہ ہو اور صرف سال میں ایک دفعہ چند لمحوں کے لئے درود وسلام کے الفاظ پڑھ لیں اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے محبت کا دعویٰ کریں تو یہ جھوٹی محبت نہیں ہے تو پھر کیا ہے- جیسے ایک بیٹا باپ سے بار بار کہے ابا میں آپ سے بے حد محبت کرتا ہوں اور باپ کسی کام کے لئے کہے تو وہ ہمیشہ یہ جواب رے کہ یہ تو میں نہیں کر سکتا-
میرے بھائیوں اور بہنوں ہم سب یہی تو کر رہے ہیں- آئیے عہد کرتے ہیں کہ اب ہم اپنے نبی سے سال بھر سچی محبت کرکے دکھائیں گے-
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
Comments
Post a Comment