اردو مضمون کی شمولیت دلانے کے لیے نارتھ مہاراشٹر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو جلگاؤں کی مختلف تنظیموں کی جانب سے مکتوب۔


جلگاؤں (سعید پٹیل) کاویتری بہینا بائی چودھری نارتھ مہاراشٹر یونیورسٹی، جلگاؤں کو یہاں کی مختلف سماجی، تعلیمی اور اقلیتی تنظیموں کی جانب سے وائس چانسلر آف نارتھ مہاراشٹر یونیورسٹی کو مکتوب پیش کیا گیا جس میں مذکورہ مطالبہ کیاگیا۔
کاویتری بہینا بائی چودھری نارتھ مہاراشٹر یونیورسٹی نے اعلیٰ تعلیم ، تحقیق اور معیاری تعلیمی روایت کے لیے جو کام کیا ہے وہ ہمیشہ متاثر کن رہا ہے۔ یونیورسٹی نے معاشرے کے تمام طبقات کو یکساں مواقع فراہم کرنے کے اپنے نظریات کو ہمیشہ برقرار رکھا ہے۔ اسی یقین کے ساتھ ہم یہ عاجزانہ درخواست کر رہے ہیں کہ
PET-2026 خالی آسامیوں کی مضمون وار فہرست اردو مضمون کو شامل نہ کرنے سے اردو میڈیم می
 تحقیق کرنے کے خواہشمند طلبہ میں شدید مایوسی پھیلی ہے۔ خاص طور پر، شمالی مہاراشٹر کی اقلیتی برادری کے بہت سے طلباء اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے تحقیق کے میدان میں اپنا حصہ ڈالنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ان کے لیے پی ایچ ڈی۔ یہ صرف ڈگری نہیں بلکہ ان کی تعلیمی، سماجی اور معاشی ترقی کا ایک اہم موقع ہے۔
ہم پوری طرح واقف ہیں کہ یونیورسٹی نے یہ فیصلہ کچھ انتظامی وجوہات، دستیاب ریسرچ گائیڈز کی تعداد یا ریسرچ سینٹر کی صلاحیت کی محدودیت کی وجہ سے لیا ہے۔ ہم اس فیصلے کے پیچھے موجود انتظامی مشکلات کا احترام کرتے ہیں۔ تاہم اگر یہ عمل اردو مضامین کے طلبہ کو تحقیق سے مکمل طور پر محروم کر رہا ہے تو اس کا مثبت متبادل تلاش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ نئے تحقیقی مرکز کے قیام کے لیے ضروری قانونی شرائط اور طریقہ کار موجود ہیں۔ اس لیے ہم نئے ریسرچ سینٹر کا مطالبہ نہیں کر رہے ہیں تاہم، ہماری عاجزانہ درخواست ہے کہ یونیورسٹی کو اپنے موجودہ قوانین کے دائرہ کار میں ایک خصوصی تعلیمی انتظام مہیا کرنے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے
پی ایچ ڈی یونیورسٹی کے قواعد و ضوابط ضرورت کے مطابق کو-گائیڈ/کو-سپروائزر کی تقرری کے لیے فراہم کرتے ہیں۔ اس فراہمی کا صحیح استعمال کرتے ہوئے اردو مضامین میں تحقیق میں دلچسپی رکھنے والے طلبہ کو داخلے کے مواقع فراہم کیے جاسکتے ہیں۔ اگر ضروری ہو تو بین الضابطہ تحقیق کے ذریعے بھی یہ راستہ کھولا جا سکتا ہے۔
اردو صرف ایک طبقے کی زبان نہیں ہے بلکہ ہندوستان کی کثیر لسانی، کثیر الثقافتی اور مربوط روایت کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔ اس زبان میں تحقیق کی حوصلہ افزائی ہندوستان کے بھرپور ادبی اور ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے کا ایک طریقہ ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 مادری زبانوں، ہندوستانی زبانوں، تحقیق اور جامع تعلیم کو بھی خصوصی اہمیت دیتی، تعلیم کا معیار ہمیشہ اس کے چاہنے والوں سے مستحکم و پایدار ہوتا ہے اور اردو تو وہ زبان ہے جس کے چاہنے والے بر صغیر کے کئ ممالک میں کسی پروانوں سے کم نہیں شمالی مہاراشٹر کی تعلیمی کاویتری بہینا بائی یو نیورسٹی اپنے نظم و نسق کو لے کر پورے بھارت میں منفرد مقام رکھتی ہے چنانچہ ایسی شہرت بام رکھنے والی یونیورسٹی میں اردو مضمون کو تحقیقات مطالعہ میں شمولیت دلانے کے مقصد کے تحت جلگاؤں اقرا ایجوکیشن سوسائٹی کے صدر و جلگاؤں تعلیمی اقلیتی امور کے صدر معروف سماجی و تعلیمی مصلح ڈاکٹر عبدالکریم سالار نے ایک تعلیمی وفد کے ہمراہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے ملاقات کر انہیں اردو مضمون کی تحقیقاتی شمولیت کے تئیں ایک انتہائی فکر مندانہ مکتوب دیا جس میں دستخط کنندگان نے اپیل کی کہ اردو زبان کی اپنی ایک منفرد حیثیت و خوبصورت تاریخ ہے جسے آنے والی نسلوں تک بہم پہنچانا یہ تعلیمی ادارو ں کی ذمہ داری ہے تا کہ ہمارے ملک کی عظیم گنگا جمنی تہزیب کی وراثت کی حفاظت کی جاسکے و اس کے چاہنے والے طلبہ کو ان کی مرضی کا مضمون دیا جا سکے مکتوب دینے والوں میں وفد کے قائد ڈاکٹر عبدالکریم سالار کے ہمراہ صحافی وسبکدوش صدر مدرس مشتاق کریمی ، صدر الحرا ایجوکیشن سوسائٹی بھوساول کے حاجی انصار شیخ ، صابر مصطفی آبادی ، ایچ جے تھم کالج کے پرنسپل وقار عبدالرزاق شیخ و نمایندہ جماعت کے لوگوں پر مشتمل ایک وفد تھا۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔