بھائی کی حرکتِ قلب کیا تھمی، بہن کی بھی سانسیں اکھڑ گئیں - "سماجی کارکن سلیم انعامدار کو چند لمحوں کے وقفے میں دوہرا صدمہ؛ بھائی کی وفات کی خبر سنتے ہی اہلیہ بھی خالقِ حقیقی سے جا ملیں"


جلگاؤں (عقیل خان بیاولی): "کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ" بے شک ہر ذی روح کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ موت ایک اٹل حقیقت ہے، مگر بعض اموات ایسی ہوتی ہیں جو محض ایک فرد کے انتقال کا واقعہ نہیں رہتیں بلکہ اپنے پیچھے ایسا دلدوز سانحہ چھوڑ جاتی ہیں جسے الفاظ میں بیان کرنا بھی دشوار ہو جاتا ہے۔ ایسا ہی ایک المناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ شہرِ جلگاؤں کے مسلم کالونی اور نشیمن کالونی، مہرون میں پیش آیا، جہاں معروف سماجی و سیاسی شخصیت اور "خادمِ مہرون" کے نام سے اپنی شناخت رکھنے والے سلیم انعامدار کو چند ہی لمحوں کے وقفے سے دوہرا صدمہ برداشت کرنا پڑا۔
موصولہ اطلاع کے مطابق سلیم انعامدار کے برادرِ نسبتی عمر شیخ، ساکن مسلم کالونی کا حرکتِ قلب بند ہونے سے انتقال ہوگیا۔ گھر میں ابھی بھائی کی ناگہانی موت کی خبر رشتہ داروں اور احباب تک پہنچانے کا سلسلہ جاری ہی تھا کہ یہ اندوہناک خبر سن کر سلیم انعامدار کی اہلیہ شہناز بانو پر ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ وہ بھی جانبر نہ ہوسکیں اور اپنے برادرِ عزیز کی جدائی کا صدمہ برداشت کرتے ہوئے داعیِ اجل کو لبیک کہہ گئیں۔ یوں ایک ہی خاندان میں چند لمحوں کے اندر بھائی اور بہن کی جدائی نے غم کی ایسی داستان رقم کردی جس نے ہر آنکھ کو اشک بار اور ہر دل کو سوگوار کر دیا۔ ابھی ایک جنازے کی تیاری کا غم تازہ تھا کہ دوسرے جنازے کی خبر نے اہلِ خانہ، رشتہ داروں، دوست احباب اور اہلِ محلہ کو سکتے میں ڈال دیا۔
بھائی بہن کے لازوال رشتے، باہمی محبت، ایثار اور قربانی کی داستانیں تو بہت سنی اور پڑھی جاتی ہیں، مگر زندگی بھر ساتھ نبھانے والے بہن بھائی کا یوں چند لمحوں کے فرق سے دنیا سے رخصت ہوجانا یقیناً ایک ایسا سانحہ ہے جس پر الفاظ بھی خاموش دکھائی دیتے ہیں۔
سلیم انعامدار کا آبائی وطن دھولیہ ہے۔ شادی کے بعد حصولِ روزگار کے سلسلے میں وہ جلگاؤں آئے اور پھر مہرون ہی کو اپنا مسکن بنا لیا۔ ابتدائی برسوں میں وہ اپنے سسرالی خانوادے سے وابستہ رہے، بعدازاں حالات سازگار ہونے پر الگ رہائش اختیار کی اور سماجی و عوامی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کرتے ہوئے علاقے میں اپنی ایک الگ شناخت قائم کی۔ مرحوم عمر شیخ اور شہناز بانو کے درمیان غیر معمولی محبت، انس اور باہمی وابستگی تھی۔ دونوں نہایت حساس، نرم دل اور دوسروں کے دکھ درد میں شریک ہونے والی طبیعت کے مالک تھے۔ ضرورت مندوں کی مدد اور پریشان حال افراد کے ساتھ کھڑے ہونا ان کے مزاج کا حصہ تھا۔ ان کے درمیان محبت کا رشتہ اس قدر گہرا تھا کہ زندگی نے بھی ساتھ رکھا اور موت نے بھی جدائی گوارا نہ کی۔ آج بہ روز اتوار مورخہ ٩ اگست بعد نمازِ ظہر اہل خانہ کی انتہائی اشکبار آنکھوں سے مزہبی سماجی سیاسی تعلیمی شخصیات کی موجودگی میں تدفین عمل میں آئی۔ یہ سانحہ صرف سلیم انعامدار اور ان کے اہلِ خانہ کا ذاتی غم نہیں بلکہ ان تمام لوگوں کے لیے بھی ایک بڑا صدمہ ہے جو ان دونوں مرحومین سے محبت، خلوص اور انسان دوستی کے رشتے میں وابستہ تھے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم عمر شیخ اور مرحومہ شہناز بانو کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، انہیں جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور پسماندگان بالخصوص سلیم انعامدار اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔