بسواکلیان میں ماہانہ جلسۂ فیضان حضرت سیدنا راجہ باگ سوارؒ عقیدت و احترام کے ساتھ منعقدہوا.


بیدر 6/ اگست (نامہ نگارمحمد عبدالصمد) ضلع بیدر کے تعلقہ بسواکلیان میں واقع بارگاہ عالیہ تاج الاولیاء حضرت سیدنا خواجہ تاج الدین بابا شیر سوار المعروف حضرت سیدنا راجہ باگ سوار قدس سرہ العزیز میں 21 صفر المظفر مطابق 5 اگست بروز چہارشنبہ بعد نمازِ مغرب ماہانہ جلسۂ فیضان حضرت سیدنا راجہ باگ سوارؒ نہایت روحانی عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد ہوا، جس میں مریدین، عقیدت مندوں اور محبانِ اولیائے کرام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
جلسہ کی کارروائی کا آغاز حضرت خواجہ شاہ محمد مصبح الحسن جاگیردار، جانشینِ بارگاہ حضرت ممدوح رحمۃ اللہ علیہ کی پُرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ اس کے بعد ممتاز نعت خواہوں نے بارگاہِ رسالت مآب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ میں گلہائے عقیدت پیش کیے، جبکہ ذکرُ اللہِ جہری، درود و سلام اور دیگر روحانی اذکار سے محفل کو نورانیت سے منور کیا گیا۔
اس موقع پر مولانا خواجہ شاہ ضیاء الحسن جاگیردار مورثی، سجادہ نشین و متولی درگاہ حضرت ممدوح رحمۃ اللہ علیہ نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اس ماہ کے درسِ قرآن میں سورۂ آلِ عمران کی فضیلت اور اس کے پیغام پر روشنی ڈالی گئی۔ آپ نے حدیثِ پاک کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "سورۂ بقرہ اور سورۂ آلِ عمران پڑھا کرو، کیونکہ قیامت کے دن یہ دونوں اپنے پڑھنے والوں کی شفاعت کریں گی۔
انہوں نے کہا کہ سورۂ آلِ عمران انسان کو توحید، رسالت، صبر، تقویٰ، توکل، اتحادِ امت اور اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق قائم کرنے کی تعلیم دیتی ہے۔ اسی سورت میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے. یعنی تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ انہوں نے فرمایا کہ اولیائے کرام نے ہمیشہ انہی قرآنی تعلیمات کو عام کیا اور لوگوں کو محبتِ الٰہی، عشقِ رسول ﷺ، اخلاص، حسنِ اخلاق، خدمتِ خلق اور اتباعِ سنت کی راہ پر گامزن کیا۔ حضرت افضل پیر رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اپنی پوری حیاتِ مبارکہ درسِ قرآن کے ذریعے ہزاروں افراد کی دینی، اخلاقی اور روحانی تربیت فرمائی، اور آج اسی مبارک مشن کو جاری رکھتے ہوئے ماہانہ جلسۂ فیضان میں قرآنِ کریم کی روشنی میں رشد و ہدایت، ادب، اصلاحِ معاشرہ اور کردار سازی کا درس دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے حاضرین کو تلقین کی کہ قرآنِ کریم کو اپنی زندگی کا دستور بنائیں، نمازوں کی پابندی کریں، والدین کی خدمت، صلہ رحمی، اتحادِ امت اور محبتِ باہمی کو فروغ دیں، کیونکہ یہی تعلیمات اولیائے کرام کا حقیقی پیغام اور دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ ہیں۔بارگاہ حضرت ممدوح میں گلہائے عقیدت کا نذرانہ پیش کیا گیا.
آخر میں عالمِ اسلام، وطنِ عزیز میں امن و امان، امتِ مسلمہ کی سربلندی، بزرگانِ دین کے فیضان کے دوام اور مرحومین بالخصوص حضرت افضل پیر رحمۃ اللہ علیہ کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ بعد ازاں حاضرین میں تبرک تقسیم کیا گیا اور طعامِ لنگرِ حضرت سیدنا راجہ باگ سوار قدس سرہ العزیز کا اہتمام کیا گیا، جس سے تمام حاضرین نے فیض حاصل کیا۔ جلسہ میں شریک عقیدت مندوں نے اس روحانی جلسہ کو قرآن و سنت، تعلیماتِ اولیائے کرام اور اصلاحِ معاشرہ کے فروغ کا مؤثر ذریعہ قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ان تعلیمات کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنے کی کوشش کریں گے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔