تصویروں کا سیاہ کھیل اور ٹھپ ہوتا ترقیاتی کام - آخر کب جاگے گی مالیگاؤں کی عوام؟ - ازقلم : وسیم رضا خان۔
تصویروں کا سیاہ کھیل اور ٹھپ ہوتا ترقیاتی کام -
آخر کب جاگے گی مالیگاؤں کی عوام؟ -
ازقلم : وسیم رضا خان۔
مالیگاؤں کی تاریخ صرف کپڑے کے تانے بانے تک محدود نہیں رہی ہے، بلکہ یہ شہر جدوجہد اور صبر کی علامت رہا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے، آج یہ شہر سیاست کے اس خوفناک چوراہے پر کھڑا ہے جہاں اصل مسائل پر دھول جم چکی ہے اور فضول کے تنازعات کو چمکایا جا رہا ہے۔ ایک شہری اور صحافی ہونے کے ناطے میرا مقصد کسی سیاسی جماعت، رہنما، اقتدار میں شامل افراد یا اپوزیشن پر ذاتی حملہ کرنا بالکل نہیں ہے۔ میری دشمنی کسی سیاسی شخص یا لیڈر سے نہیں، بلکہ اس ناکارہ انتظامی نظام اور ان غلط پالیسیوں سے ہے جنہوں نے شہر کی ترقی راستے بند کر رکھے ہیں. جب جب سسٹم اپنی ذمہ داریوں سے بھٹکتا ہے، تب تب ایک غیر جانبدار آواز کا اٹھنا بے حد ضروری ہو جاتا ہے تاکہ عوام کو ان کے سوئے ہوئے شعور کا احساس دلایا جا سکے۔ آج مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن اور یہاں کی سیاست کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ عوامی سہولیات کی جگہ علامتی لڑائیوں نے لے لی ہے۔ دفاتر میں ٹیپو سلطان کی تصویر لگانے یا ہٹانے کا معاملہ نہ تو شہر کی ترقی کر سکتا ہے اور نہ ہی اس سے کسی غریب کے گھر کا چولہا جل سکتا ہے۔ صرف ایک تصویر کے ارد گرد پورے شہر کی ترقی کو روک دینا کسی دور اندیش عوامی نمائندے کی نشانی نہیں ہو سکتی۔ سچا رہنما وہ ہوتا ہے جو نفرت اور تقسیم کی بھدی سیاست کو بالائے طاق رکھ کر صرف سڑک، پانی، صحت، تعلیم اور انتظامی امور جیسے بنیادی مسائل پر بات کرتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس طرح کے کھوکھلے تنازعات کے ذریعے مالیگاؤں کے عکس کو خراب کرنے اور ایک مخصوص برادری کو اوروں کی نظر میں نشانہ بنانے کا راستہ اپنایا جا رہا ہے۔ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ اگر خود کو کسی فکر یا برادری کا رہبر کہتے ہیں، تو انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دوسروں کے جذبات کو مجروح کر کے سیاست کرنا ہرگز قیادت نہیں ہے۔ کرسی ملنے کے بعد رہنما پورے شہر کا نمائندہ ہوتا ہے، نہ کہ کسی خاص گروہ کا۔ ایک بہترین منتظم اور سچا نمائندہ وہی ہے جو اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلے یا اس کے جائز اعتراضات کا مثبت جواب دے۔ اگر اپوزیشن تقسیم اور جذبات سے کھیلنے والی پالیسیوں پر سوال اٹھا رہی ہے، تو اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ اقتدار اور اپوزیشن کے درمیان بحث کا دائرہ اس بات پر ہونا چاہیے کہ میونسپل کارپوریشن کے نظام میں بہتری کیسے لائی جائے، ٹوٹاہوا انفراسٹرکچر کیسے ٹھیک ہو اور پینے کا صاف پانی ہر گھر تک کیسے پہنچے—نہ کہ اس بات پر کہ دفتر کی دیواروں پر کس کی تصویر رہے گی اور کس کی نہیں۔ گدی نشین نمائندے اگر اپنے مخالف گروہ کو سنبھال نہیں سکتے تو یقینا وہ انتظامی امور کے بھی لایق نہیں ہو سکتے.
مالیگاؤں کی عوام کو اب یہ تلخ سچائی سمجھنی ہوگی۔ جب تک آپ اپنے رہنماؤں سے ترقی کا حساب نہیں مانگیں گے، تب تک وہ آپ کو جذبات کے جال میں الجھا کر اپنی کرسیاں بچاتے رہیں گے۔ میونسپل کارپوریشن آپ کی ہے، یہ شہر آپ کا ہے اور اس کی ترقی پر پہلا حق آپ کا ہے۔ تصویروں اور علامتوں کے فریب سے باہر نکلئے اور اپنے بنیادی حقوق کے لیے متحد ہو کر نظام اور انتظامیہ سے سوال کیجیے، کیونکہ جب عوام بیدار ہوتی ہے، تبھی نظام سدھرتا ہے۔
Comments
Post a Comment