مدنی کی غلامی کا ہے مجھ کو شرف حاصل - بقلم : محمد ناظم ملی تونڈاپوری۔ جامعہ اکلکواں۔
مدنی کی غلامی کا ہے مجھ کو شرف حاصل -
بقلم : محمد ناظم ملی تونڈاپوری۔
جامعہ اکلکواں۔
رب ذوالجلال کا شکر ہے کہ اس نے ایک ایسے پیغمبر ایک ایسے رسول کا امتی بنایا جو خدا کے بعد ساری کائنات میں سب سے افضل ترین انسان ہیں یہ مہینہ اسی پاک پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے ہی معنون ہے
ع
محبوب دو عالم سے یہ الفت ہے بہت اچھی
دامن میں مومن کے یہ دولت ہے بہت اچھی
قران بہت اچھا ہے سنت ہے بہت اچھی
پھر اس پہ چلے یہ امت تو امت ہے بہت اچھی
مدنی کی غلامی کا ہے مجھ کو شرف حاصل
اللہ کی قسم میری قسمت ہے بہت اچھی
سو جان کے بدلے میں بس ایک جھلک مل جائے
سودا ہے بہت اچھا قیمت ہے بہت اچھی
لغت میں سیرت کے معنی کسی کی کارکردگی اور کارناموں کا احاطہ کرنے کے اتے ہیں حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ایسی بیش بہا ایسی بے مثل وہ بے مثال ہے ایسی کامل و مکمل اور اکمل و لازوال ہے کہ اج تک کوئی مفسر کوئی محدث کوئی مقرر کوئی خطیب اور کوئی ادیب اور کوئی کاتب اور کوئی شاعر ایسا پیدا نہیں ہوا جس نے یہ دعوی کیا ہو کہ میں نے احمد مجتبی رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت جمال و کمال اور اخلاق و عادات کو پورا بیان کیا ہو ہر زمانے میں بڑے بڑے اہل علم اہل کلام اہل لغت دنیا میں ائے اور انہوں نے حضور کی سیرت پر قلم بھی اٹھایا سیرت کو بیان کرنے کی پوری کوشش ہھی کی بچپن سے لڑکپن لڑکپن سے جوانی جوانی سے بڑھاپا بڑھاپے سے قبر کی پاتال میں پہنچ گیا مگر اقا کی سیرت کا ایک عنوان اس سے پورا نہ ہو سکا
سرکار دو عالم کی ہے ثنا اب بھی ادھوری
صدیوں سے ادیبوں کے قلم ٹوٹ رہے ہیں
یقینا سیرت رسول ایک ایسا عمیق سمندر ہے جس کی کوئی حد نہیں "بحر لا شاطئ له"ایسا سمندر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں جس نے بھی اقا کی سیرت میں غوطہ لگایا وہ ڈوبتا ہی چلا گیا اور یہ کہنے پر مجبور ہو گیا
يا صاحب الجمال ويا سيد البشر
من وجهك المنير لقد نور القمر
لا يمكن الثناء كما كان حقه
بعد از خدا بزرگ توی قصہ مختصر
ہم تصور کریں اور ساڑھے 14 سو سال پیچھے پلٹ کر دیکھے صرف مکہ نہیں پورے خطہ عرب کے حالات پڑھیے تو پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں اندھیرا ہی اندھیرا تھا ظلمت نے ہر طرف ڈیرے دال رکھے تھے جور و جفا ظلم و ستم عام تھا شراب خوری زنا کاری معاشرے میں معیوب نہ تھی انسان انسان کے خون کا پیاسا تھا بچیوں کو زندہ دفن کر دینا کوئی عار نہ سمجھا جاتا تھا صنف نازک حیوانوں کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور تھی کمزوروں اور ضعیفوں کا کوئی پرسان حال نہ تھا بلکہ ""جس کی لاٹھی اس کی بھینس""اور سام دام ڈنڈ بھینٹ۔کا قانون جاری تھا قبائلی جنگیں برسہا برس جاری رہتی تھی انتقام در انتقام کا سلسلہ چلتا رہتا تھا مگر ہاں وہ رب جو ظلمت شب کے بعد صبح کا نور پیدا کرتا ہے شام کی تاریکی کے بعد سحر کا نور بکھیرتا ہے وہ رب جو قحط سالی میں ہانپتے ہوئے انسانوں اور بلبلاتے ہوئے حیوانوں اور تڑپتے ہوئے کیڑے مکوڑوں پر رحم کرتے ہوئے بارش برساتا ہے وہی رب جو میرا اپ کا اور ہر شے کا رب ہے اس کو اشرف الانسان کی حیوانیت اور بدتر حالت پر رحم اگیا اس نے کائنات کے مقدس ترین انسان یعنی امنہ کے لال عبداللہ کے لخت جگر ساقی کوثر شافع محشر جان جہاں محبوب خدا امام الانبیاء رحمت اللعالمین راحت العاشقین صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی بنا کر بھیج دیا
اور بہت بڑا احسان کر دیا لقد من اللہ علی المومنین الخ
زباں پر بار خدا یہ کس کا نام ایا
کہ میرے نطق نے بوسے میری زباں کے لیے
اس رسول رحمت کے ذریعے اللہ نے امت مسلمہ کو قران مجید کی صورت میں ہدایت کا ایک دستور دیا منشور دیا زندگی کی راہ کا نور دیا پھر اس کی انقلابی تعلیمات نے ایسا انقلاب برپا کیا کہ دنیا اس کی مثال لانے سے قاصر ہے اس انقلابی نبی نے انقلابی کتاب کے ذریعے لوگوں کے عقائد بدل دیے زندگیاں تبدیل کر دی تجارت میں بدلاؤ لایا معاشرت بدل دی سیاست بدل ڈالی حکومت بدل ڈالی انسانی حیات کا رخ موڑ دیا ظاہر بدل ڈالا باطن بدل ڈالا انسان بدلا جو ذرہ تھا وہ سمندر بن گیا جو مدعو تھا وہ داعی بن گیا جو قطرہ تھا دریا بن گیا پیاسا تھا ساقی بن گیا لوہا تھا پارس بن گیا جاھل تھا عالم بن گیا برا تھا نیک بن گیا ابوبکر تھا صدیق بن گیا عمر تھا فاروق بن گیا عثمان تھا ذوالنورین بن گیا علی تھا حیدر کرار بن گیا معاویہ تھا کاتب وحی بن گیا ابو ہریرہ تھا حافظ حدیث بن گیا کسی نے کیا خوب کہا تھا
درفشانی نے تیری قطرے کو دریا کر دیا
دل کو بینا کر دیا انکھوں کو روشن کر دیا
خود نہ تھے جو راہ پر اوروں کے ہادی بن گئے
کیا نظر تھی جس نے مردوں کو مسیحا کردیا
معاشرے نے ایسا بدلاؤ نہ اج تک دیکھا ہے نہ قیامت تک دیکھے گا بلال ایک حبشی نزاد ہے اس پر مزید یہ کہ وہ غلام ہے مگر فتح مکہ کے موقع پر حضور سرور سروراں اواز لگاتے ہیں بلال اج تم کعبے کی چھت پر اذان دو اللہ اکبر یہ وہی بلال ہے جس کو مکہ کی گلیوں میں گھسیٹا گیا تشدد کیا گیا تپتی ریت پر لٹایا گیا دہکتے انگاروں پر سلایا گیا اج اس بلال سے امنہ کا لال کہہ رہا ہے بلال کعبے کی چھت پر چڑھ جاؤ بلال کہہ رہے ہیں یا رسول اللہ میرے ماں باپ اپ پر قربان یا رسول اللہ میں تو حبشی ہوں غلام ہوں کالا ہوں کعبہ تو بڑی عظمتوں والا ہے رفعت و بلندیوں والا ہے مگر حضرت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال حکم کی تعمیل کیجیے مجھ کو دنیا والوں کو بتانا ہے جس بلال کو تم غلام تصور کرتے تھے اج دنیا کا سب سے عظیم دن ہے مکہ فتح ہو رہا ہے ایسے میں دنیا والوں کو یہ باور کرانا ہے کہ دامن مصطفی سے ہم اہنگ ہونے والا کعبے کی چھت پر پہلے پہل اذان دیتا ہے جی ہاں سیرت مصطفی سے جب وہ بلال وابستہ ہو جاتا ہے اتنا اعلی اتنا بلند اور اتنے مقام اور مرتبے والا ہو جاتا ہے کہ وہ چلتا تو مدینہ میں ہے لیکن اس کے قدموں کی اہٹ جنت میں سنائی دیتی ہے
بقول شاعر
حضور ائے تو سر آفرینش پا گئی دنیا
اندھیروں سے نکل کر روشنی میں اگئی دنیا
بجھے چہروں پر نور ایا حضور ائے تو جینے کا شعور ایا
Comments
Post a Comment