گلف این آر آئیز کے مسائل ترجیحی بنیاد پر حل ہونے چاہئیں۔ سابق گورنر بنڈرو دتاتریہ۔ سماجی جہدکار محمد قیصر کی تہنیتی تقریب۔


حیدرآباد - (پریس نوٹ) جلیجی ممالک کے این آر آئیز ملک کی معیشت کے لئے ایک اثاثہ ہیں۔ ان کے مسائل ترجیحی بنیاد پر حل ہونے چاہئیں۔ یہ بات سابق گورنر ہماچل پردیش و ہریانہ عزت مآب بنڈارو دتّاتریہ نے کہی۔ وہ این آر آئیز گروپ کی جانب اہتمام کردہ تقریب سے مخاطب تھے۔ بنڈارو دتاتریہ نے خلیجی ممالک میں مقیم ہندوستانی برادری کو یقین دلایا کہ وہ ان کے دیرینہ مسائل کو ذاتی طور پر حکومتِ ہند سے نمائندگی کرین اور ان کے حل کے لیے مؤثر کوششیں کریں گے۔
دتاتریہ نے ریاض میں “تنظیم ہم ہندوستانی” کے صدر اور عثمانیہ یونیورسٹی ایلومنائی ایسوسی ایشن، ریاض کے صدر محمد قیصر کے اعزاز میں میڈیاپلس اڈیٹوریم میں منعقدہ تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ این آر آئی برادری کی جانب سے منعقدہ اس تقریب میں انوار العلوم کالج کے سابق طلبہ اور این آر آئیز کی ایک کثیر تعداد نے نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دتاتریہ نے کہا کہ خلیجی ممالک میں کام کرنے والے ہندوستانیوں کے مسائل مرکزی حکومت تک پہنچائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان مسائل کو حکومت کے علم میں لانے اور مناسب حل تلاش کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ انہوں نے خلیجی این آر آئیز کے ساتھ اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔دتاتریہ نے محمد قیصر کی شال پوشی و گل پوشی اور یادگاری مومنٹو پیش کرکے اعزاز سے نوازا۔ انہوں نے قیصر کو ایک باصلاحیت اور مخلص شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ کئی دہائیوں سے ریاض میں اپنے ہم وطنوں کی فلاح و بہبود کے لیے مسلسل خدمات انجام دیئے۔ 
سابق مرکزی وزیر نے انوارالعلوم کالج کے سابق طالب علم کی حیثیت سے اپنی وابستگی کو بھی یاد کیا۔ اس موقع پر محمد قیصر، جو انوارالعلوم ایوننگ کالج کے سابق طالب علم اور سابق اسٹوڈنٹس یونین صدر بھی رہ چکے ہیں، نے ریاض میں اپنی کئی دہائیوں پر محیط سماجی خدمات اور ذاتی تجربات کا ذکر کیا۔انہوں نے خلیجی ممالک میں مقیم ہندوستانیوں کو درپیش متعدد حل طلب مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے حکومتِ ہند سے مطالبہ کیا کہ انہیں “کنٹریکٹ لیبر” کا درجہ دلایا جائے، تاکہ وہ ہندوستان واپسی کے بعد مختلف سرکاری اسکیموں سے استفادہ کرسکیں۔ جس کے جواب میں شری دتّاتریہ نے این آر آئیز مسائل کے مسائل کی نمائندگی کا تیقن دیا۔ 
محمد قیصر نے کہا کہ خلیجی ممالک میں بڑی تعداد میں ہندوستانی سخت محنت کرکے نہ صرف اپنا روزگار کماتے ہیں بلکہ اپنے خاندانوں کی کفالت بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی خدمات اور ملک و خاندان کے لیے ان کی قربانیوں کو مزید سرکاری اور ادارہ جاتی طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔ ریاض اور حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے محمد قیصر کے دیرینہ دوستوں اور رفقا نے سعودی عرب میں ان کے ساتھ گزاری ہوئی کئی دہائیوں کی رفاقت اور یادوں کا تذکرہ کیا۔
تقریب سے خطاب کرنے والوں میں ڈاکٹر نیاز احمد خان، ڈاکٹر محمد اشرف علی، ڈاکٹر عابد معیز، ڈاکٹر خواجہ ناصرالدین، ڈاکٹر شجاعت علی صوفی، ڈاکٹر فاضل حسین پرویز، ڈاکٹر اسلام الدین مجاہد، پروفیسر ایس اے شکور اور بندارو دتاتریہ شامل تھے۔ تقریب کے آغاز میں ڈاکٹر نیاز احمد خان، یونس سلیم، ایڈوکیٹ محمد ولی الرحمٰن اور شاہ غلام سبحانی نے مہمانِ خصوصی، مہمانِ اعزاز اور دیگر معزز مہمانوں کو گلدستے پیش کیے۔ سینئر صحافی کے این واصف، کنوینر و چیئرمین آرگنائزنگ کمیٹی، نے تقریب کی صدارت کی۔ انھون نے خطبہ استقبالیہ اور محمد قیصر پر خاکہ پیش کیا۔ پروفیسر ایس اے شکور اور شجاعت علی صوفی نے بحیثیت مہمانانِ اعزازی شرکت کی۔ 
تقریب کی نظامت شریک کنوینر، سید ضیاء الرحمٰن، ایڈیٹر و سی ای او YaHind.Com نے انجام دی۔ تقریب کے اختتام پر محمد قیصر کے متعدد دیرینہ دوستوں اور خیرخواہوں نے ایک بار پھر انہیں تہنیت پیش کرتے ہوئے کثیر تعداد میں ہار اور شال و تحائف پیش کرکے خراجِ تحسین پیش کیا۔ میڈیا پلس کی جانب سے بھی انہیں روایتی شال پیش کی گئی۔
اس موقع پر میڈیا پلس کے سی ای او محمد خالد شہباز نے میڈیا پلس دفتر کے اپنے پہلے دورے پر بندارو دتاتریہ کی شال پوشی کی اور ان کو یادگاری تحفہ پیش کیا۔ سینئر صحافی میر محسن علی، شریک کنوینر، نے کلماتِ تشکر پیش کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی، معزز شخصیات، منتظمین اور تمام شرکائے تقریب کا شکریہ ادا کیا۔ اپنے اظہارِ تشکر میں محمد قیصر نے ایک مرتبہ پھر اس جانب توجہ دلائی کہ تمام این آر آئیز خوشحال نہیں ہیں اور بہت سے افراد ہندوستان واپس آنے کے بعد بھی سنگین مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔
اس پر فوری ردعمل دیتے ہوئے بندارو دتاتریہ نے کمیونٹی سے کہا کہ وہ ایک مختصر وفد کی شکل میں ان کی رہائش گاہ پر آئیں اور اپنے مطالبات پر مشتمل تحریری یادداشت پیش کرے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وہ اس تجویز کو حکومت تک پہنچائیں گے۔ توقع ہے کہ این آر آئی برادری کا ایک وفد جلد ہی دتاتریہ سے ملاقات کرے گا۔
تقریب میں متین مجددی، معین بیگ، وقار حسینی، سید ذبیح الرحمٰن، محمد صمد، محمد سلیم، عبد القیوم مخفی، آصف علی، قاسم مصطفیٰ، مرزا ظہیر بیگ، تجمل علی خان، زبیر بن محمد، جاوید کمال، ابو مسعود عبدالغنی، محمد مظفر احمد، شیخ رفیع، مرزا انور بیگ اور خلیل اللہ حسینی کے صاحبزادے ایوب حسینی سمیت دیگر افراد نے شرکت کی۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔