خوابوں میں ہی ہو.چاھے ملاقات تو ہوگی - ازقلم : مسرورتمنا۔
خوابوں میں ہی ہو.چاھے ملاقات تو ہوگی -
ازقلم : مسرورتمنا۔
نازیہ نے باہر دیکھا
آنکھوں میں انتظار کے انسو لیے برستے بادل سے شکایت کی تھی
میرے دل نے تو فقط ساتھ تیرا مانگا تھا مگر تم مجھے اکیلا چھوڑ گیے کیوں آصف تم نے ایسا کیوں کیا شادی کی پہلی رات اپنی محبوبہ اپنی سہاگن کو چھوڑدیا
ادھر سرحد پر جنگ جاری تھا
آصف نے اسکی تصویر جیبمیں رکھی اور آگے بڑھنے لگا
تجھے پھولوں کی طرح دل میں بسایے ہوے اس انتظار میں ہوں
اپنے دیس کا سپاہی فتح مقدر ہو اور ایک سنسناتی گولی
آکر سینے میں لگی
ھم جایں کہیں اسکی مہک ساتھ تو ہوگی خوابوں میں بھی اب
چاہ کر ملاقات نا ہوگی
باہر اب بھی بارش ہورہی تھی
Comments
Post a Comment