معروف ادیب ستار فیضی کی تخلیق " مہک" بچوں کے ادب میں ایک خوشبو دار باغ "مہک" - (مصنف: ستار فیضی) پر تبصرہ... مبصر : سی. عبدالعزیز تسلیم، آندھراپردیش
معروف ادیب ستار فیضی کی تخلیق " مہک" بچوں کے ادب میں ایک خوشبو دار باغ
"مہک" - (مصنف: ستار فیضی) پر تبصرہ...
مبصر : سی. عبدالعزیز تسلیم۔
اسٹیٹ کنوینر
آندھراپردیش اردو ٹیچرس اسوسیشن (اپوٹا)
ڈسٹرکٹ کنوینر، کارواں اردو،
نندیال ڈسٹرکٹ..
______________________
کتاب "مہک" کا سرورق
ماشاء اللہ سرورق خود کتاب کے نام اور مزاج کی مکمل ترجمانی کررہاہے. سرورق کا اصل حسن بیچ میں کھڑا وہ درخت ہے جس کی ہر شاخ پر مختلف رنگ کے پھول ہیں اور ان پھولوں سے خوشبو کی لہریں اٹھ کر اسمان کی طرف جارہی ہیں. یہ منظر بالکل یہ پیعام دیتا ہے کہ یہ کتاب ایک ایسا درخت ہے جس کے ہر مضمون سے علم اور اخلاق و معلومات کی مہک پھوٹتی ہیں.
اور نیچے بائیں جانب مصنف " ستار فیضی" کا نام سفید خط میں درج ہے. سادگی کے ساتھ وقار بھی ہے. المختصر سرورق شور نہیں مچاتا مہکتا ہے. بچے کے لےء یہ پہلی دعوت ہے. درخت، پھول، خوشبو، کھلا آسمان یہ سب مل کر کہتے ہیں کہ اندر علم اور معلومات کا باغ ہے، تربیت کی خوشبو ہے. ایک لفظ میں کہوں تو" سرورق دیکھتے ہی دل کرتا ہے کتاب کھول کر پڑھی جاےء...
آئیں" معلوم کریں کہ کتاب مہک کے اندر کیا ہے..
ستار فیضی صاحب کی "مہک" بچوں کے ادب میں ایک خوشبودار باغ کی مانند ہے جہاں ، حکایت، سیر و سیاحت اور معلومات ایک ساتھ مہک رہے ہیں۔ کتاب کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ مصنف نے بچے کو کبھی بور نہیں ہونے دیا۔ ایک طرف وہ اپنے سادہ جملوں سے دل کو چھوتے ہیں، دوسری طرف حکایتوں کے ذریعے اخلاق کا سبق دیتے ہیں۔ "سیر و سیاحت" کے مضامین بچے کو گھر بیٹھے دنیا دکھاتے ہیں اور "معلوماتی مضامین" کا باب تو گویا علم کا خزانہ ہے۔ "دنیا کے عجائبات" سے لے کر "علم کا جہاز" تک ہر عنوان بچے کی تجسس کو ہوا دیتا ہے اور اسے سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔
اس کتاب کی دوسری خوبی تربیت کا انداز ہے۔ ستار فیضی نصیحت نہیں کرتے، حوصلہ دیتے ہیں۔ "ذہین بچے" اور "شاباش امجد" جیسے مضامین تعریف کے ذریعے بچے کے اندر خود اعتمادی پیدا کرتے ہیں۔ "سب سے افضل کون؟" اور "یہ آئرن زو کہاں ہے؟" جیسے سوالیہ عنوانات بچوں کو غیر فعال قاری سے متحرک قاری بنا دیتے ہیں۔ اسی طرح "انٹرویو: شفیق النساء" اور "مجلسِ اقوامِ متحدہ کے جنرل سیکریٹریوں کی خدمات" جیسے مضامین بچوں کو مقامی دائرے سے نکال کر عالمی افق سے جوڑتے ہیں۔ مصنف نے ثابت کیا کہ بچیوں اور خواتین کی کامیابی کو بھی بچوں کے ادب کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔فیضی نے اس کتاب کے ہندوستانی سینما کی ان عظیم فنکاروں کی خراج تحسین پیش کیا ہےجنہوں نے اپنے فن کے ذریعے ملک کا نام روشن کیا ہے. گمنام مسلم ہیروئین کو خراج عقیدت پیش کرکے فیضی نے ایک عظیم کام کیا ہے. اور ہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ فیضی نے بچوں کو ملک کے سب سے بڑے اعزازات سے روشناس کرایاہے.. بھارت رتن سے دادا صاحب پالکے تک یہ مضامین قومی فخر اور حب الوطنی کا جذبہ پیدا کرتے ہیں...
مجموعی طور پر "مہک" صرف ایک کتاب نہیں، ایک مکمل تربیتی نصاب ہے۔ اس کی زبان سادہ، رواں اور بچوں کے ذہن کے مطابق ہے۔ اس میں معلومات بھی ہیں اور لطف بھی، کہانی بھی ہے اور سبق بھی۔ ستار فیضی نے یہ ثابت کر دیا کہ بچوں کی کتاب محض تفریح کا ذریعہ نہیں ہوتی، وہ "علم کا جہاز" بھی بن سکتی ہے جو نئی نسل کو ادب، اخلاق اور معلومات کی دنیا میں لے جائے۔ "مہک" واقعی اپنے نام کے ساتھ انصاف کرتی ہے۔ اسے پڑھنے کے بعد ذہن اور دل دونوں میں ایک اچھی مہک رہ جاتی ہے۔
_______
Comments
Post a Comment