جشنِ میلاد النبی ﷺ کی خوشی حضور اکرم ﷺ سے محبت ہے: پیرِ طریقت ڈاکٹر محمد ادریس احمد قادری کا خطاب


بیدر 25 /اگست (نامہ نگارمحمد عبدالصمد منجووالا) درگاہ آستانۂ قادریہ بگدل شریف میں منعقدہ پُرمسرت جلسۂ میلاد النبی ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے پیرِ طریقت شاہ خلیفہ ڈاکٹر الحاج محمد ادریس احمد قادری بگدلی، سجادہ نشین درگاہ آستانۂ قادریہ بگدل نے کہا کہ حضور اکرم ﷺ دنیا میں تشریف لائے تو کائنات نور و رحمت سے منور ہوگئی اور آپ ﷺ کی آمدِ مبارک پوری انسانیت کے لیے اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔ میلادِ مصطفیٰ ﷺ کی خوشی حضور اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔
انہوں نے خطاب سے قبل درسِ تصوف دیتے ہوئے ذکرِ الٰہی، محبتِ رسول ﷺ اور اولیائے کرام کے ادب و احترام کی اہمیت بیان کی۔ اس موقع پر شجرۂ عالیہ قادریہ کا ورد بھی ہوا۔
ڈاکٹر محمد ادریس احمد قادری بگدلی نے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آپؒ بغداد شریف میں پہلی مرتبہ منبر پر تشریف فرما ہوئے تو خاموش بیٹھے تھے۔ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اے شیخ عبدالقادر! خاموش کیوں بیٹھے ہو، بیان کرو۔‘‘ آپؒ نے عرض کیا کہ کیسے بیان کروں؟ حضور ﷺ نے فرمایا: ’’منہ کھولو۔‘‘ چنانچہ حضور اکرم ﷺ نے اپنا لبِ دہن سات مرتبہ آپؒ کے منہ میں رکھا، جبکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی چھ مرتبہ اپنا لبِ دہن آپؒ کے منہ میں رکھا۔ اس کے بعد آپؒ کے سینۂ معرفت کے دروازے کھل گئے اور آپؒ کا بیان ایسی تاثیر کا حامل ہوا کہ آپ کی مجلس میں رفتہ رفتہ ستر ہزار سے زائد افراد جمع ہونے لگے۔
انہوں نے کہا کہ حضرت غوث پاکؒ کی زندگی علم، معرفت، تقویٰ اور خدمتِ دین سے عبارت ہے۔ آپؒ کی کرامات اور روحانی فیوض و برکات سے بے شمار لوگوں نے استفادہ کیا۔ اسی طرح حضرت شاہ سید قادر ولیؒ کی کرامات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ اپنے مقبول بندوں کو روحانی کمالات عطا فرماتا ہے اور ہمیں اولیائے کرام کا ادب و احترام ملحوظ رکھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ میلاد النبی ﷺ کا مبارک موقع حضور اکرم ﷺ کی آمدِ باسعادت کی خوشی منانے اور آپ ﷺ پر کثرت سے درود و سلام پیش کرنے کا موقع ہے۔ مسلمان دنیا بھر میں محبت و عقیدت کے ساتھ نعتیں پڑھتے، محافل منعقد کرتے اور سیرتِ طیبہ کا ذکر کرتے ہیں۔ ہمیں بھی خوشی و مسرت کے ساتھ میلادِ مصطفیٰ ﷺ منانا اور اپنی اولاد کو بھی اس مبارک موقع میں شریک کرنا چاہیے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ جُلوسِ میلاد النبی ﷺ آج12ربیع الاول کو صبح 8:30 بجے درگاہ آستانۂ قادریہ بگدل شریف سے روانہ ہوگا، جبکہ تمام عقیدت مند صبح 8 بجے درگاہ میں حاضر ہوں۔ جُلوس پوری آبادی میں گشت کرتے ہوئے دوبارہ درگاہ پہنچے گا۔ مختلف مقامات پر فاتحہ خوانی اور نعت خوانی ہوگی، بعد ازاں درگاہ میں فاتحہ اور لنگر کا اہتمام ہوگا۔
جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمد ندیم قادری، استاد دارالعلوم قادریہ بگدل نے کہا کہ حضور اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور رحمت ہیں، اس لیے آپ ﷺ کی ولادتِ مبارکہ کی خوشی منانا، ذکرِ میلاد کرنا اور سیرتِ طیبہ بیان کرنا محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا ہے۔ انہوں نے صحابۂ کرامؓ کی مجالسِ ذکر اور انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات بیان کرتے ہوئے حضور ﷺ کی عظمت و مقام پر روشنی ڈالی۔
مولانا محمد شاہد رضا، استاد دارالعلوم قادریہ بگدل نے قرآنِ کریم کی آیت ’’قد جاءكم من الله نور وكتاب مبين‘‘ کی روشنی میں حضور اکرم ﷺ کے مقام و مرتبہ اور حسن و جمال کا ذکر کیا۔ مولانا سید صادق علی، خطیب مسجد مدینہ بگدل نے بھی نورِ محمدی ﷺ اور عظمتِ مصطفیٰ ﷺ پر خطاب کرتے ہوئے ذکرِ رسول ﷺ کی اہمیت بیان کی۔
جلسہ کا آغاز حافظ محمد شہانواز نلدرگ کی تلاوتِ کلام پاک سے ہوا۔ محمد سلیم قادری ظہرآباد اور ڈاکٹر محمد اسد ہلی کھیڑ،محمد یاسر عرفات، طالب علم دارالعلوم قادریہ بگدل نے حمد، نعت و منقبت پیش کی۔ حاضرین نے درود و سلام کا نذرانہ پیش کیا۔
جلسہ میں علماء، مشائخ، مریدین، عقیدت مندوں اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ آخر میں درود و سلام، فاتحہ خوانی اور امتِ مسلمہ کی سلامتی کے لیے دعا کی گئی۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔