اگر میں مرد ہوتی( عورت کی زبانی)۔ ازقلم : ظفر ھاشمی ندوی۔(سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ)
اگر میں مرد ہوتی( عورت کی زبانی)
ازقلم : ظفر ھاشمی ندوی۔
(سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ)
میں اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس نے مجھے عورت بنایا- کیوں ؟ اس کا جواب آپ کو خود مردوں کی تمنا سے پچھلی قسط میں مل گیا ہوگا- مگر میں نے بھی اپنا جائزہ بحیثیت عورت لیا تو صاف محسوس ہوا کہ اگر میں مرد ہوتی تو اور زیادہ اللہ کی عبادت اور اسلام کی خدمت کرتی - وہ کیسے؟ ایسے:
میں مردوں کی طرح مسجد جا کر نماز پڑھتی - مگر ہائے رے بدنصیبی مردوں کی - مرد ہوتے ہوئے بھی اکثر مرد گھروں میں نماز پڑھتے ہیں- انھیں شرم آنی چاہیے- میں مردوں کی طرح خود کماتی اور دوسروں کو کھلاتی کیونکہ اسلام میں دوسروں کو کھلانے کی بڑی فضیلت ہے - مگر ہائے رے بد نصیبی مردوں کی - انھیں اپنے ماں باپ بھائی بہن اور بیوی بچوں پر خرچ کرنے کاحکم دیا گیا ہے مگر مرد اولاد ماں باپ کی قدر نہیں کرتی ہے - بھائیوں کو بہنوں پر خرچ کرنا بھاری لگتا ہے- مالدار مسلمان زکوٰۃ یا تو دیتا نہیں ہے یا بہانے کر کر کے کم سے کم دینے کا راستہ ڈھونڈتا رہتا ہے - ھمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے( اليد العليا خير من اليد السفلى ) اوپر کا ہاتھ ( یعنی دوسروں کو دینے والا ہاتھ ) نیچے کے ہاتھ سے ( یعنی لینے والے ہاتھ ) سے بہتر ہے- کیا شان ہے مردوں کی سب کی خدمت کرتے ہیں اور ان کا ہاتھ اللہ کے یہاں سب سے بہتر ہے - مگر بحیثیت عورت اس میں میری کوئی بے عزتی نہیں ہے کیونکہ مجھ پر اللہ تعالی ہی نے کمانے کی ذمہ داری نہیں ڈالی ہے-
اگر میں مرد ہوتی تو اللہ کے راستہ میں ضرورت پڑنے پر جہاد کر سکتی تھی - ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ ، حق ادا نہ ہوا
دوسری طرف بخاری اور مسلم شریف میں حدیث ہے: آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے جہاد کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا لا هجرة بعد الفتح ولكن جهاد ونية واذا استنفرتم فانفروا
فتح مكه كے بعد فرض جھاد ختم ہو گیا ہے اب جھاد کا حکم باقی ہے اور اس کی نیت کا ثواب- اور جب بھی تم سے جھاد کرنے کے لئے کہا جائے تو اس کے لئے نکل جاؤ- میری طرح تمام عورتوں کو اس حدیث میں یہ خوشخبری ہے کہ اگر جھاد کی سچی نیت اور خواہش ہوگی تو اس کا ثواب ضرور ملے گا- پھر اور کیا چاھیے - اندھا کیا چاھے ؟ دو آنکھ - بھوکے سے پوچھا جائے کہ دو اور دو کتنے ہوتے ہیں تو ہر بھوکا جواب دے گا چار روٹی - اسی طرح کسی سچے مسلمان سے پوچھا جائے کہ تمھیں کیا چاھیے ؟ تو وہ کہے گا ہر نیک عمل کی توفیق اور اس کا اجر و ثواب تاکہ جنت مل جائے-
اگر ہر عورت اپنے عورت پن کو اللہ کے حکم کے مطابق کر لے تو جنت اس کی ہے اور اسی طرح اگر ہر مرد اپنی مردانہ قوت کو اسلامی تعلیمات کے مطابق استعمال کر لے تو جنت اس کی-
اس زمانے کی مشکل یہ ہے کہ ہر عورت کو صرف دنیا نظر آ رہی ہے اور ہر مرد اپنی ساری مردانگی دنیا بنانے میں لگا رہا ہے- ضرورت اس بات كی ہے کہ مسلم عورت اسلامی تعلیمات کے مطابق دنیا کو مسلم عورت بن کر بتائے اور مسلم مرد اسلامی تعلیمات کے مطابق دنیا کو مسلم مرد بن کر بتائے-ام المؤمنین حضرت عائشہ
رضی اللہ عنہا نے ایک دفعہ اللہ کی قسم اس انداز سے کھائی- والذی جمل الرجال باللحی والنساء بالذوائب اس ذات کی قسم جس نے مردوں کو خوبصورت بنایا ڈاڑھی دے کر اور عورتوں کو خوبصورت بنایا چوٹی دے کر- مگر ہائے رے آج کل کے مرد اور عورتیں - مردوں نے ڈاڑھی منڈوانے کو خوبصورتی بنا دیا ہے اور عورتوں نے چوٹیاں کٹوانے کو خوبصورتی - بلکہ ایک قسم ھجڑوں کی طرح مرد ہو کر چوٹیاں رکھنے لگی ہے-
میرے مسلم بھائیوں اور مسلم بہنوں واپس آجاو - علامہ شبلی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے: دوسری قوموں کی ترقی یہ ہے کہ وہ آگے بڑھتے جائیں آگے بڑھتے جائیں( آپ نے دیکھ لیا کہ وہ اتنے آگے بڑھ گئے کہ مرد و عورت سب کے سب جانوروں کی طرح ننگے ہو گئے) اور فرمایا کہ مگر مسلمانوں کی ترقی اس میں ہے کہ وہ پیچھے ہٹتے جائیں اور پیچھے ہٹتے جائیں یہاں تک کہ صحابہ کی صف سے جا ملیں- یعنی صحابہ کی تہذیب و تمدن کو آج کی دنیا میں زندہ کر کے دکھائیں - اللہم آمییییییییییین-
Comments
Post a Comment