خاندانِ مصطفیٰ ﷺ کی سیرت و عظمت کو سمجھنا ایمان کا اہم تقاضا ہے: مفتی محمد حنیف قادری نظامی کا خطاب۔
بیدر 22/ اگست (نامہ نگار) حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس ہمارے ایمان کا مرکز ہے، اس لیے آپ ﷺ کے والدینِ ماجدین، آباؤ اجداد، اہلِ بیتِ اطہار اور خاندانِ پاک کے مقام و مرتبہ کو قرآن و حدیث کی روشنی میں سمجھنا اور ان کے ساتھ ادب و تعظیم کا معاملہ کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ ان خیالات کا اظہار حضرت علامہ مولانا مفتی محمد حنیف قادری نظامی، بانی مدرسہ دارالعلوم بھتجہ الانوار طاہریہ، حیدرآباد نے نبی خانہ مبارک، بیدر میں جناب ڈاکٹر الحاج سید حسام الدین قادری عزیر، صدر قاضی دارالقضاء بیدر کی نگرانی میں منعقدہ 12 روزہ محفلِ میلاد النبی ﷺ کی ساتویں مجلسِ میلاد بعنوان ’’سیرت و عظمتِ خاندانِ مصطفیٰ ﷺ‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ حضور نبی کریم ﷺ پوری دنیا کے لیے نبی بن کر تشریف لائے اور آپ ﷺ کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ اس سے قبل مختلف علاقوں اور قوموں کی ہدایت کے لیے مختلف ادوار میں انبیائے کرام علیہم السلام تشریف لاتے رہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ حضرت ہارون علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں حضرت یحییٰ علیہ السلام کی بعثت اس کی مثال ہے۔ حضور اکرم ﷺ کی بعثت کے بعد نہ کوئی نبی آیا اور نہ آسکتا ہے۔
مولانا مفتی محمد حنیف قادری نظامی نے زمانۂ فترت کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ دو انبیائے کرام کے درمیان گزرنے والے اس زمانے کو فترت کہا جاتا ہے جس میں کوئی نیا نبی تشریف نہ لائے۔ قرآنِ کریم کے اصول کے مطابق اللہ تعالیٰ کسی قوم کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتا جب تک اس کی طرف رسول نہ بھیج دے۔ اس لیے ایسے مسائل کو سمجھنے کے لیے قرآن و حدیث اور معتبر علمائے اہلِ سنت کی تشریحات سے رہنمائی حاصل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ عقائد کے معاملے میں کسی شخصیت کی ذاتی رائے کو حتمی دلیل نہیں بنایا جاسکتا، بلکہ قرآن و حدیث کو بنیاد بنانا چاہیے۔ کسی عالم، مفتی یا مولوی کی بات اسی وقت قبول کی جائے جب وہ قرآن و سنت کے دلائل سے ثابت ہو۔ انہوں نے مسلمانوں کو اختلافی مسائل میں غیر ضروری بحث و تکرار سے بچنے اور مستند دینی کتب و اکابر علماء سے استفادہ کرنے کی تلقین کی۔
مولانا نے حضور اکرم ﷺ کے والدینِ ماجدین حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ اور حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کے ایمان و تقدس پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حضور ﷺ کے والدینِ ماجدین اور آباؤ اجداد کے مقام و مرتبہ کا ادب و احترام ضروری ہے۔ آپ ﷺ کے خاندانِ پاک کے بارے میں زبان کھولتے وقت مسلمان کو انتہائی محتاط رہنا چاہیے اور کسی قسم کی نازیبا یا گستاخانہ گفتگو سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے۔
انہوں نے حضور اکرم ﷺ کے نسبِ مبارک، آباؤ اجداد کی پاکیزگی اور زمانۂ فترت کے احوال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حضور ﷺ کے نسبِ پاک کے بزرگوں کی عظمت کو سمجھنا سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کا اہم حصہ ہے۔ انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی پاکیزگی، حسن و جمال اور حضرت عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی محبت و شفقت کے متعدد واقعات بھی بیان کیے۔
حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ نہایت بصیرت و فراست رکھنے والی خاتون تھیں۔ حضور اکرم ﷺ کے بچپن میں آپ کی حفاظت اور تربیت کے سلسلے میں حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کی حکمت و دانائی کے واقعات سیرت کی کتابوں میں ملتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حضور ﷺ کے والدینِ ماجدین کی عظمت کو سمجھنا ہر عاشقِ رسول ﷺ کے لیے باعثِ ایمان و محبت ہے۔
مولانا نے حضور اکرم ﷺ کے چچاؤں کا تذکرہ کرتے ہوئے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے فضائل بیان کیے اور کہا کہ دونوں حضور ﷺ کے جلیل القدر چچا اور صحابۂ کرام میں بلند مقام رکھتے ہیں۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنی بے مثال شجاعت اور قربانیوں کے ذریعے دینِ اسلام کی عظیم خدمت انجام دی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کے واقعہ میں بھی حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی جرأت و شجاعت نمایاں نظر آتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ میدانِ جنگ میں بے مثال بہادری کا مظاہرہ کرتے تھے اور حضور اکرم ﷺ کے لیے ہر مشکل موقع پر مضبوط سہارا ثابت ہوئے۔ ان کی شہادت مسلمانوں کے لیے عظیم قربانی اور وفاداری کی روشن مثال ہے۔
حضرت ابو طالب کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ اس مسئلے میں اہلِ علم کے درمیان اختلاف موجود ہے، اس لیے مسلمانوں کو اس معاملے میں غیر ضروری بحث و نزاع سے بچنا چاہیے۔ حضرت ابو طالب حضور اکرم ﷺ کے محبوب چچا تھے اور انہوں نے مشکل حالات میں آپ ﷺ کی حمایت و حفاظت کی، اس لیے ان کا ذکر بھی ادب و احترام کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔
مولانا مفتی محمد حنیف قادری نظامی نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے فضائل اور حضور اکرم ﷺ سے ان کی محبت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے حضور ﷺ کے ساتھ بے مثال وفاداری اور محبت کا ثبوت دیا۔ انہوں نے حضرت ابو سفیان بن حارث رضی اللہ عنہ سمیت حضور ﷺ کے دیگر قریبی رشتہ داروں کے حالات اور اسلام کے لیے ان کی خدمات کا بھی تذکرہ کیا۔
خطاب کے آخر میں انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو غیر ضروری بحثوں اور باہمی اختلافات میں پڑنے کے بجائے اپنے ایمان، نماز، عبادات اور اخلاق کی اصلاح پر توجہ دینی چاہیے۔ صحابۂ کرام، اہلِ بیتِ اطہار اور خاندانِ مصطفیٰ ﷺ کی سیرت و زندگی کا مطالعہ ایمان کو مضبوط کرتا ہے۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو بھی حضور اکرم ﷺ کی سیرت، خاندانِ پاک اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے مقام و مرتبہ سے واقف کرانا چاہیے۔
مولانا مفتی محمد فیاض الدین نظامی نے تعارفی خطاب کیا۔محفل میلاد میں علماء، مشائخ، حفاظ، ائمہ اور عاشقانِ رسول ﷺ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ سلام و دعا کے بعد محفلِ میلاد تکمیل پذیر ہوئی۔
Comments
Post a Comment