میری تحریر - محمد فیضان طالب (بی-پی-ٹی سالِ اول، بنگلور) مقام : گلبرگہ، کرناٹک
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میں آپ سب کے سامنے اپنا ایک چھوٹا سا تعارف اور اپنی لکھی ہوئی ایک خاص تحریر پیش کرنا چاہتا ہوں۔
تحریر: محمد فیضان طالب
(بی-پی-ٹی سالِ اول، بنگلور)
مقام: گلبرگہ، کرناٹک
رابطہ:8722853661
میری تحریر کے بارے میں ایک چھوٹی سی بات:
میں جب بھی لکھتا ہوں، میری یہ کوشش ہوتی ہے کہ پہلے زندگی کا کوئی سچا واقعہ، ایک سفر یا ایک خوبصورت یاد آپ کے سامنے رکھوں اور پھر اس کے دوسرے حصے میں تخیل (Imagination) کا رنگ بھر کر اسے ایک جادوئی افسانے کا روپ دے دوں۔
نیچے دی گئی تحریر کا جو پہلا حصہ ہے، وہ محض کوئی کہانی نہیں بلکہ میرے اسکول کے دنوں کی حقیقت اور ایک سچا واقعہ ہے، جس کا ایک ایک کردار اور ایک ایک لمحہ بالکل سچ ہے۔ اور اس کا دوسرا حصہ اسی حقیقت سے جڑا ایک جادوئی افسانہ ہے، جہاں میں نے اسکول کی بے جان چیزوں کو زبان دے کر اپنے جذبات کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔
امید ہے میری یہ ادنیٰ سی کوشش، یادوں کا یہ سفر اور یہ جادوئی افسانہ آپ کے دلوں کو چھو لے گا۔ آپ کی قیمتی رائے کا منتظر رہوں گا!
.......................................
حقیقت۔
یادوں کا ایک خوبصورت سفر
نویں کلاس گزر چکی تھی اور اب ہم اسکول کے سب سے بڑے اور ذمہ دار بن چکے تھے—یعنی کلاس دسویں! دل میں ایک عجیب سا ڈر بھی تھا اور تھوڑی خوشی بھی۔ پہلے ہی دن جب کلاس ٹیچر آمین پٹیل سر نے کلاس روم میں قدم رکھا، تو پوری کلاس میں ایک خاموشی چھا گئی۔ سر نے آتے ہی سب کو دیکھا اور بڑے رعب سے کہا، "کلاس میں ڈسپلن قائم رکھنے کے لیے ہمیں ایک سی-آر (CR) بنانا پڑے گا۔" پھر کیا تھا، سبھی بچوں نے ایک ہی نام پکارا—سفیان! اور اس طرح سفیان ہماری کلاس کا آفیشل مانیٹر بن گیا، جس کا کام ہمیں چپ کرانا تھا اور ہمارا کام... خیر، مستی کرنا تھا!
کلاس روم میں ہر کسی کا ایک ٹھکانہ ہوتا ہے، اور میرا ٹھکانہ تھا بالکل سامنے والی پہلی بینچ۔ وہاں میں اور میرا سب سے پکا دوست شاہد بیٹھتے تھے۔ لیکن اصلی دھماکہ ہمارے ٹھیک پیچھے ہوتا تھا، جہاں دو بھائی—علی قریشی اور فیاض قریشی بیٹھتے تھے۔ ہم چاروں کی ایسی جوڑی جمی کہ کیا کہنے! روز اسکول آنا، لیکچرز کے بیچ میں دھیرے سے ایک دوسرے کو تانگ کرنا، لنچ بریک ہوتے ہی سب سے پہلے ڈبہ کھولنا، اور ساتھ میں پڑھائی کرنا۔ ہم مستی ضرور کرتے تھے، لیکن پڑھائی میں بھی پیچھے نہیں تھے، شاید اسی لیے اسکول کے سبھی ٹیچرز ہمیں بے حد پسند کرتے تھے۔
لیکن ہماری اس معصومیت کے پیچھے کچھ ایسے راز بھی تھے جو آج تک کسی کو نہیں معلوم! ٹیچرز سمجھتے تھے کہ ہم پہلی بینچ والے پڑھاکو بچے ہیں، لیکن اکثر کلاس کے بیچ میں، میں اور شاہد چپکے سے اسکول سے باہر نکل جاتے تھے... صرف اس چٹپٹی 'بھل' کو کھانے کے لیے! وہ بھل والے انکل ہمیں آج بھی یاد ہیں، اور وہ چوری چھپے بھل کھانے کا سواد ہی کچھ الگ تھا۔ پھر جب اسکول کی چھٹی ہوتی، تو میرے اور شاہد کے پاس سائیکلیں ہونے کے باوجود ہم انہیں ہاتھ میں پکڑ کر روز پیدل گھر واپس آتے تھے، کیونکہ ہمیں راستے بھر باتیں کرنی ہوتی تھیں، ہنسنا ہوتا تھا اور اس اسکول کے وقت کو تھوڑا اور لمبا کھینچنا ہوتا تھا۔ ہماری یہ مستی صرف اسکول تک محدود نہیں تھی؛ ہفتے کے دن جیسے ہی ہاف-ڈے کی چھٹی ہوتی، ہم چاروں—میں، شاہد، علی اور فیاض—گھومنے نکل جاتے۔ ہمارا سب سے پسندیدہ ٹھکانہ تھا 'سائنس سینٹر'، جہاں جا کر ہم بڑی دلچسپی سے دیکھتے تھے کہ جو کچھ ہم نے کتابوں میں پڑھا ہے، وہ اصل زندگی میں کیسے کام کرتا ہے۔
ہمارے اسکول میں لڑکوں اور لڑکیوں کے سیکشن بالکل الگ تھے، اس لیے ہمارے سیکشن سے صرف میں اور شاہد ہی تھے جن کی دوسرے سیکشن کے ۳ لڑکوں اور ۵ لڑکیوں سے گہری دوستی تھی۔ گرلز سیکشن الگ ہونے کے باوجود ہم سب کا یہ ۱۰ لوگوں کا گروپ اسکول میں سب سے زیادہ مخلص اور پکا گروپ مانا جاتا تھا۔ جب بھی اسکول میں کوئی فنکشن ہوتا، تو اس کے انتظام کی پوری ذمہ داری ہمارے اسی گروپ پر ہوتی تھی۔ مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے، جب ہم سب مل کر ایک فنکشن کے سلسلے میں این-پی-ایس (NPS) اسکول گئے تھے۔ وہ دن ایسی مستی اور یادوں سے بھرا تھا جسے بیان کرنا مشکل ہے۔ وہ ہنسی مذاق، وہ ساتھ چلنا... اس دن کی تصاویر آج بھی میرے پاس محفوظ ہیں، جو جب بھی دیکھوں تو دل چاہتا ہے کہ کاش وہ وقت وہیں رک جاتا۔
ہمارے ٹیچرز نے صرف پڑھایا نہیں، بلکہ زندگی کا سبق بھی دیا۔ آمین پٹیل سر جب بھی کلاس میں آتے، ان کا وہ ڈائیلاگ ہمارے کانوں میں گونج اٹھتا: "جو پڑھے گا وہ بڑھے گا، اگر نہیں پڑھے تو یاد رکھو... YOU ARE THE LOSERS!" ان کا وہ سخت لہجہ ہمیں محنت کرنے پر مجبور کر دیتا تھا۔ وہیں مسعودہ میم بڑے پیار سے سمجھاتی تھیں، "اچھے سے پڑھو، سائنس بہت ضروری ہے۔ پوائنٹس لکھو!
( آگے زندگی میں جو بھی کرنا، سوچ سمجھ کر کرنا۔")
لیکن ان سب کے بیچ، جو ٹیچر ہم سب کے دل کے سب سے قریب تھیں، وہ تھیں ہماری فیوریٹ—کوثر پروین میم۔ میم تو تب ہی ریٹائر ہو چکی تھیں جب ہم نویں کلاس میں تھے، لیکن ان کے لیے ہماری محبت کم نہیں ہوئی تھی۔ فیئر ویل (Farewell) کا وقت آیا تو میں ہر حال میں میم کو بلانا چاہتا تھا۔ میں نے دوسرے سیکشن کے بچوں سے بات کی، لیکن سب کا یہی ماننا تھا کہ میم ان دنوں بہت زیادہ مصروف ہیں، اس لیے انہیں ڈسٹرب نہ کیا جائے۔ مگر میرا دل نہیں مانا۔ میں اور شاہد سیدھے پرنسپل سر کے پاس پہنچ گئے۔ ہم نے سر کو بتایا کہ ہم کوثر میم کو دعوت دینا چاہتے ہیں۔ سر نے کہا، *"میم واقعی بہت بیزی ہیں، لیکن میں بھی کال کرتا ہوں اور تم بھی کوشش کرو۔"* ہم نے سر سے میم کا نمبر لیا۔ گھر آ کر میں نے دھڑکتے دل سے میم کو فون کیا۔ میم نے کہا، *"فیضان، میں بہت مصروف ہوں، لیکن میں آنے کی پوری کوشش کروں گی۔"*
فیئر ویل والے دن جب فنکشن شروع ہوا، تو میری نظریں بار بار دروازے پر جا رہی تھیں۔ آدھا فنکشن ختم ہو گیا پر میم نہیں آئیں۔ میرا دل اداسی سے بھر گیا کہ شاید میم نہیں آپائیں گی۔ پھر وہ وقت آیا جب میں اسٹیج پر کھڑا ہو کر اپنی الوداعی تقریر (Speech) دے رہا تھا... اور اچانک ہال کے دروازے سے کوثر میم نے انٹری لی! میں اسٹیج پر کھڑا ہکا بکا رہ گیا۔ میری خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی! میں نے فوراً اپنی اسپیچ روک کر مائیک پر میم کا شاندار استقبال کیا اور پھر جذباتی انداز میں اپنی تقریر مکمل کی۔ وہ میری زندگی کا سب سے بڑا اور یادگار لمحہ تھا جب اسٹیج پر مائیک سنبھال کر کوثر میم نے سب کے سامنے کہا: *"مجھے پرنسپل سر نے بھی کال کیا تھا، لیکن جب فیضان نے مجھے اتنی محبت سے دعوت دی، تو میں اپنی تمام تر مصروفیت اور تھکاوٹ کے باوجود خود کو روک نہیں پائی اور یہاں چلی آئی۔"* میم کے وہ الفاظ میرے لیے کسی ایوارڈ سے کم نہیں تھے۔
فنکشن ختم ہوا تو ہال کا ماحول بالکل بدل گیا۔ سب ایک دوسرے سے گلے مل رہے تھے، لڑکے اور لڑکیاں سبھی کی آنکھوں میں آنسو تھے، بچپن کے وہ دن چھوٹ رہے تھے۔ ہم خوب روئے، پرانی مستیوں پر ہنسے اور تمام اساتذہ کی دعاؤں اور برکتوں کے ساتھ ہم نے اسکول کی اس خوبصورت چوکھٹ کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہہ دیا۔
وقت گزرتا گیا اور اسکول کی وہ رنگین دنیا آہستہ آہستہ پیچھے چھوٹ گئی۔ ہم سب جو کبھی ایک دوسرے کے بغیر ایک دن بھی نہیں گزارتے تھے، زندگی کی دوڑ میں الگ الگ راستوں پر چل پڑے۔ آج میں بنگلور کے ایک میڈیکل کالج میں فزیوتھراپی (Physiotherapy) کا اسٹوڈنٹ ہوں اور اپنے خوابوں کو پورا کر رہا ہوں۔ میرا وہ پکا یار شاہد اب انجنیئرنگ کی پڑھائی کر رہا ہے۔ علی اور فیاض، جو کبھی ہمارے پیچھے بیٹھ کر مستیاں کرتے تھے، اب اپنے ابو کا بزنس سنبھال رہے ہیں۔ دوسرے سیکشن کے وہ تین دوست بھی اب بنگلور کی ہی کسی کمپنی میں ایمپلائی (Employee) بن کر اپنی عملی زندگی شروع کر چکے ہیں۔ اور وہ ۵ لڑکیاں... اب وہ کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں، کچھ پتا نہیں۔ سچ کہوں تو اب کوئی نہیں جانتا کہ کون کہاں ہے، سب اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف ہو چکے ہیں۔ اب نہ وہ پہلی بینچ ہے، نہ وہ بھل والے انکل، اور نہ ہی روز پیدل باتیں کرتے ہوئے گھر لوٹنا۔ لیکن جب بھی میں بنگلور کی اس بھاگ دوڑ والی زندگی میں اکیلا بیٹھتا ہوں، تو دسویں کلاس کے وہ دن، این-پی-ایس اسکول کا وہ فنکشن، اور کوثر میم کا وہ سرپرائز میرے دل کو ایک عجب سا سکون دے جاتا ہے۔
اب بس دل سے یہی دعا نکلتی ہے: "یا اللہ! میرے وہ سبھی دوست، وہ پورا ۱۰ لوگوں کا گروپ، چاہے دنیا کے کسی بھی کونے میں ہو... ہمیشہ خوش رہے، سلامت رہے اور اپنی زندگی میں کامیاب رہے۔"
.......................................
افسانہ۔
گونجتے ہوئے سائے اور بولتی دیواریں
کلاس روم اب بالکل ویران تھی۔ شام کے سائے کھڑکیوں سے رینگتے ہوئے اندر آ رہے تھے، جہاں کبھی قہقہوں کا طوفان برپا ہوتا تھا، وہاں اب صرف ایک گہری خاموشی کا راج تھا۔ لیکن یہ خاموشی عام نہیں تھی۔ جیسے ہی اسکول کا آخری گھنٹا بج کر خاموش ہوا، کمرے کی بے جان چیزوں میں ایک عجیب سی سنسناہٹ دوڑ گئی۔
بلیک بورڈ
> "آہ! دیکھو میری ہستی کو۔ اب مجھ پر کوئی ریاضی کے فارمولے یا سائنس کے اصول نہیں لکھتا۔ لیکن میری سفید چاک کی لکیروں کے پیچھے، مجھے ان بچوں کے وہ چہرے آج بھی یاد ہیں جو پہلی بینچ پر بیٹھ کر مجھے گھورتے تھے، پر ان کا دھیان کہیں اور ہوتا تھا۔ وہ چور نظریں اب کہاں گئیں؟"
کمرے کی بوڑھی دیوار
> "تم تو صرف سامنے کا منظر دیکھتے ہو، بلیک بورڈ! ذرا مجھ سے پوچھو۔ میں نے اپنے سینے پر ان بچوں کے اڑتے ہوئے خوابوں کے سائے دیکھے ہیں۔ جب استاد کلاس میں کہتے تھے کہ 'جو پڑھے گا وہی بڑھے گا، ورنہ تم لوزر بن جاؤ گے'، تو ان بچوں کے دلوں کی دھڑکنیں مجھ سے آ کر ٹکراتی تھیں۔ وہ خوف، وہ سچی معصومیت، سب کچھ میرے اندر جذب ہو چکا ہے۔"
اسی لمحے، کھڑکی سے تیز ہوا کا ایک جھونکا اندر داخل ہوا، جس نے میز پر رکھی چند پرانی نوٹ بکس کے صفحات کو تیزی سے الٹنا شروع کر دیا۔
نوٹ بکس
> "ہمارے صفحات پر صرف اسباق نہیں لکھے گئے تھے! ہمارے آخری صفحات پر تو چوری چھپے بنائے گئے خاکے، دوستوں کے دستخط اور وہ الوداعی جملے درج ہیں جو انہوں نے آخری دن ایک دوسرے کے لیے لکھے تھے۔ ہم ان کی بے نام، مخلص دوستی کے سب سے بڑے گواہ ہیں۔"
ہوا مسکرائی اور کھڑکی سے باہر نکل کر اس پرانے راستے پر چلی گئی جہاں کبھی وہ بچے اسکول کی چھٹی کے بعد پیدل گھوما کرتے تھے۔
ہوا
> "میں روز ان کے ساتھ چلتی تھی! ان کے پاس سائیکلیں ہوتی تھیں، مگر وہ انہیں ہاتھوں میں تھامے روز پیدل چلتے تھے، صرف اس لیے کہ باتیں ختم نہ ہوں۔ میں ان کے قہقہوں کو اپنے دوش پر اٹھا کر اڑتی تھی اور پورے شہر میں بکھیر دیتی تھی۔"
راستہ
> "اور میں... میں ان کے قدموں کے لمس کو ترستا ہوں۔ وہ دوست جب ایک ساتھ مجھ پر چلتے تھے، تو مجھے اپنے پتھروں میں بھی جان محسوس ہوتی تھی۔ ان کا وہ یادگار سفر، وہ ساتھ گھومنا، سب میری مٹی میں خوشبو بن کر رچ گیا ہے۔"
راستے کے کنارے کھڑے ایک پرانے درخت کی شاخ نے آہستہ سے سر ہلایا اور نیچے گرتے ہوئے پتوں کو دیکھا۔
درخت کی شاخ
> "سائنس سینٹر کے پاس جب وہ ہاف-ڈے کی چھٹی پر آتے تھے، تو میری چھاؤں میں بیٹھ کر کائنات کی باتیں کرتے تھے۔ وہ کتابوں کی دنیا کو حقیقت میں بدلتا دیکھ کر حیران ہوتے تھے۔ وہ دن کتنے جادوئی تھے!"
اسی درخت کے نیچے، ایک پرانا مٹی کا برتن اداس بیٹھا تھا۔ یہ اس چٹپٹی 'بھل' والے کا برتن تھا جہاں بچے چوری چھپے آتے تھے۔
بھل
> "میرا سواد صرف چٹپٹے مصالحوں کا نہیں تھا، اس میں اس چوری چھپے کھانے کا ایک الگ ہی نشہ تھا۔ وہ پہلی بینچ سے نظریں بچا کر نکلنا اور جلدی جلدی میرا ایک ایک نوالہ بانٹ کر کھانا... وہ محبت اب مجھے کسی بازار میں نہیں ملتی۔"
اچانک آسمان پر گہرے بادل چھا گئے اور بارش کی پہلی بوند زمین پر گری۔
بادل
> "میں نے اس دن کو دیکھا ہے جب الوداعی تقریب ہو رہی تھی۔ ایک پیاری استانی، جو سب کے دل کے قریب تھی، جب ہال کے دروازے سے داخل ہوئی تو ان بچوں کی آنکھوں میں جو خوشی کی چمک تھی، وہ میری بجلی سے بھی زیادہ روشن تھی۔ اور پھر جب وہ سب ایک دوسرے کے گلے مل کر روئے، تو میری بوندیں ان کے آنسوؤں میں شامل ہو گئیں۔"
پانی
> "ہاں! وہ آنسو مجھ میں ہی تو بہہ گئے۔ وہ الوداعی آنسو گواہ تھے کہ بچپن اب رخصت ہو رہا ہے اور عملی زندگی کے نئے، اجنبی راستے شروع ہو رہے ہیں۔"
جب یہ سب باتیں ہو رہی تھیں، تو اسکول کی چھت پر رات کے اندھیرے میں چاند کی کرنوں کے ساتھ ایک جادوئی 'پری' اتری۔ اس کے ہاتھ میں یادوں کا ایک چمکتا ہوا جادوئی چراغ تھا۔
یادوں کی پری
> "مت اداس ہو میرے دوستو! وہ بچے اب بڑے ہو چکے ہیں۔ کوئی بنگلور کی مصروف زندگی میں مریضوں کے جسم کو شفا دینے کی فزیوتھراپی پڑھ رہا ہے، کوئی انجینئر بن رہا ہے، کوئی باپ کا کاروبار سنبھال رہا ہے۔ لیکن وہ جہاں بھی ہیں، ان کے دل کا ایک حصہ آج بھی اسی کمرے میں، اسی پہلی بینچ پر دھڑکتا ہے۔ میں روز رات کو ان کے خوابوں میں جا کر اس اسکول کی دنیا کو دوبارہ زندہ کرتی ہوں، تاکہ وہ اس بھاگ دوڑ والی زندگی میں کبھی اکیلے نہ ہوں... مخلص جذبے کبھی نہیں مرتے۔"
پری نے اپنا جادوئی عصا گھمایا، اور اسکول کے اس ویران کمرے میں ان بچوں کے پرانے قہقہوں کی گونج ایک بار پھر زندہ ہو گئی۔ دیواریں مسکرائیں، بلیک بورڈ چمک اٹھا، اور ہوا نے گنگناتے ہوئے اس بے نام، لازوال دوستی کو سلام کیا۔
Comments
Post a Comment