آپ بیتی - صندوق میں بند ماضی - ازقلم : رہبر تماپوری۔


 آپ بیتی - 
 صندوق میں بند ماضی - 
ازقلم : رہبر تماپوری۔

گھر کی صفائی کرتے ہوئے برسوں سے ایک کونے میں رکھا ہوا پرانا صندوق میری نظر میں آیا۔ اس پر وقت کی گرد جمی ہوئی تھی اور زنگ آلود تالا یوں محسوس ہوتا تھا جیسے برسوں سے کسی راز کی حفاظت کر رہا ہو۔ میں نے جیسے ہی اس کا ڈھکن کھولا، یوں لگا جیسے ماضی نے خاموشی سے میرا ہاتھ تھام لیا ہو۔ اس صندوق میں صرف چند پرانی چیزیں نہیں تھیں، بلکہ میری زندگی کی وہ انمول یادیں محفوظ تھیں جنہیں وقت بھی مٹا نہ سکا تھا۔ ہر چیز اپنے اندر ایک الگ داستان سموئے ہوئے تھی۔
سب سے پہلے اسکول کے زمانے کی چند تصویریں ہاتھ آئیں۔ ان تصویروں میں میرے وہ ہم جماعت مسکرا رہے تھے جو کبھی میری روزمرہ زندگی کا حصہ تھے۔ آج نہ جانے وہ سب کہاں ہوں گے اور کس حال میں ہوں گے، مگر ان کی یادیں آج بھی میرے دل میں تازہ ہیں۔ ان تصویروں کو دیکھ کر احساس ہوا کہ زندگی کسی کے انتظار میں نہیں ٹھہرتی۔ جس طرح کشتی مسلسل سفر کے بعد ہی ساحل تک پہنچتی ہے، اسی طرح انسان کو بھی اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے ہر حال میں آگے بڑھتے رہنا پڑتا ہے۔
اسی صندوق میں ابا جان کے ہاتھ سے لکھی ہوئی ایک حمد بھی محفوظ تھی۔ میں اس وقت چوتھی یا پانچویں جماعت کا طالب علم تھا۔ انہوں نے نہایت محبت، شفقت اور خلوص سے وہ حمد مجھے یاد کرنے کے لیے اپنے ہاتھوں سے لکھی تھی۔ آج بھی ان کی تحریر دیکھتا ہوں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ان کی دعائیں، نصیحتیں اور محبت میرے ساتھ چل رہی ہوں۔ انہی کی تربیت نے میرے دل میں علم کی محبت پیدا کی اور سیکھنے کا شوق بیدار کیا۔ اسی احساس کو میں نے اپنے ایک شعر میں یوں سمیٹا ہے:

لوگ پڑھتے ہیں زر، زمین و زیور کے لیے
رہبر پڑھتا ہے بس سیکھنے، سکھانے کے لیے۔

بچپن سے مجھے ہر نئی چیز کے بارے میں سوال کرنے کی عادت تھی۔ کوئی نئی چیز دیکھتا تو فوراً ابا جان سے اس کے بارے میں پوچھ بیٹھتا۔ وہ کبھی میری جستجو سے اُکتاتے نہیں تھے، بلکہ بڑے صبر، محبت اور اطمینان سے میرے ہر سوال کا جواب دیتے تھے۔ آج جب میں خود تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوں اور میرے شاگرد مجھ سے سوال کرتے ہیں تو بے اختیار ابا جان یاد آ جاتے ہیں۔ تب احساس ہوتا ہے کہ ایک اچھا معلم صرف کتابی علم نہیں دیتا، بلکہ سوچنے، سمجھنے اور سیکھنے کا حوصلہ بھی عطا کرتا ہے۔
پھر ایک پرانی پینسل نظر آئی۔ اسے ہاتھ میں لیتے ہی بچپن کا مشہور ٹیلی وژن سیریل "شکالاکا بوم بوم" یاد آ گیا۔ اس سیریل کے ایک طالب علم کے پاس جادوئی پینسل تھی، جس سے بنائی گئی ہر تصویر حقیقت کا روپ دھار لیتی تھی۔ ہم بھی اپنی عام پینسلوں کو جادوئی سمجھ کر خوابوں کی تصویریں بنایا کرتے تھے۔ آج احساس ہوا کہ اصل جادو پینسل میں نہیں، بلکہ ان خوابوں، امیدوں اور یادوں میں تھا جو آج بھی میرے دل میں زندہ ہیں۔
صندوق کے ایک کونے میں لٹو، اس کا دھاگا، رنگ برنگے کنچے اور ہماری مشہور "پھرکی" بھی رکھی تھی، جسے ہم کوکا کولا کے پرانے ڈھکن سے بناتے تھے۔ دوستوں کے ساتھ پھرکی گھمانا، کنچے کھیلنا اور لٹو نچانا ہی ہماری سب سے بڑی خوشی تھی۔ ان معمولی کھلونوں نے مجھے یاد دلایا کہ بچپن کی اصل دولت مہنگے کھلونے نہیں، بلکہ بے فکری، خلوص، دوستی اور معصوم خوشیاں ہوتی ہیں۔
میں نے صندوق دوبارہ بند کر دیا، مگر اس میں محفوظ یادیں میرے دل میں ہمیشہ کے لیے زندہ ہو گئیں۔ اس دن مجھے یقین ہو گیا کہ انسان کی اصل دولت زر و مال نہیں، بلکہ والدین کی تربیت، اساتذہ کی رہنمائی، بچپن کی معصوم خوشیاں اور وہ یادیں ہیں جو زندگی کے ہر موڑ پر حوصلہ دیتی ہیں۔ ماضی کو صندوق میں بند تو کیا جا سکتا ہے، مگر دل سے کبھی جدا نہیں کیا جا سکتا۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔