کالم نگاری - آزادی: جشن سے آگے کی ایک حقیقتاز قلم: رہبر تماپوری ۔
کالم نگاری -
آزادی: جشن سے آگے کی ایک حقیقت
از قلم: رہبر تماپوری ۔
مہمان معلم، جامعہ اسلامیہ احیاء العلوم
جامعہ نگر، تماپور، تعلقہ شوراپور، ضلع یادگیر، ریاستِ کرناٹک
رابطہ: 8431012141
ہر سال جب یومِ آزادی آتا ہے تو پورا ملک جشن کے رنگ میں ڈوب جاتا ہے۔ گلی محلوں، اسکولوں اور سرکاری دفاتر میں قومی پرچم لہرائے جاتے ہیں، قومی ترانے گائے جاتے ہیں، ریلیاں نکالی جاتی ہیں اور بچوں سے وطن سے محبت کے نعرے لگوائے جاتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا آزادی صرف تقریبات اور نعروں تک محدود ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ آزادی جشن سے کہیں بڑھ کر ایک مسلسل ذمہ داری کا نام ہے۔
آزادی کی تاریخ قربانی، جدوجہد اور ظلم کے خلاف مزاحمت سے عبارت ہے۔ ظلم صرف جسمانی اذیت کا نام نہیں؛ کسی کے بنیادی حقوق سلب کرنا، اس کی آواز دبانا اور اسے خوف میں زندگی گزارنے پر مجبور کرنا بھی ظلم ہے۔ ظالم کو شاید اپنے عمل کی شدت کا احساس نہ ہو، مگر مظلوم اس کی تکلیف کو پل پل محسوس کرتا ہے۔ غلامی کا درد جاننے والا ہی آزادی کی قدر کو گہرائی سے سمجھ سکتا ہے۔
آزادی صرف کسی مسلط شدہ طاقت سے نجات کا نام نہیں، بلکہ آزاد فکر، باشعور عمل اور ذمہ دارانہ زندگی کا نام بھی ہے۔ انسان کو اپنے جائز خیالات کا اظہار کرنے، سوال اٹھانے اور سچ بولنے کا حق حاصل ہو—یہی آزادی کی اصل روح ہے۔ تاہم آزادی کا مطلب بے لگام اختیار نہیں، بلکہ یہ ہم پر لازم کرتی ہے کہ اپنی آزادی کے ساتھ دوسروں کے حقوق، عزت اور وقار کا بھی احترام کریں۔
اگر کسی شہری کے دل میں خوف اس قدر بیٹھ جائے کہ وہ اپنے حق کے لیے آواز نہ اٹھا سکے تو یہ بھی غلامی ہی کی ایک صورت ہے۔ اسی طرح جہالت ایسی غلامی ہے جس کی زنجیریں دکھائی نہیں دیتیں۔ جو شخص صحیح اور غلط میں فرق نہ کر سکے اور بغیر سوچے سمجھے دوسروں کے خیالات قبول کرتا رہے، وہ فکری طور پر مکمل آزاد نہیں ہوتا۔
تعلیم وہ روشن چراغ ہے جو انسان کو فکری غلامی سے نکال کر شعور، خود اعتمادی اور باوقار زندگی عطا کرتی ہے۔ ایک باشعور شہری اپنے حقوق کے ساتھ اپنے فرائض کو بھی سمجھتا ہے۔ تعلیم روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ انسان کو مسائل پر آواز اٹھانے کا حوصلہ اور انصاف تک پہنچنے کی راہ بھی دکھاتی ہے۔
غربت، محرومی اور معاشی ناہمواری بھی آزادی کے مفہوم پر بڑے سوالات کھڑے کرتی ہیں۔ جب وسائل چند ہاتھوں تک محدود رہیں، مواقع سب کے لیے برابر نہ ہوں یا کسی کمزور کی مجبوری سے فائدہ اٹھایا جائے تو معاشرے میں بے چینی اور محرومی بڑھتی ہے۔ جب تک قانون کی حکمرانی، مساوات اور عدل کو عملی زندگی میں مضبوط نہیں کیا جائے گا، آزادی کا تصور مکمل نہیں ہو سکتا۔
آزادی کی حفاظت صرف سرحد پر کھڑا سپاہی نہیں کرتا؛ استاد دیانت داری سے تعلیم دے، ڈاکٹر انسانیت کے ساتھ علاج کرے، سرکاری ملازم ایمانداری سے اپنا فرض ادا کرے، صحافی سچائی کے ساتھ قلم اٹھائے، مزدور محنت سے کام کرے اور عام شہری قانون کی پاسداری کرے تو یہ سب آزادی کے سچے محافظ بن جاتے ہیں۔
ہم میں سے اکثر لوگ آزاد ماحول میں پیدا ہوئے ہیں، اس لیے ممکن ہے کہ ہم آزادی کی اصل قیمت کو پوری طرح محسوس نہ کر سکیں۔ مگر جن لوگوں نے غلامی کی پابندیاں، خوف اور محرومیاں سہی ہیں، وہ جانتے ہیں کہ آزادی محض ایک لفظ نہیں بلکہ ایک عظیم نعمت ہے۔ نئی نسل کو صرف یہ بتانا کافی نہیں کہ آزادی کب حاصل ہوئی؛ اسے یہ بھی سکھانا ہوگا کہ آزادی کی حفاظت کیسے کی جاتی ہے۔
یومِ آزادی پر ہمیں صرف یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ وطن نے ہمیں کیا دیا، بلکہ یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ ہم نے وطن کو کیا دیا۔ وطن سے محبت صرف پرچم کو سلام کرنے یا نعرہ لگانے سے ثابت نہیں ہوتی؛ اس کا اصل پیمانہ ایمانداری، ذمہ داری، قانون کی پاسداری اور معاشرے کی بہتری کے لیے ہمارا عملی کردار ہے۔
آئیے! اس یومِ آزادی پر جشن ضرور منائیں، مگر عہد بھی کریں کہ ہم جہالت کو تعلیم سے، ناانصافی کو عدل سے، بدعنوانی کو دیانت داری اور شفافیت سے، اور خوف کو شعور و حوصلے سے شکست دیں گے۔ کیونکہ آزادی ایک دن کا جشن نہیں، یہ ہر دن کی ذمہ داری ہے۔
Comments
Post a Comment