ہندوستان کب سپر پاور بنے گا؟ - یومِ آزادی پر فکری سوال - ازقلم : سید فاروق احمد قادری۔
ہندوستان کب سپر پاور بنے گا؟ -
یومِ آزادی پر فکری سوال -
ازقلم : سید فاروق احمد قادری۔
15 اگست صرف ایک قومی تہوار نہیں بلکہ خود احتسابی، عزم اور مستقبل کی سمت متعین کرنے کا دن بھی ہے۔ جب وزیراعظم لال قلعہ کی فصیل سے قومی پرچم لہرائیں گے اور قوم سے خطاب کریں گے تو کروڑوں ہندوستانیوں کی نظریں اس خطاب پر ہوں گی۔ عوام کی خواہش ہوگی کہ صرف کامیابیوں کا ذکر نہ ہو بلکہ ان مسائل کا بھی حل پیش کیا جائے جن کا سامنا عام شہری، نوجوان، کسان، مزدور اور متوسط طبقہ روزانہ کر رہا ہے۔
میرے لیے یہ سوال نیا نہیں ہے۔ 2011ء میں شائع ہونے والی میری خودنوشت "سلگتا احساس" میں بھی میں نے ایک مضمون لکھا تھا: "بھارت سپر پاور کب بنے گا؟" اس زمانے میں یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ 2020ء تک ہندوستان سپر پاور بن جائے گا۔ لیکن میں نے اس دعوے کو ایک سوالیہ نشان (?) کے ساتھ پیش کیا تھا، کیونکہ میرا یقین تھا کہ صرف دعووں اور نعروں سے کوئی ملک سپر پاور نہیں بنتا۔ آج، پندرہ برس بعد بھی وہی سوال ہمارے سامنے موجود ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اس موضوع پر سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت آج بھی باقی ہے۔
حالیہ دنوں میں دہلی کے جنتر منتر پر نوجوان طلبہ نے اپنے مطالبات کے حق میں مسلسل پُرامن دھرنا دیا۔ 20 جولائی کو پیش آنے والے لاٹھی چارج کے باوجود انہوں نے تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا بلکہ صبر، نظم و ضبط اور آئینی طریقے سے اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ کئی ہفتوں تک جاری رہنے والے اس احتجاج نے پورے ملک کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی۔ سوشل میڈیا کے ذریعے ان کی آواز گھر گھر پہنچی اور عوام کی بڑی تعداد نے ان کے حوصلے، تحمل اور جمہوری طرزِ عمل کو سراہا۔ یہ منظر ہندوستان کی تحریکِ آزادی کی یاد دلاتا ہے، جب آزادی کے متوالوں نے لاٹھیاں کھائیں، جیلیں بھریں، لیکن عدم تشدد اور آئینی جدوجہد کا راستہ نہیں چھوڑا۔
جمہوریت عوام سے بنتی ہے، عوام ہی اس کی اصل طاقت ہوتے ہیں۔ آئینِ ہند بھی "ہم، ہندوستان کے عوام" کے الفاظ سے شروع ہوتا ہے۔ اس لیے حکومت کی مضبوطی عوام کے اعتماد میں اور عوام کی طاقت ان کی آواز میں پوشیدہ ہے۔ جب نوجوان تعلیم، شفاف امتحانی نظام، روزگار اور انصاف کی بات کریں تو ان کی آواز کو سننا جمہوریت کا تقاضا ہے۔
اگر ہندوستان کو حقیقی معنوں میں سپر پاور بننا ہے تو صرف معاشی ترقی کے اعداد و شمار کافی نہیں ہوں گے، بلکہ قومی ترقی کا فائدہ عام آدمی تک پہنچنا چاہیے۔
جب تک ملک کی معیشت مضبوط نہیں ہوگی، ہندوستان سپر پاور نہیں بن سکتا۔
جب تک ہر نوجوان کو باعزت روزگار نہیں ملے گا، ہندوستان سپر پاور نہیں بن سکتا۔
جب تک تعلیم عالمی معیار کی نہیں ہوگی، ہندوستان سپر پاور نہیں بن سکتا۔
جب تک سائنس، تحقیق اور ٹیکنالوجی میں مسلسل ترقی نہیں ہوگی، ہندوستان سپر پاور نہیں بن سکتا۔
جب تک امتحانی نظام شفاف اور قابلِ اعتماد نہیں ہوگا، نوجوانوں کا اعتماد بحال نہیں ہوگا۔
جب تک کسان خوشحال نہیں ہوگا، ہندوستان سپر پاور نہیں بن سکتا۔
جب تک کمزور اور محروم طبقات کو ترقی کے مساوی مواقع نہیں ملیں گے، ہندوستان سپر پاور نہیں بن سکتا۔
اور جب تک ملک سے کرپشن کا مؤثر خاتمہ نہیں ہوگا، ہندوستان حقیقی معنوں میں سپر پاور نہیں بن سکتا۔
کرپشن صرف سرکاری خزانے کو نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ عوام کے اعتماد، نوجوانوں کے مستقبل، سرمایہ کاری، تعلیم، روزگار اور انصاف کے نظام کو بھی کمزور کرتی ہے۔ اسی طرح مضبوط معیشت صرف بڑے منصوبوں سے نہیں بنتی بلکہ ایک ایسے نظام سے بنتی ہے جس میں ہر شہری کو ترقی کے مساوی مواقع حاصل ہوں۔
یومِ آزادی کے اس مبارک موقع پر ہندوستان کی عوام وزیراعظم سے پُرخلوص اپیل اور امید کرتی ہے کہ وہ اپنے تاریخی خطاب میں صرف گزشتہ کامیابیوں کا ذکر ہی نہیں کریں گے بلکہ ملک کو درپیش بنیادی مسائل کے حل کے لیے بھی واضح اور مؤثر اقدامات کا اعلان کریں گے۔
عوام کی خواہش ہے کہ تعلیم کے شعبے میں زیادہ سرمایہ کاری کی جائے، نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں، کسانوں کی مشکلات کو ترجیحی بنیاد پر حل کیا جائے، کمزور اور غریب طبقات کے لیے مزید فلاحی اقدامات کیے جائیں، بے روزگاری اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے ٹھوس پالیسیاں اختیار کی جائیں، امتحانی نظام کو شفاف بنایا جائے، ٹیکنالوجی، تحقیق اور صنعت کو فروغ دیا جائے، اور کرپشن کے خلاف بلاامتیاز مؤثر کارروائی کی جائے۔
عوام کو یقین ہے کہ اگر ان بنیادی شعبوں پر سنجیدگی سے توجہ دی گئی تو ہندوستان ترقی کی نئی منزلیں طے کرے گا اور ایک مضبوط، خوشحال اور حقیقی سپر پاور بننے کی راہ پر تیزی سے آگے بڑھے گا۔
ہمارا کام اپنی قومی، آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ادا کرنا ہے۔ اخبار اسے شائع کریں یا نہ کریں، سوشل میڈیا پر اسے کتنی پذیرائی ملے، یہ ہمارے اختیار میں نہیں۔ ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ قوم کو بیدار کیا جائے، عوام کے مسائل کو ذمہ دارانِ حکومت تک پہنچایا جائے اور ملک کے بہتر مستقبل کے لیے مثبت آواز بلند کی جائے۔
آخر میں، ایک ہندوستانی شہری، ایک قلم کار اور اپنی کتاب "سلگتا احساس" کے مصنف کی حیثیت سے میں دل کی گہرائیوں سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے وطنِ عزیز ہندوستان کو امن، خوشحالی، انصاف، مضبوط معیشت، معیاری تعلیم، جدید ٹیکنالوجی، کرپشن سے پاک نظام اور باوقار ترقی عطا فرمائے۔
میری دلی دعا ہے کہ ہندوستان حقیقی معنوں میں ایک سپر پاور بنے، لیکن ایسی سپر پاور جو اپنی طاقت انصاف، علم، ترقی، انسانی اقدار، عوام کی خوشحالی اور قومی یکجہتی سے حاصل کرے۔
آمین یا رب العالمین۔
Comments
Post a Comment