حیدرآباد والوں کا پیار و خلوص متاثر کن - شعری و ادبی محفلیں لائق ستائش - محفل "عصرانہ" اچھوتی نوعیت کی حامل- ایوان احمد میں ڈاکٹر زبیر انصاری' ڈاکٹر فاروق شکیل اور پروفیسر مسعود احمد کا خطاب۔


حیدرآباد 20 اگست( پریس نوٹ )شہر حیدرآباد پیار و محبت اور اردو زبان و ادب کا عظیم الشان گہوارہ ہے شہر کی گنگا جمنی تہذیب مشہور ہونے کے ساتھ ساتھ حیدرآباد والوں میں جو پیار محبت اور خلوص ہے اس سے ہر کوئی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر زبیر انصاری نے کیا جو ایوان احمد کے زیر اہتمام ہفتہ واری دسویں ادبی نشست محفل عصرانہ سے رباط محبان اردو علی عبداللہ انکلیو ملک پیٹ میں ایک نمائندہ اجتماع سے مخاطب تھے پروفیسر محمد مسعود احمد نےنگرانی کی شعری نشست کی صدارت ممتاز و معروف مخدوم ایوارڈ یافتہ شاعر ڈاکٹر فاروق شکیل نے کی ڈالی گنج لکھنو سے تشریف لائے ڈاکٹر زبیر انصاری نے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ پروفیسر محمد مسعود احمد کی ترتیب کردہ محفل عصرانہ مجھے بہت ہی اچھوتی محفل لگی یہ محفل ہر اعتبار سے میرے لیے ایک یادگار ہے انہوں نے مزید کہا کہ لکھنو کی بہ نسبت حیدرآباد کی دکانوں پر اردو زبان میں سائن بورڈز کی بڑی تعداد دیکھنے پر مجھے کافی مسرت ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں اردو زبان و ادب کا جو ماحول پایا جاتا ہے اور یہاں کی شعری و ادبی جو نشستیں ہیں وہ ہر لحاظ سے قابل مبارک باد ہیں اور اردو والوں کے لیے حوصلہ افزا ہیں انہوں نے مخدوم ایوارڈ یافتہ شاعر ڈاکٹر فاروق شکیل کی شاعری پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر فاروق شاعری اعلی درجے کی اور باکمال شاعری کرتے ہیں انداز بہت ہی منفرد ہے وہ سادہ اور سلیس زبان میں شاعری کر رہے ہیں جو باعث افتخار ہے ناسازی مزاج کے سبب شعرا اور ادیب آرام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں لیکن ڈاکٹر فاروق شکیل اپنی مزاج کی پرواہ کیے بغیر اپنے شگفتہ مزاجی اور اعلی درجے کی شاعری کے ذریعے اردو عوام کو کافی متاثر کر رہے ہیں میں ان کی خدمات کو سلام کرتا ہوں ڈاکٹر فاروق شکیل نے زبیر انصاری کی صلاحیتوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر زبیر انصاری کی شاعری ہمہ مقصدی شاعری ہے و شعرا برادری میں انفرادی اہمیت کے حامل ہیں پروفیسر محمد مسعود احمد چیف آپریٹنگ آفیسر رینووا بی بی کینسر ہاسپٹل ملک پیٹ حیدرآباد نے کہا کہ مجھے زبیر انصاری سے جان کر بڑی خوشی ہوئی کہ انہوں نے اب تک متعددغزلیں لکھی ہیں وہ تقریبا 25 سال سے ہر اتوار کو ایک نئی غزل لکھتے ہیں زبیر انصاری لکھنو ہائی کورٹ میں سینیئر ایڈوکیٹ ہیں انہوں نے متحدہ عرب امارات میں بھی اپنے قیام کے دوران اپنی شاعری کے ذریعے اردو والوں کی بڑی تعداد کو متاثر کیا ہے ان کا 95 فیصد کلام فی البدیہ ہوتا ہے یہ اردو کے ساتھ ساتھ ہندی میں بھی شاعری کرتے ہیں اس موقع پر ڈاکٹر فاروق شکیل کی صدارت میں مشاعرہ منعقد ہوا جناب فرید سحر مہمان خصوصی تھے صدر مشاعرہ کے علاوہ ڈاکٹر زبیر انصاری 'فرید سحر' پروفیسر محمد مسعود احمد' سید جنید حسینی جنید' سید سہیل عظیم' سید مصطفی علی سید 'جہانگیر قیاس' ثنا اللہ انصاری وصفی اور سلیمان عبدالقدیرصدیقی اعتبار نے کلام سنایا ادبی اجلاس اور شعری نشست کی نظامت جناب سہیل عظیم نے انجام دی اس موقع پر چیئرمین سکندرآباد کو آپریٹیو بینک جناب سید ظہور الدین' جناب محمد حسام الدین ریاض' جناب سید ریاض محمد نائس اردو کمپیوٹر سنٹر 'سینیئر کانگریس قائد جناب مجتبی عابدی اور دیگر معززین موجود تھے

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔