دکنی غزل - ازقلم : میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک۔
دکنی غزل -
ازقلم : میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک۔
وہ خیالوں میں بھی آکو ہیں
وہ نمازوں میں بھی آکو ہیں
کرنے تلپٹ مرے یار کو
میری راہوں میں بھی آکو ہیں
حسن والوں کی منہ زوری ہے
عشق بازوں میں بھی آکو ہیں
ہم نئے لوگ ہُنگے بھلے
کچھ پرانوں میں بھی آکو ہیں
میری خبروں کوپڑھتے تھے جو
کیا مکانوں میں بھی آکو ہیں
جاکوہوں میں خزانے سے،اب
وہ خزانوں میں بھی آکو ہیں
حال کیاہے تمارا مگر
ہم بہانوں میں بھی آکو ہیں
کس کُو بی دیکتے نئیں اِنوں
یہ زنانوں میں بھی آکو ہیں
پوچھے لوگاں سَبچ میرے سے
کیاجنازوں میں بھی آکو ہیں
میرے دِل پو لگارے تھے پاپ
اُن نشانوں میں بھی آکو ہیں
آپ راجا ہیں، راجاچ رھؤ
ہم غلاموں میں بھی آکو ہیں
یھاں تو چپ چاپ بیٹھیوں میں میرؔ
وہ سُراخوں میں بھی آکو ہیں
Comments
Post a Comment